Make your own free website on Tripod.com

افسانہ انخلائ از:۔ایم مبین

رات کا کون سا پہر تھا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ۔
فضا میں مسلسل دھماکےگونج رہےتھےاور اُن کی آوازوں سےکلیجہ پھٹا جارہا تھا ۔
گھر کےتمام افراد جاگ گئے، اُن کےچہروں پر خوف رقصاں تھا ۔ وہ اپنےاندر ہی اند رخوف سےسمٹےجارہےتھے۔
” لگتا ہےجنگ شروع ہوگئی ۔ “ بابا دھیرےسےبڑبڑائے۔
” ہےرام ‘ اِس جنگ کو بھی ابھی شروع ہونا تھا ۔ “
” سرحد تو ہمارےگاو¿ں سےکافی دُور ہے‘ لیکن یہاں تک دھماکوں کی آوازیں آرہی ہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں دُشمن ہمارےملک کی سرحد میں آگھسےہوں ۔ “ ماں نےکہا ۔
” نہیں ‘ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ۔ “ وہ جھٹ سےبولا ۔ ” سرحد پر ہماری فوجیں تعینات ہیں ۔ وہ دُشمن کےہرحملےکا منہ توڑ جواب دےگی ۔ دُشمن اگر اپنی ساری طاقت بھی لگادےتو وہ ہمارےملک کی ایک انچ زمین میں نہیں گھس سکتا ۔ “
” بھگوان کرےایسا ہی ہو ۔ جس رفتار سےگولا باری ہورہی ہےایسا لگ رہا ہےجیسےگھمسان کی جنگ جاری ہے۔ “
” دادا یہ جنگ کیا ہوتی ہے؟ “ اُس کےلڑکےنےبابا سےپوچھا ۔
” بیٹے‘ جنگ بہت بری چیز ہوتی ہے۔ یہ بوڑھی آنکھیں دو جنگ دیکھ چکی ہیں اور بھگوان سےدُعا ہےکہ تمہاری آنکھیں وہ نہ دیکھیں ۔ “
رات بھر گولہ باری اور دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں ۔ ان دھماکوں اور گولہ باری سےسارا گاو¿ں جاگ گیا تھا ۔ لیکن ہر فرد گھر میں دُبکا ہوا تھا ۔ کسی میں بھی گھر سےباہر آنےکی جرا¿ت نہیں تھی ۔
صبح ہوتےہوتےسورج کی پہلی کرن کےساتھ گولہ باری اور دھماکوں کی آوازیں بند ہوگئیں ۔
لوگ اپنےاپنےگھروں سےباہر نکلےاور رات کےواقعات پر ایک دوسرےسےتبادلہ خیال کرنےلگے۔
” خاموشی کا مطلب ہےجنگ نہیں چھڑی ‘ صرف دُشمنوں نےگولہ باری کی تھی اور ہماری فوجوں نےاُس کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ “
” اُف !لیکن کس قدر خوفناک گولہ باری ! ایسی تو جنگ کےزمانےمیں بھی نہیں ہوتی تھی ۔ “
” جنگ ہوئےعرصہ بیت گیا ہےاس درمیان بےشمار مہلک ہتھیار اور گولہ بارُود ایجاد ہوچکےہیں ۔ پہلےجنگ میں ان معمولی چیزوں کا استعمال ہوتا تھا ‘ اب ان مہلک ہتھیاروں کا استعمال ہوتا ہے۔ “
” بھگوان کی کرپا ہے‘ ہمارا گاو¿ں محفوظ ہے، گاو¿ں تک گولہ نہیں آیا ۔ “ رات کی گولہ باری کا کیا اثر ہوا ابھی وہ اِس بارےمیں پتہ لگانےکی کوشش کر رہےتھےکہ کیا کیا نقصانات ہوئےہیں ؟
اُنھیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا ۔
تھوڑی دیر بعد خبریں آنی شروع ہوگئیں ۔
ایک گولہ بھیکو کےکھیت میں آکر پھٹا جس سےساری فصل جل گئی ۔ ایک گولہ چھندو کےکھیت والی دیوار سےٹکرایا ‘ دیوار ڈھہ گئی اور مکان بھی گر گیا ۔
ان باتوں سےسارےگاو¿ں میں اور زیادہ سراسیمگی پھیل گئی ۔
ان لوگوں کےکھیت گاو¿ں سےزیادہ دُور نہیں تھے۔
” اگر گولےوہاں تک آسکتےہیں تو گاو¿ں تک بھی پہنچ سکتےہیں اور ان گولوں کا گاو¿ں میں گرنےکا انجام ؟ “
اس کےتصور سےہر کوئی کانپ اُٹھتا تھا ۔
” حالات بہت خراب ہوگئےہیں ‘ لگتا ہےاِس بار جنگ ہوکر ہی رہےگی ۔ “ ہر کوئی تشویش آمیز لہجےمیں کہہ رہا تھا ۔ وہ فکر مند تو اُسی وقت ہوگئےتھےجب اُنھوں نےسامان ، فوجیوں اور گولہ بارود سےلدےٹرکوں کو گاو¿ں سےگذر کر سرحد کی طرف جاتےدیکھا تھا ۔
یوں تو سال بھر سرحد کی طرف فوجیوں اور فوجی ساز و سامان کا آنا جانا لگا رہتا تھا ۔ سارا سامان ، فوجی اور اُن کےٹرک گاو¿ں سےہی گذر کر سرحد کی طرف جاتےتھے۔ لیکن اب مہینہ میں کبھی کبھی ہوتا تھا ۔ اِس وجہ سےوہ لوگ کبھی اِس بات کی طرف دھیان بھی نہیں دیتےتھے۔ لیکن گذشتہ چند مہینوں سےفوج اور فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی ۔ اس کی وجہ اُنھوں نےجاننےکی کوشش نہیں کی تھی ۔ ہر کوئی اس کی وجہ جانتا تھا ۔ کیونکہ گاو¿ں میں بیشتر افراد کےگھروں میں ٹی وی تھےاور کئی اخبارات گاو¿ں میں آتےتھے۔
ہر اخبار روزانہ دونوں ملکوں کےدرمیان تناو¿ کی خبریں اپنےساتھ لاتا تھا تو ہر ٹی وی چینل تناو¿ کی چھوٹی سےچھوٹی خبر کو اہم بنا کر اپنےانداز میں پیش کرتا تھا ۔
ملک کےہر فرد کےذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ سرحد پر سخت تناو¿ ہےاور اس تناو¿ کی وجہ سےکبھی بھی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
اور ان کا گاو¿ں تو ایک سرحدی گاو¿ں تھا ۔
سرحد اُن کےگاو¿ں سےکچھ کلومیٹر کےفاصلےپر تھی اور سرحد کی طرف فوجیوں اور فوجی ساز و سامان کےجانےکا مطلب بھی وہ سمجھتےتھے۔ سرحدوں پر تناو¿ ہے۔ سرحد پر کہیں بھی جنگ چھڑ سکتی ہےاور اس جنگ کےچھڑنےسےساری سرحدیں سُلگ سکتی تھیں ۔ اگر سرحدیں سُلگ اُٹھیں تو اُن کےشعلوں سےاُن کا گاو¿ں بھی محفوظ نہیں رہےگا ۔
دو تین گھنٹوں بعد ٹی وی چینلوں سےبھی خبریں آرہی تھیں ‘ جن سےگاو¿ں والےناواقف تھے
خبروں سےپتہ چلا کہ رات دشمن کےفوجیوں نےگولہ باری کی جس کا ملک کی فوجوں نےمنہ توڑ جواب دیا ۔ اِس گولہ باری میں دُشمن کے٥١ فوجی مارےگئے، ٠١ بنکر تباہ کردئےگئے، دُشمن کی گولہ باری سےگاو¿ں متاثر ہوا ، بارُودی گولےگاو¿ں کےدرمیان آکر پھٹے، جس میں چار شہری مارےگئےاور ٥١ کےقریب زخمی ہوئےاس کےعلاوہ کئی مکانوں کو نقصان پہونچا ۔دُشمن ملک کی اِس بلاوجہ اشتعال انگیز گولہ باری کےخلاف وزیر دفاع نےسخت احتجاج کرتےہوئےکہا کہ اس کا منہ توڑ جواب دیا جائےگا
ٹی وی چینلوں پر ان خبروں کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔
” ہمارےگاو¿ں میں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہےنہ کوئی گولہ پھٹا نہ کوئی زخمی ہوا نہ مرا ‘ پھر یہ خبریں؟ “
” ارےیہ ہمارےگاو¿ں کی نہیں کسی اور گاو¿ں کی خبریں ہیں ۔ “
” لیکن خبروں میں تو ہمارےگاو¿ں کا نام لیا جا رہا ہے۔ “
” اتنی بڑی سرحد ہے‘ ممکن ہےہمارےگاو¿ں کےنام والا کوئی اور گاو¿ں سرحد پر ہوگا اور وہاں یہ واقعہ ہوا ہو ۔ “
” لیکن رات میں گولہ باری تو ہمارےگاو¿ں پر ہی ہوئی تھی ؟ “
” ممکن ہےاُس گاو¿ں میں بھی ہوئی ہو ۔ “
وہ خبروں پر اِس طرح کےتبصرےکرتےرہےلیکن اُن کی تہہ تک نہیں پہونچ سکے۔
ابھی دوپہر بھی نہیں ہوئی تھی کہ پورےگاو¿ں کو آکر ملٹری نےگھیر لیا ۔
” گاو¿ں والوں کو مطلع کیا جاتا ہےکہ کل رات دُشمن نےگاو¿ں کی سرحد پر سخت گولہ باری کی تھی ‘ جس کا ہماری فوجوں نےمنہ توڑ جواب دیا ۔ لیکن دُشمن کےارادےنیک دِکھائی نہیں دیتےہیں ۔ ممکن ہےوہ آج رات یا بعد میں نہ صرف دوبارہ گولہ باری کری، بلکہ حملہ بھی کردے۔جنگ کبھی بھی چھڑ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں گاو¿ں والوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اِس لئےگاو¿ں والےفوراً ایک گھنٹےکےاندر اندر گاو¿ں خالی کردیں اور محفوظ مقامات پر چلےجائیں ۔وہ کےمحفوظ مقامات سرحد سےکم سےکم دو ڈھائی سو کلومیٹر دُور ہیں ۔ اگر اُنھوں نےگاو¿ں خالی نہیں کیا تو ملٹری زبردستی اُن سےگاو¿ں خالی کرائےگی اور حکم عدولی کرنےوالوں کےساتھ سختی سےنپٹےگی ۔ اِس لئےاِس اعلان کو سنتےہی گاو¿ں والےگاو¿ں خالی کرنےکی تیّاریوں میں لگ جائیں اورفوراً عمل در آمد کریں ۔“
” کیا ! ہم گاو¿ں خالی کردیں ‘؟گاوں خالی کر کے ہم کہاں جائیں؟ “
اعلان سُن کر ہر کوئی سکتےمیں آگیا ۔ ہر کوئی احتجاج کرنا چاہتا تھا ۔
” ہم گاو¿ں چھوڑ کر کہاں جائیں ‘ ہمارا گھر بار ، ہمارےکھیت ہیں ، کھیتوں میں فصل تیار ہے، یہ فصل ہمارا سال بھر کا سہارا ہے، اگر ہم ان تیار فصلوں کو چھوڑ کر چلےگئےتو سال بھر ہمارا گذر بسر کس طرح سےہوگا ؟ “
لیکن کوئی بھی اُن کا احتجاج سننےوالا نہیں تھا ۔
بندوق کی سنگینوں کےزور پر اُنھیں گاو¿ں چھوڑنےکےلئےمجبور کیا گیا تھا ۔
اپنےگھروں سےضروری سامان جمع کرنےاور لینےکےلئےاُنھیں دس پندرہ منٹوں کی بھی مہلت نہیں دی گئی ۔ اِن دس پندرہ منٹوں میں وہ جو کچھ جمع کرسکتےتھےاُنھوں نےجمع کیا اور گاو¿ں چھوڑ کر انجان منزل کی طرف چل پڑے۔ ایک گھنٹےکےاندر پورا گاو¿ں خالی ہوگیا تھا ۔ گاو¿ں میں ایک بھی آدمی نہیں رہا تھا ۔ صرف ملٹری کےجوان تھے‘ جنھوں نےسارےگاو¿ں کو گھیر رکھا تھا ۔
کچےراستوں سےہوکر گاو¿ں کے٠٠٥ سےزائد افراد انجان منزل کی طرف بڑھےجارہےتھی۔ ان میں زیادہ تر لوگ پیدل تھے۔ اُنھوں نےاپنا ضروری اسباب ،سامان اپنےسروں اور کاندھوں پر لاد رکھا تھا ۔ کچھ لوگوں نےاپنےجانور بھی ساتھ لئےتھے، سامان اُن جانوروں پر بھی لدا تھا ۔
جن لوگوں کےپاس بیل گاڑیاں تھیں اُن کا سامان اور گھر کےافراد اُن بیل گاڑیوں پرسوار تھے، پیدل چلنےوالےاور بیل گاڑیوں کی رفتار مساوی تھی ‘ پورا گاو¿ں ساتھ چل رہا تھا ۔ کوئی بھی ایک دوسرےسےجدا نہیں ہونا چاہتا تھا ۔
رات ہوئی تو اُنھوں نےایک جگہ ڈیرہ ڈالنےکا سوچا ۔
” نہیں ! “ جو فوجی اُن کےساتھ ساتھ گاو¿ں سےآرہےتھےوہ گرجے۔
” ابھی ہم گاو¿ں سےصرف ٠٢ کلومیٹر دُور آئےہیں ، یہ جگہ بھی محفوظ نہیں ہے، یہاں بھی خطرہ ہے، جنگ کی صورت میں دُشمن کی فوجیں یہاں تک پہونچ سکتی ہیں۔ یہ جگہ اُن کی توپوں کی مار کی زد میں ہے‘ یہاں پر بھی آپ لوگوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں ‘ یہاں نہ رُکا جائےآگےبڑھا جائے۔ “ فوجیوں کی حکم عدولی وہ بھلا کس طرح کرسکتےتھے‘ اندھیرےمیں بھوکےپیاسےچل پڑے۔ کسی نےنہ ایک دانہ کھایا تھا نہ ایک گلاس پانی پیا تھا ۔ بچےبھوک پیاس سےبلبلا رہےتھے۔ مائیں اُنھیں تھپک ، تھپک کر سُلانےکی کوشش کر رہی تھیں ۔ باپ اور دُوسرےرشتہ دار سوئےہوئےبچوں کو اپنی گود یا کاندھوں پر اُٹھائےہوئےتھے۔
چاروں طرف تاریکی اور ہُو کا عالم تھا ۔ صرف فوجی گاڑی کی سرچ لائٹ تھی جس کی تیز روشنی میں وہ راستہ تلاش کرکےآگےبڑھ رہےتھے۔
پَو پھٹنےپر وہ کوئی گاو¿ں کےقریب پہونچے۔
” آپ لوگ اب محفوظ علاقےمیں آگئےہیں ۔ آپ لوگ یہاں رُک سکتےہیں ۔ “ فوجیوں نےکہا اور وہ واپس چلےگئے۔ گاو¿ں کےقریب ایک بڑا سا میدان تھا ۔ اُس میدان میں جس کو جہاں جگہ ملی اُس نےاُس جگہ قبضہ کرکےاپنا ڈیرا جما دیا ۔ گاو¿ں والےبھی آئےاُنھوں نےاُن کو گھیر لیا اور طرح طرح کےسوالات کرنےلگے۔
” آپ لوگ کہاں سےآئے، کیا جنگ چھڑ چکی ہے، آپ کےگاو¿ں کو کتنا نقصان پہونچا ؟ “ وہ اپنےطور پر جواب دیتے۔ رات بھر سفر کرنےکی وجہ سےوہ تھکن سےچُور تھے۔ کتنےتو زمین پر گرےاور گرتےہی سو گئے۔
جن لوگوں کو بھوک پیاس ستا رہی تھی وہ گاو¿ں سےساتھ لایا ہوا کھانےپینےکےسامان میں پیٹ بھرنےکےلائق کوئی چیز تلاش کرنےلگے۔
سورج کےچڑھنےکےساتھ اُس کی تمازت بھی تیز ہونےلگی تھی ۔ اُس کی گرمی جسم میں سوئیاں چبھونےلگی تھی اور جسم سےپسینےکی نہریں اُبلنےلگی تھیں ۔
آس پاس کوئی سایہ دار پیڑ بھی نہیں تھا جس کےسائےتلےپہونچ کر سورج کی تمازت سےنجات حاصل کرسکتے۔ جو اِکّےدُکّےپیڑ تھےخار دار پیڑ ‘جن کا سایہ نہیں ہوتا ہے۔
دھوپ سےبچنےکےلئےلکڑیوں کےسہارےکپڑوں کےسائبان تیار کئےجارہےتھے۔ دِن سورج کی تمازت میں جھلستےہوئےگذرا ‘ رات آئےتو برفیلی ہوائیں چلنےلگیں ۔
بند کمروں میں سردی اور برفیلی ہواو¿ں کا احساس کم ہوتا ہوگا لیکن کھلےمیدان میں وہ سرد ہوائیں جسم میں سوئیاں چبھونےلگیں ۔ ناکافی بستر اور کپڑوں کےدرمیان دُبک کر گھر کےکچھ افراد سونےکی ناکام کوشش کرنےلگےتو کچھ لوگ جاگ کر آس پاس سےسوکھی لکڑیاں اور پتےجمع کرکےاَلاو جلا کر تاپنےاور آگ تاپ کر رات گذارنےکی کو شس لگے۔
سویرےایک نئی آفت منتظر تھی ۔
گاو¿ں والوں نےاپنےکنوو¿ں سےپانی لینےپر پابندی لگا دی تھی ۔
” ہمارےکنوو¿ں میں پانی بہت کم ہےبڑی مشکل سےاِس پانی میں سال گذرتا ہےاتنےلوگ ان کنوو¿ں سےپانی لیں گےتو سارا پانی ختم ہوجائےگا اور ہمیں پیاسا رہنا پڑےگا ۔ “
اِس بات پر تنازعہ بڑھا اور جھگڑےکی نوبت آگئی ۔
فوجی تو اُنھیں وہاں چھوڑ کر چلےگئے۔ اُس کےبعد کچھ سرکاری افسر آئےجنھوں نےاُن کی تعداد وغیرہ کےبارےمیں معلومات کی ‘ پھر کچھ ٹی وی والےبھی آئےجو اپنےطور پر اُن کی تصویریں لےکر اورکچھ سوالات پوچھ کر چلےگئے۔
اُن کےپاس نہ تو کچھ کھانےکےلئےتھا اور نہ پینےکےلئے۔
پیسےبھی نہیں تھےجس سےکھانےپینےکی اشیاءخرید سکے۔
وہ کام کرنا چاہتےتھےتاکہ جو پیسےملیں اُن سےاپنی ضروریاتِ زندگی کی چیزیں خرید سکیں ۔
لیکن اُس گاو¿ں کےلوگوں کو مشکل سےکام مل پاتا تھا تو بھلا اتنےلوگوں کو کام کس طرح مل سکتا تھا ؟
اِن مصیبتوں سےنجات حاصل کرنےکےلئےاُنھوں نےواپس جانےکی ٹھانی لیکن گاو¿ں جانےکا راستہ بند ہوچکا تھا ۔
راستےمیں ایک فوجی چوکی بن گئی تھی اُس کےآگےجانےکی کسی کو بھی اجازت نہیں تھی ۔ پتہ چلا کہ اُن کا پورا گاو¿ں ایک فوجی کیمپ بن چکا ہےاور پورےگاو¿ں میں بارُودی سُرنگیں بچھائی جارہی ہیں ‘ تاکہ اگر دُشمن اِس طرف آجائےتو اُسےسبق سکھایا جاسکے۔
سرحدوں پر بدستور تناو¿ تھا ۔
فوجوں کی نقل و حرکت اور گولہ باری بڑھتی جارہی تھی ۔ ہر لمحہ لگتا تھا جنگ شروع ہوجائےگی لیکن جنگ شروع نہیں ہورہی تھی ۔
بھوکےپیاسےمصیبتوں میں گھرےوہ میدان میں پڑےتھے۔
سرکاری آفسر آئےتو وہ سب اُس پر برس پڑے۔
” ہمیں ہمارےگاو¿ں سےنکال کر یہاں لاکر ڈال دیا گیا ہے۔ ہمارےپاس نہ کھانےکےلئےاناج ہےنہ پینےکےلئےپانی نہ پہننےکےلئےکپڑےہیں اور نہ دوائیں ‘سرکار نےگاو¿ں سےہمارا انخلاءکرایا ہےتو وہ ہماری خبر کیوں نہیں لیتی ؟۔ ہمیں بےیار و مدد گار یہاں لاکر چھوڑ دیا ہے۔ ہم پانی کی ایک ایک بوند اور اناج کےایک ایک دانےکےلئےترس رہےہیں ۔ ہمارےکھانےپینےکا انتظام کیوں نہیں کیا جاتا ؟۔ “
” صرف تم لوگ اِس عذاب میں گرفتار نہیں ہو ‘ جنگ کےخوف سےسیکڑوں گاو¿ں کا انخلاءکیا گیا ہے۔ ہم لوگ اُن سب کی رپورٹ تیار کر رہےہیں ایک مہینےکےاندر سرکار کو رپورٹ پیش کر دیں گے۔ اُس کےبعد شاید سرکار آپ لوگوں کی مدد کےلئےکوئی قدم اُٹھائے۔ “
” تو گویا ایک ماہ تک ہم بھوکےپیاسےیہاں رہیں گے؟ !
ہمیں ایسی بےبسی کی موت مرنےکےلئےیہاں لاکر چھوڑا گیا ہے؟ اِس سےتو بہتر تھا کہ ہم دُشمن کی فوج کی گولہ باری کا شکار ہوکر مر جاتے۔ “
ll


پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)















افسانہ وراثت از:۔ایم مبین


ردّی والا اُن ساری کتابوں کو تول کر تھیلےمیں بھر رہا تھا جو اُنھوںنےگذشتہ تیس چالیس سالوں میں جمع کررکھی تھیں اور وہ حسرت سےاُن کتابوں کو ردّی والےکےتھیلوں میں گم ہوتےدیکھ رہےتھے۔
ردّی والا جب بھی کوئی کتاب اپنےترازو میں رکھتا ‘اُس کتاب کےسر ورق پر نظر پڑتےہی اُس سےوابستہ ایک کہانی ذہن میں اُبھر آتی۔
یہ کتاب اُنھوں نےدہلی سےمنگوائی تھی ۔
اِس کتاب کوانھوں نے کلکتہ سےخریدا تھا ۔
یہ کتاب مصنف نےخود اُنھیں تحفہ کےطور پر دی تھی۔
یہ کتاب اُنھیں انعام میں ملی تھی ۔
یہ کتاب اُنھوںنےایک لائبریری سےچرائی تھی ۔ کیونکہ یہ نایاب تھی لیکن اِس کتاب سےاُن کےعلاوہ کوئی بھی فیض حاصل نہیں کرسکتا تھا ۔ یہ لائبریری میں پڑی دھول کھارہی تھی ۔ اُنھیں لگا وہی اِس کتاب کو اپنےپاس رکھ کر اس کا بہتر استعمال کرسکتےہیں ۔ اس لئےاِس کتاب کو چرانا بھی کوئی گناہ محسوس نہیں ہوا تھا ۔ ان کتابوں میں اُن کی اپنی لکھی ہوئی کتابیں بھی تھیں ‘کچھ اچھی حالت میں کچھ خراب حالت میں ۔ شاید وہ آخری جلدیں تھیں لیکن پھر بھی اِنہیں ردّی میں فروخت کرتےہوئےاُنھیں کوئی دُکھ محسوس نہیں ہورہا تھا ۔
اُنھوں نےاپنےدِل پہ جیسےایک پتھر رکھ دیا تھا ۔
گذشتہ تیس چالیس سالوں میں اُنھوں نےجتنا پیار ، محبت اُن کتابوں کو دیا تھا ، ایک لحظہ میں سب ختم کرلی تھیں ۔
کبھی گھر کا کوئی فرد کسی کتاب کو غلط جگہ پر رکھ دیتا تھا تو وہ بھڑک اُٹھتےتھی۔
اگر کسی سےکتاب کا کوئی ورق پھٹ جاتا تو اُس کی تو شامت ہی آجاتی تھی ۔
گھر میں اکثر اُن کی کتابوں اور کاغذات کو اِدھر اُدھر رکھنےپر تنازعہ پیدا ہوتا رہتا تھا ۔
لیکن آج اُنھیں اُن ساری کتابوں کو گھر سےوداع کرنا پڑ رہا تھا ۔
کتابوں کےساتھ کاغذات کا ایک ڈھیر بھی ردّی والےکےتھیلوں میں جارہا تھا ۔ وہ کاغذات اُن کی ادھوری کہانیاں ، نوٹس وغیرہ تھے۔ کسی کتاب کو پڑھ کر اُنھوں نےجو نوٹس لکھےتھےیا پھر کسی افسانےکو لکھنےسےپہلےجو خاکےتیّار کئےتھے۔
اس کےعلاوہ اخبارات اور رسائل کی کٹنگ کاایک ڈھیر تھا ۔
اِس ڈھیر میں اُن کےمضامین بھی تھےاور کچھ یادگار اور کارآمد مضامین بھی جن کےتراشےاُنھوں نےبرسوں سےسنبھال کر رکھےتھے۔
اُن کی نظر میں اِن تراشوںکی حیثیت بہت کارآمد تھی ۔ لیکن شاید دُنیا کی نظر میں بیکار ردّی کےٹکڑے۔
کچھ مشہور ادبی رسائل کےگذشتہ دس پندرہ سالوں کےتمام شمارےجو شاید اہلِ ذوق کےلئےقیمتی ہوں ، لیکن اب وہ ردّی کےمول بک رہےتھے۔
وہ کُرسی پر بیٹھےردّی والےکو اُن چیزوںکو تولتا دیکھ رہےتھے۔ وقفہ وقفہ سےبہو اور بیٹا آکر ایک اُچٹتی سی نظر اِس کاروائی پر ڈال جاتےتھے۔
وہ بار بار یہ دیکھنےکےلئےآتےتھےکہ کون سی چیزیں فروخت ہورہی ہیں اور کون کون سی باقی ہیں ۔
بڑی سی کتابوں کی الماری کی کتنی جگہ خالی ہورہی ہے۔
اُنھوں نےبھی دِل پر پتھر رکھ لیا تھا اور طےکرلیا تھا کہ آج وہ اپنا کاغذ کا آخری پرزہ بھی بیچ دیں گےاور روزانہ کےذہنی تناو¿ اور اُٹھ کھڑےہونےوالےتنازعات سےہمیشہ کےلئےنجات پالیں گے۔
اُنھیں پورا یقین تھا ۔
گھر کا کوئی بھی فرد آکر اُنھیں ایسا کرنےسےنہیں روکےگا ۔
” ابا ،یہ ساری چیزیں آپ نےگذشتہ تیس چالیس سالوں میں جمع کی تھیں ۔ اِتنےسالوں سےانہیں سنبھال کر رکھا ۔ اپنی جان سےزیادہ اِن کی حفاظت کی ‘ پھر آج یہ سب کیوں فروخت کررہےہیں ؟
یا پھر کسی چیز کو فروخت کرنےسےروکے۔
” آپ اِسےکیوں فروخت کررہےہیں ؟ اِسےتو آپ اپنی زندگی کا انمول سرمایہ مانتےتھے۔ “
اُنھیں یقین تھا کہ گھر کےافراد تو اِس سےخوش ہورہےہوں گے‘ گھر میں بہت بڑی جگہ خالی ہورہی ہے۔ اب اِس جگہ وہ اپنی پسند کی کوئی آرائش کی چیز رکھ سکیں گے۔
اُنھوں نےخطوط کا بڑا سا بکس بھی نکال رکھا تھا ۔ ان خطوط کےبارےمیں بھی اُنھوں نےردّی والےسےپوچھا تھا ۔
” نہیں صاحب ! یہ تو میرےکسی کام کےنہیں ہیں ۔ اِس بوجھ کو میں یہاں سےلےجاکر کیا کروں گا ؟ “
ردّی والےکا جواب سُن کر اُنھوں نےاُسےبھی ٹھکانےلگانےکا راستہ سوچ لیا تھا ۔
آج وہ اُن تمام خطوط کو جلادیں گے۔
وہ ملک کےمشہور عالم اور مشاہیر کےخطوط تھے۔ گذشتہ تیس چالیس سالوں میں اُنھوں نےملک کےجن ادیب ، دانش وروں سےخط و کتابت کی تھیں اور جو خطوط اُن کی نظر میں تاریخی اہمیت کےحامل تھے‘ اُنھوں نےاُنھیں بڑےجتن سےسنبھال کررکھا تھا ۔
لیکن جب اُن کےبعد اِن چیزوں کا کوئی قدر دان اور اُنھیں سنبھال کر رکھنےوالا ہی نہیں ہوگا تو پھر اِنہیں گھر میں رکھ کر کیا فائدہ ‘ گھر والوں کی نظر میں تو وہ کوڑا کرکٹ ہی ہے۔
اِس لئےوہ اُن تمام خطوط کو جلا کر اہلِ خانہ کو کوڑےکرکٹ سےنجات دلا دیں گے۔
اُنھوں نےیہ بھی طےکرلیا تھا کہ اب وہ اپنےپسند کا کوئی بھی اخبار ، رسالہ یا کتاب گھر نہیں لائیں گے۔
وہ جانتےتھےکہ اُن کےاِن اقدامات سےگھر والوں کو بےحد خوشی ہوگی ۔
آج جو وہ قدم اُٹھا رہےتھے‘ اُس سےوہ گھر والوں کےچہروں پر خوشی کےتاثرات بھی دیکھ رہےتھے۔
گھر والوں کی خوشی میں ہی اُن کی خوشی تھی ۔
آخر وہ زندگی بھر گھر والوں کی خوشیوں کےلئےہی تو سب کچھ کرتےرہےتھے۔
زندگی بھر اُنھوں نےاِن سب کا خیال رکھا تھا۔
ہمیشہ یہ کوشش کی کہ انہیں کسی بات کی کمی نہ ہو ۔ اِس کمی کو پورا کرنےکےلئےوہ بارش، دھوپ ، سردی ، گرمی میں جدوجہد کرتےرہے۔
اب جب آخری عمر میں اُنھوں نےساری خوشیاں اپنےگھر والوں کےدامن میں ڈال دی ہیں تو اِن کی آخری چھوٹی سی خوشی کیوں نہ پوری کریں ؟
ڈرائنگ روم میں رکھی ان کی بڑی سی کتابوں کی الماری اور اُس الماری میں آویزاں پرانی بوسیدہ کتابوں سےاتنےاچھےسجےسجائےڈرائنگ روم کا شو خراب ہوتا ہے۔
گھر والوںکےجو بھی ملنےوالےگھر آتےہیں ‘ ناگواری سےاُس الماری کی طرف دیکھتےہیں ‘ اُس الماری کا مذاق اُڑاتےہیں اور اُنھیں اُن کی وجہ سےخفّت اُٹھانی پڑتی ہے۔
مجبوری یہ ہےکہ اتنےبڑےگھر میں ان کتابوں کو رکھنےکےلئےکوئی اور جگہ نہیں ہےاور ان کا خیال ہےکہ کتابیں ڈرائنگ روم کی زینت ہوتی ہیں ۔ اُنھیں دیکھ کر ہی آنےوالا صاحبِ خانہ کی علم دانی ، اُس کےرُتبےکا اندازہ لگا لیتا ہے۔ اِس لئےکتابیں ڈرائنگ روم میں ہی رکھی ہونی چاہیئے۔
انہی سوچوں کا ٹکراو¿ آئےدِن گھر کا سکون غارت کئےرہتا تھا ۔
اپنی کوئی کتاب یا رسالہ نہ ملنےپر وہ چراغ پا ہوتےتھے۔ پہلےاُن کےغصےسےہر کوئی ڈر جاتا تھا ۔
لیکن اب اُن کےغصےسےکوئی بھی نہیں ڈرتا ، اُن سےاُلجھ جاتا ہےاور اُنھیں باتیں سنانےلگتا ہے۔
” اپنےکوڑےکرکٹ کی خود ہی حفاظت کیا کریں ۔ ہمیں اِن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ سارا کوڑا کرکٹ جمع کرکےاِتنےاچھےڈرائنگ روم کےشو کو خراب کررکھا ہے۔ “
یہ سُن کر اُن کےدِل کو ایک ٹھیس لگتی تھی ۔
گویا اُن کا خواب اب گھر والوں کی نظر میں کوڑا کرکٹ ہے۔
برسوں تک اُنھوں نےایک خواب دیکھا تھا ۔
اُن کا ایک بڑا اچھا سا گھر ہو ۔ جس میں ایک بڑا سا سجاسجایا ڈرائنگ روم ہو ۔ اُس ڈرائنگ روم میں اُن کی ایک بڑی سی الماری ہو ۔ جس میں اُن کی ساری کتابیں اور سارا علمی سرمایہ سجا ہو ۔
تاکہ ہر آنےوالےپر آشکار ہو ‘ اُنھوں نےکیا کیا سرمایہ اور خزینہ جمع کررکھا ہےاور اسےاُن کےخزینےپر رشک ہو ۔
ساری زندگی ایک چال کےایک چھوٹےسےکمرےمیں کٹی تھی جس کےایک کونےمیں اُن کی کتابوں کا ڈھیر بےترتیبی سےپڑا رہتا تھا ۔ وہ ڈھیر بڑھتا بھی تو کسی کو محسوس نہیں ہوتا تھا ۔ وہ اپنی ضرورت کی چیز اِس ڈھیر سےبخوبی ڈھونڈ کر نکال لیتےتھے۔ اور غیر ضروری چیز کو اُس ڈھیر میں شامل کردیتےتھے۔
اُن کےچھوٹےسےٹیبل پر صرف تازہ کتابیں ، رسائل اور لکھنےکا سامان ہوا کرتا تھا ، تب وہ خواب دیکھا کرتےتھے۔
کبھی نہ کبھی تو اُن کی زندگی میں ایسا وقت آئےگا جب اِن کتابوں کا یہ ڈھیر اُن کےڈرائنگ روم میں سلیقےاور قرینےسےسجا ہوگا ۔
وہ وقت بھی آیا تو ریٹائرمنٹ کےبعد ۔
مضافات میں ایک اچھےفلیٹ کا سودا ہوگیا۔ ریٹائرمنٹ کےبعد جو گریجویٹی ، پی ایف ملنےوالا تھا اور پرانےکمرےکی جو قیمت آرہی تھی ‘ اُن روپیوں سےایک اچھا فلیٹ مل گیا ۔
تب اُنھیں لگا ‘ اُن کےبرسوں کےخواب کی تعبیر کا وقت آگیا ۔
اُس گھر کو ہر کسی نےاپنی پسند کےمطابق سنوارا تھا ۔
بیٹےبہو نےاپنےانداز میں اپنا کمرہ سجایا تھا ۔ بیٹی اور چھوٹےبیٹےنےبھی اس گھر میں خوب صورت رنگ بھرےتھے۔
اُنھوں نےڈرائنگ روم میں اپنےاوراپنی کتابوں کےلئےایک بڑی سی الماری بنائی تھی ۔
اُن کا تو اور بھی ایک خواب تھا ، اُن کا اپنا ایک کمرہ ہو ‘ جہاں بیٹھ کر وہ لکھنےپڑھنےکا کام کرسکیں ۔ لیکن جتنا پیسہ اُن کےپاس تھا ، اُس میں یہ ممکن نہیں تھا ۔ اِس لئےاُنھوں نےاپنےلئےڈرائنگ روم کو ہی پسند کیا ۔
جب اس فلیٹ کا کام چل رہا تھا تو انھیں فاطمہ کی بہت یاد آتی تھی ۔اس طرح کےخوب صورت گھر کا خواب اُن کےساتھ فاطمہ نےبھی دیکھا تھا اور پھر زندگی بھر اُس نےاس خواب کی تعبیر کی جدوجہد میں ہاتھ بٹایا تھا ۔
لیکن اُن کا یہ خواب پورا نہیں ہوسکا ۔
آخر اُن کےریٹائرمنٹ سےایک سال قبل اُس نےاُن کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ وہ بیماری اُس کےلئےجان لیوا ثابت ہوئی تھی جو اُس نےاُن سےزندگی بھر چھپائےرکھی تھی ۔
فاطمہ کی موت کےبعد وہ بہت اکیلےہوگئےتھے۔
اِس اکیلےپن کو اُنھوں نےادب کےذریعہ دُور کرنےکی کوشش کی تھی ۔ اِس دوران اُنھوں نےاِتنا لکھا اور اِتنا اچھا لکھا جووہ برسوں میں نہیں لکھ پائےتھے۔
ویسےبھی ادب اُن کےلئےاُن کی زندگی اور رُوح تھی ۔
اُنھوں نےزندگی میں صرف تین باتوں پر توجہ دی تھی ۔ اپنی نوکری ، گھر اور ادب ۔ اُن کی زندگی اُنہی کےگرد گردش کرتی تھی ۔ ڈیوٹی پر جاتے، ڈیوٹی سےآکر گھر ، بیوی بچوں پر توجہ دیتے، پھر مطالعہ یا لکھنےمیں غرق ہوجاتے۔
وہ آخری عمر تک اپنےبیوی بچوں کو ایک اچھا گھر تو نہیں دےسکےلیکن اُنھوں نےاپنےبچوں کو اچھی تعلیم دی تھی اور اُنھیں کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونےدی تھی ۔
دونوں لڑکےبرسرِ روزگار ہوگئےتھے۔ بڑےکی شادی بھی ہوگئی تھی ، بہو بھی گھر آگئی تھی ، چھوٹےکی ایک اچھےخاندان میں بات پکی ہوئی تھی ۔ لڑکی کالج کےآخری سال میں تھی ، بس ایک ہی فکر باقی تھی ، اُس کےرشتےکی ۔
اُس گھر کو لینےمیں اُنھوں نےاپنی زندگی کی ساری کمائی صرف کردی تھی ‘ لیکن پھر بھی اُنھیں اعتماد تھا ۔ اگر لڑکی کےلئےکوئی اچھا سا رشتہ آجائےتو وہ اُس کی شادی فوراً کرسکتےہیں ۔ فاطمہ نےبچپن سےلڑکی کےلئےجہیز جمع کر رکھا تھا ۔
لیکن نیا گھر جیسےاُن کو راس نہیں آسکا ۔
وہاں آنےکےبعد وہ اپنےتمام ادبی غیر ادبی دوستوں سےٹوٹ گئےتھے۔ شاید ہی کوئی دوست اُن سےملنےکےلئےاُن کےگھر آپاتا تھا ۔ بھلا اُن سےملنےکےلئےاِتنی دُور مضافات کےاِس علاقےمیں کون جاتا ؟
اُنھیں ہی اپنےدوستوں سےملنےاور اپنےذوق کی آبیاری کرنےکےلئےپرانی جگہ جانا پڑتا تھا ۔
ورنہ اکیلےہی گھر میں رہنا پڑتا تھا ۔
دونوں لڑکےتو سویرےہی اپنےآفس چلےجاتےتھے۔ لڑکی کالج چلی جاتی تھی ۔ گھر میں اکیلی بہو اور وہ رہتےتھے۔ بہو بھی کبھی سامان لینےجب بازارجاتی تھی تو دو دو ‘ تین تین گھنٹہ واپس نہیں آتی تھی۔
ایسےمیں اُنھیں اکیلےگھر میں کوفت ہوتی تھی ۔ اُن کی دیرینہ رفیق کتابیں بھی اُن کا دِل نہیں بہلا پاتی تھیں اور کوشش کرنےکےباجود وہ ایک لفظ بھی نہیں لکھ پاتےتھے۔ اپنی حالت کو دیکھ کر اُنھیں محسوس ہونےلگا کہ جیسےاُنھوں نےجو کچھ سوچ رکھا تھا یا جو خواب دیکھےتھےوہ خواب ہی تھے۔
ابھی وہ اِس سےاُبھر بھی نہیں پائےتھےکہ نئےتنازعات اُٹھ کھڑےہوئے،
گھر کےہر فرد کو ڈرائنگ روم میں رکھی اُن کی کتابوں کی الماری پر اعتراض تھا ۔ اُن کا کہنا تھا یہ ڈرائنگ روم کا شو خراب کررہی ہیں ۔ پہلےاگر وہ بیٹوں سےتھوڑی اونچی آواز میں بات کرتےتھےتو ڈر سےبچےکانپنےلگتےتھےاور اُن کی ہر بات پر سر تسلیم خم کردیتےتھے۔
لیکن جب سےوہ کمانےلگےتھے‘ اُنھیں یہ محسوس ہوا بچےبھی نہ صرف اونچی آواز میں بولنےلگےہیں بلکہ اُن کی آواز کو دبانےکی کوشش کرکےاُن پر اپنی مرضی لادنےلگےہیں ۔
سب کا یہی کہنا تھا یہ کتابیں وغیرہ بےکار ہیں ۔ اِنھیں ڈرائنگ روم سےہٹا دیا جائے۔ پرانےگھر میں ایک کونےمیں پڑی رہتی تھیں تو کسی کا اُس پر دھیان نہیں جاتا تھا لیکن اب یہ آنکھوں میں جیسےچبھنےلگی ہیں ۔ روز روز کےتنازعات اور جھگڑوں سےتنگ آکر ایک دِن اُنھوں نےسنجیدگی سےسوچا ۔
زندگی بھر اُنھوں نےبچوں کو خوشیاں دیں اور اِس کےلئےبرسرِ پیکار رہے۔ اب زندگی کےآخری پڑاو¿ پر اُنھیں دُکھ کیوں دیا جائے؟ اُن پر اپنی مرضی لادنےکےبجائےاُن کی مرضی مان لینا چاہیئی۔ اگر اُنھیں ان کی کتابوں پر اعتراض ہےتو گھر سےساری کتابیں ہٹا لینی چاہیئے۔
اِس فیصلےپر پہنچنےکےبعد اُنھوں نےسوچا ساری کتابیں کسی لائبریری کو دےدی جائیں تاکہ لوگ اُن کےخزانےسےفیض یاب ہوں ۔
لیکن سارا شہر ڈھونڈنےکےبعد بھی اُنھیں کوئی ایسی لائبریری نظر نہیں آئی جسےوہ اپنی ساری کتابیں دےسکیں ۔
ایک دو لائبریری والوں سےجب اُنھوں نےاِس سلسلےمیں بات کی تو اُنھیں جواب ملا ۔
” ہمارےپاس جگہ کی بہت تنگی ہے، پھر آپ جس طرح کی کتابیں دینا چاہ رہےہیں اُس طرح کی کتابیں پڑھنےوالےلوگ تو ہمارےیہاں ہیں ہی نہیں ‘ اِس لئےہم آپ کی وہ بےکار سی کتابیں لےکر اپنی جگہ کیوں پھنسائیں ؟ “
اِس کےبعد ہی اُنھوں نےاپنی ساری کتابیں ردّی میں فروخت کردینےکا فیصلہ کردیا ۔
اور اس وقت جب اُن کی کتابیں بک رہی تھیں تو بھی اُنھیں کوئی افسوس یا ملال نہیں ہورہا تھا ۔ کیونکہ اُنھوں نےاپنےدِل پر پتھر جو رکھ لیا تھا ۔
ڈرائنگ روم کاوہ حصہ خالی ہوگیا تھا تو بہو بیٹوں اور بیٹیوں نےاسےاپنےڈھنگ سےسجالیا ۔ اور جب وہ اپنی سجاوٹ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہورہےتھےتو اُنھیں اطمینان محسوس ہورہا تھا کہ چلو شکر ہے۔ اُنھوں نےبچوں کی ایک بات مان کر اُنھیں ایک خوشی تو دی ۔
ایک ہفتےکےبعد اُنھیں ایک دوست کا فون آیا ۔
” کیا بات ہےیار ! میں نےسنا تم نےاپنی ساری کتابیں ردّی میں دےڈالیں ؟ “
” ہاں ! “
” مگر کیوں ؟ “
” اِس لئےکہ ہماری اولاد اور نئی نسلوں کےدِل میں ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ ان کےلئےوہ بیکار سی چیز ہی۔ ہم نےاپنی وراثت میں اپنی آنےوالی نسلوں کو ہر طرح کی خوشیاں ، آسودگی ، تعلیم تو دی لیکن نہ تو اُنھیں کتاب آشنا بنایا نہ اُنھیں کتابوں کی عظمت ، اہمیت ، افادیت اور ضرورت کےبارےمیں بتاکر اُنھیں کتابوں کی قدر کرنا سکھایا ۔ جب ہم نےاُنھیں اپنی یہ عظیم وراثت دی ہی نہیں تو وہ کتابوں کی اہمیت کس طرح سمجھیں گے۔ اُن کےلئےتو وہ بےکار کاغذ کےبوسیدہ پُرزےہیں ۔ ان کا گھر میں رکھنا ، گھر میں کوڑا کرکٹ رکھنےجیسا ہے۔
اِس لئےاُن کتابوں کو ردّی میں فروخت کرنےکےعلاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا ۔ “



٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)





افسانہ مسیحائی از:۔ایم مبین

” شاید آپ لوگوں کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ “
ڈاکٹر بابوجی کوچیک کرکےاُن پربھڑک اُٹھا ۔
” اِن کو ایڈمٹ کرنا بےحد ضروری ہے۔ اِن کا فوراً خون ، شُوگر ، یورین ٹیسٹ کیجئے، سٹی اسکین کرنےکی ضرورت ہے۔ بدن کی سونو گرافی اور چھاتی کےایکسرےکی رپورٹ آنےکےبعد صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہوگا ۔ میں ابتدائی علاج شروع کروادیتا ہوں ۔ “
ڈاکٹر نےکہتےہوئےدو تین پُرزےاُن کی طرف بڑھا دئے۔
اور مڑ کر اپنےپاس کھڑی نرسوں کو ہدایتیں دینےلگا ۔ نرسوں نےوارڈ بوائز کو آواز دی اور اِس کےبعد وارڈ بوائز کی ہلچل شروع ہوگئی ۔
وہ ایک اسٹریچر لےآئےاور پیروں پر چل کر اسپتال آنےوالےبابوجی کو اسٹریچر پر ڈال کر لےجایا جانےلگا ۔
” ڈاکٹر جنرل وارڈ میں جگہ نہیں ہے۔ “ ایک نرس نےآکر اطلاع دی ۔
” ٹھیک ہےمریض کو کسی پرائیویٹ روم میں شفٹ کردو ۔ “ ڈاکٹر نےحکم دیا ۔
” افسوس ڈاکٹر کوئی پرائیویٹ روم بھی خالی نہیں ہے۔ “ نرس بولی ۔
” اوہو ! مریض کو ایڈمٹ کرکےاس کا علاج کرنا بہت ضروری ہے‘ ٹھیک ہے! کسی اے۔ سی روم میں ہی شفٹ کرد و ۔ “ ڈاکٹر بولا
ڈاکٹر کی بات سن کر نرس اُس کا منہ دیکھنےلگی ۔
” اِس طرح میرا منہ کیوں دیکھ رہی ہو ؟ “ ڈاکٹر چِڑ کر بولا ۔
” اے۔ سی روم کےچارجز ! آپ مریض کےرشتہ داروں سےبھی تو پوچھ لیجئے ! “نرس رُک رُک کر بولی
” اب پوچھنےکی کیا ضرورت ہے؟ “ ڈاکٹر غصہ سےبولا ۔ ” مریض میرا ہے‘ میں مریض کی پوزیشن اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ یہ لوگ مریض کا علاج کرنےکےلئےیہاں آئےہیں ۔ اگر وہ فوراً اِس سلسلےمیں کوئی فیصلہ نہیں کرتےہیں تو مریض کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ “
کہتا وہ تیز تیز قدموں سےایک طرف چل دیا ۔
وہ سب ایک دُوسرےکا منہ دیکھنےلگے۔
اِس درمیان وارڈ بوائز بابوجی کو لےکر پتہ نہیں کہاں چلےگئےتھے۔ ڈاکٹر کےچلےجانےکےبعد اُنھیں ہوش آیا کہ ابھی تک اُنھیں اِس بات کا بھی علم نہیں ہےکہ بابوجی کو کہاں ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ تو وہ گھبرا کر ایک طرف دوڑ پڑے۔ اور اُنھوں نےایک نرس کو روک کر پوچھا ۔
” سسٹر ! ہمارےبابوجی کو کہاں ایڈمٹ کیا گیا ہے؟ “
” بابوجی کو اوپر والےفلور پر اے۔ سی روم نمبر ٠١ میں ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ دو اسپشلسٹ ڈاکٹر آئےہیں اور وہ آپ کےبابوجی کی جانچ کررہےہیں ۔ ابھی آپ اُن سےنہیں مل سکتے، اُن کا علاج شروع ہوچکا ہے۔ “ نرس بولی۔ نرس کی بات سن کر وہ سب ہکّا بکّا رہ گئے۔
” ہےبھگوان ! اُنھیں کیا ہوگیا ہے؟ ابھی تک تو اچھےبھلےتھے۔“ ماں نےاپنا دِل تھام لیا ۔
اور وہ یہ طےنہیں کرپارہا تھا کہ بابوجی سچ مچ اچھےتھےیا اُن کی حالت اِتنی غیر ہوگئی تھی کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور اُنھیں یہاں نہیں لاتےتو اُن کی جان کو خطرہ پیدا ہوجاتا ؟
دو دِن سےبابوجی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔
ویسےوہ جب سےریٹائر ہوئےتھے، تب سےہی اُن کی طبیعت نرم گرم رہتی تھی ۔ اِس بار بھی طبیعت خراب ہوئی تو اِسی ڈاکٹر کی دوائی شروع کی تھی جس کا وہ علاج کرنےآئےتھے۔
سویرےبابوجی نےبتایا ۔
” اِس بار مجھےکوئی فرق محسوس نہیں ہورہا ہے۔ تکلیف بڑھتی جارہی ہے، سانس لینےمیں دُشواری ہورہی ہے، سر درد سےپھٹا جارہا ہے، بار بار آنکھوں کےسامنےاندھیرا سا چھا جاتا ہےاور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ “ بابوجی کی بات سُن کر اُس نےاُن کا علاج کرنےوالےڈاکٹر سےبات کی ۔
” دیکھئےعمر کا تقاضہ ہے۔ اِس طرح کی بیماریاں اور شکایتیں تو ہوں گی ، اِس کی وجہ کوئی بڑی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ اچھا ہےآپ کسی بڑےاسپشلسٹ کو دِکھا دیں ۔ میں ایک ڈاکٹر کےنام چٹ لکھ دیتا ہوں ‘ وہ مرض کو بہت جلدی پرکھ لیتاہے۔ “
اور وہ بابوجی کو اُس ڈاکٹر کےپاس لےکر آئےتھے۔
پورےتین گھنٹےتک لائن میں بیٹھ کر اُنھوں نےاپنی باری کا انتظار کیا تھا ۔
جب اُن کا نمبر آیا تو آدھےگھنٹےتک ڈاکٹر نےطرح طرح کےآلات سےبابوجی کو اچھی طرح سےچیک کیا تھا اور اُن سےاور بابوجی سےسیکڑوں سوالات کئےتھے۔
اور اِس کےبعد فیصلہ صادر کردیا تھا ۔
بوجھل قدموں سےچلتےوہ اوپر کےفلور پر آئےاور روم نمبر ٠١ کےسامنےایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ ماں زار و قطار رو رہی تھی ۔ پونم اور وِدیّا اُسےتسلّی دےرہی تھیں ۔
” ماںجی ! آپ اپنےآپ کو سنبھالئے، بابوجی کو کچھ نہیں ہوا ہے‘ وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے، اُن کی تکلیف دُور کرنےکےلئےہی تو ہم اُنھیں اسپتال میں لائےہیں ۔ ایک دو دِن میں وہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔ “
وہ اور اشوک ایک دُوسرےکا منہ تک رہےتھے۔ چاہ کر بھی ایک دُوسرےسےکچھ کہہ نہیں پارہےتھے۔
سوچا کہ رینوکا اور وِشاکھا کو بھی بابوجی کی حالت سےمطلع کیا جائے۔
لیکن ماں نےاُنھیں منع کردیا ۔
” بابوجی کی بیماری کی خبر سُن کر دونوں پریشان ہوجائیں گی ۔ اور بال بچوں کو چھوڑ کر دوڑی آئیں گی ۔ وِشاکھا تو خیر ٠١ کلومیٹر دُور رہتی ہے‘ لیکن رینوکا ٠٠١ کلومیٹر دُور رہتی ہے۔ ۔ اُنھیں پریشان نہ کیا جائے۔ “
” ماں تمہارا کہنا دُرست ہے‘ لیکن بعد میں وہ ہم پر الزام لگائیں گی کہ بابوجی کی طبیعت اِتنی خراب ہوگئی اور ہم نےاُنھیں مطلع بھی نہیں کیا ۔ “ پونم اور وِدیّا بولیں
اور اُن کےچہروں کو کچھ اِس طرح تاکنےلگیں ، جیسےاُن سےسوال کرر ہی ہو کہ اِس بات کی روشنی میں وہ دونوں فوراً کوئی فیصلہ لیں ۔
اندر ایک گھنٹےتک پتہ نہیں کیا کیا چلتا رہا ۔ کبھی کوئی نرس باہر آتی تو کوئی اندر جاتی،کبھی کوئی ڈاکٹر کسی نرس کو ہدایتیں دیتا باہر آتا تو کبھی دُوسراکوئی ڈاکٹر نرس سےباتیں کرتا کمرےمیں جاتا ۔
ڈیڑھ گھنٹےکےبعد جب اُنھیں بابوجی کو دیکھنےکی اجازت ملی تو بابوجی کو دیکھ کر اُن کا کلیجہ دھک سےرہ گیا اور ماں تو دہاڑیں مار مار کر رونےلگیں ۔
بابوجی بےہوش پلنگ پر لیٹےتھے۔ اُن کی ناک پر ماسک لگا ہوا تھا ۔ آس پاس ایک دو مشینیں لگی تھیں ‘ جن کےوائر اُن کےدماغ اور دِل کےقریب کےمقامات سےجڑےتھے۔مشینوں پر ایک برقی رو بجلی سی لہرا رہی تھی ۔ دونوں ہاتھوں میں سرنج لگی تھی ۔
” شش! ماں جی آپ شور مت کیجئے، مریض کو تکلیف ہوگی ، آپ انھیں دیکھ کر چلےجائیے۔ اُن کی دیکھ بھال کرنےکےلئےہم موجود ہیں ۔ “نرس نےماں کو پیار سےڈانٹا ۔ اُنھیں زیادہ دیر بابوجی کےپاس رُکنےنہیں دیا گیا ۔
ایک نرس دواو¿ں کی ایک لمبی لسٹ اُسےتھما گئی ۔
” یہ دوائیں فوراً لےآئیے۔ نیچےمیڈیکل میں مل جائیں گی ۔ “
اُس نےوہ لسٹ اشوک کی طرف بڑھادی ۔ اشوک دوائیں لانےکےلئےنیچےچلا گیا ۔
آدھےگھنٹےبعد وہ واپس آیا ۔
” کیا بات ہے؟ “ اُس نےاشوک سےپوچھا
” دوائیوں کا بل ساڑےچار ہزار روپیہ ہوا ہے۔“ اشوک بولا ۔ ” اور میری جیب میں اِس وقت صرف تین ہزار روپےہی ہیں ۔ “
اُس نےجیب میں ہاتھ ڈال کر پیسےنکالےاور ٥١ سوروپےگن کر اشوک کی طرف بڑھادئے
اشوک کےجانےکےبعد ایک نرس ایک چٹھی لےکر آئی ۔
” آپ مسٹر دیانند بھارگو کےبیٹےہیں ؟ “
” جی ہاں ! “
” آپ ٥١ ہزار روپےکیش کاو¿نٹر پر جمع کرادیں ۔ اِس اسپتال میں مریض کو داخل کرنےکےساتھ ٥١ ہزار روپےپیشگی جمع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ “
” لیکن میں تو اِتنےپیسےلےکر نہیں آیا ہوں ؟ “ وہ ہکلایا ۔
” تو گھر جاکر لےآئیے۔ ہمار کیش کاو¿نٹر رات میں ٢١ بجےتک کھلا رہتا ہے۔ “
” لیکن سسٹر رات کے٠١ بج رہےہیں ‘ اِتنی بڑی رقم گھر میں تو موجود نہیں ہوسکتی جو میں جاکر لےآو¿ں ؟ کل بینک کھلنےپر رقم میں لاکر جمع کرادوں گا ۔ “ وہ بولا ۔
” دیکھئے! آپ کا مریض ایڈمٹ کرلیا گیا ہے، اِس لئےاُصولوں کےمطابق پیشگی رقم جمع کرانا بہت ضروری ہے۔ آپ کسی سےاُدھار لےآئیے، سویرےاسےلوٹا دینا ۔ اگر ممکن نہیں ہےتو آپ ڈاکٹر سےبات کریں ۔ “ نرس کہہ کر چلی گئی ۔
نہ تو گھر میں اتنی بڑی رقم تھی اورنہ ہی اِتنی بڑی رقم کا انتظام ممکن تھا ۔
اس نےاِس سلسلےمیں ڈاکٹر سےبات کرنی ہی مناسب سمجھی ۔ ڈاکٹر سےاس نےجب اِس سلسلےمیں بات کی اور یقین دِلایا کہ سویرےگیارہ بجےتک وہ ٥١ ہزار روپےلاکر جمع کرادےگا تو ڈاکٹر نےاُسےرعایت دےدی ۔
ایک گھنٹےکےبعد اُنھیں گھر جانےکےلئےکہا گیا ۔ نرسوں کا کہنا تھا کہ مریض کےپاس کسی کو بھی رُکنےکی ضرورت نہیں ۔ مریض کی دیکھ بھال کےلئےوہ ہیں ۔ لیکن جب اُنھوں نےبہت زیادہ اصرار کیا تو وہ اِس بات کےلئےراضی ہوگئےکہ چاہےتو وہ یا اشوک رات کو اسپتال میں بابوجی کےپاس رُک سکتےہیں ۔
اشوک نےاُسےگھر جانےکےلئےکہا ۔ وہ بابوجی کےپاس رُک گیا ۔ وہ ، پونم ، وِدیّا اور ماں گھر واپس آگئے۔
ماں بابوجی کےپاس رُکنےکےلئےضد کررہی تھی ۔ بڑی مشکل سےاُنھوں نےاُسےسمجھایا ۔
دُوسرےدِن ٢١ بجےکےقریب وہ پیسوں کا انتظام کرکےاسپتال گیا ۔ اُ س نے٥١ ہزار روپےکیش کاو¿نٹر پر جمع کرادئےاور اشوک سےبابوجی کی طبیعت کےبارےمیں پوچھا ۔
” رات بھر تو بےہوش رہےیا سوتےرہے‘ کچھ سمجھ میں نہیں آسکا ۔ سویرےہوش آیا تو اُن کا سٹی اسکین اور سونو گرافی اور ایکسرےلیا گیا ، خون وغیرہ تو رات میں ہی ٹیسٹ کرلیا گیا تھا ۔ سب کی رپورٹ شام تک آجائےگی ۔ ڈاکٹر نےکہا ہےکہ شام کو وہ ان رپورٹوں کی بنیاد پر صحیح طور پر بتا سکےگا کہ بابوجی کو کیا بیماری ہے؟ “
”ٹھیک ہےاب تم گھر جاو¿ ‘ میں بابوجی کےپاس رہتا ہوں ۔ “ اُس نےاشوک سےکہا ۔
” گھر جاکربھی کیاکروں گا ؟ “ اشوک بولا ۔ ” آج تو آفس سےچھٹی ہی لینی پڑی ۔ دوپہر تک رُکتا ہوں ۔ “
اُسےبھی آفس سےچھٹی کرنی پڑی تھی ۔ جب تک بابوجی اسپتال میں ہیں تب تک آفس جانےکےبارےمیں وہ دونوں سوچ بھی نہیں سکتےتھے۔
سویرےوِشاکھا اور رینوکا کو بھی بابوجی کی بیماری کےبارےمیں مطلع کردیا گیا تھا ۔
شام تک دونوں بھی آگئیں ۔
رات کو ایک بار پھر پورا خاندان اسپتال میں جمع ہوگیا ۔ بابوجی اُس وقت سورہےتھے، دوپہر میں جاگےتھے۔ اُس سےایک دوباتیں بھی کی تھیں لیکن پھر شاید دواو¿ں کےغلبہ سےپھر اُنھیں نیند آگئی ۔
رات میں ڈاکٹر رپورٹ دینےوالاتھا ۔
دس بجےکےقریب ڈاکٹر اُنھیں خالی ملا تو سب نےاُسےگھیر لیا ۔
” ہاں مجھےسب رپورٹیں مل گئی ہیں ۔ دراصل آپ کےبابوجی کےدماغ میں ایک گانٹھ ہےجس سےاُن کےدماغ کو خو ن کی سپلائی رُک جاتی ہے۔ اگر اس کا وقت پر علاج نہیںکیا جاتا تو اس سےبرین ہیمریج ہونےکا بھی خطرہ تھا ۔اس کی وجہ سےآپ کےبابوجی کو یہ تکلیفیں تھیں ۔ ہم نےعلاج شروع کردیا ہے۔ بھگوان نےچاہا تو آپ کےبابوجی آٹھ دس دِن یہاں رہنےکےبعد ٹھیک ہوجائیں گے۔ “
اور دو دِن کس طرح گذرےکچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ گھر کا ہر فرد اسپتال کےچکّر لگاتا تھا ۔ بابوجی کبھی بےخبر سوئےرہتےکبھی ہوش میں آتےتو چیخنےلگتے۔
” تم لوگوں نےمجھےیہاں کیوں ایڈمٹ کر رکھا ہے؟ میں بالکل ٹھیک ہوں ، مجھےگھر لےچلو ۔ ‘
تیسرےدِن نرس نےتین دِنوں کےاخراجات کا بل اُسےتھما دیا ۔ اُس کےمطابق اس وقت تک کل ٩١ ہزار روپےبل ہوچکا تھا ۔ ابھی مریض کو اور آٹھ دس دِن اسپتال میں رہنا تھا ۔ اِس لئےوہ فوراً اور ٥١ ہزار روپےجمع کردیں ۔ اس نےحساب لگایا اس وقت تک ٤٢ ہزار سےزائد خرچ ہوچکا تھا اور آٹھ دس دِن رہنا ہی‘ اُس کےحساب سےجو حاصل جمع خرچ آیا۔ اُسےدیکھ کر اُسےچکّر سےآنےلگے۔
اِدھر بابوجی نےسارا اسپتال اپنےسر پر لےلیا تھا ۔
وہ یہی کہتےتھے۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں ، مجھےکچھ نہیں ہوا ہے۔ تم لوگ میری جان کےدُشمن بنےہوئےہو ، تم مجھےمارنےکےلئےیہاں لےآئےہو ۔ مجھےفوراً یہاں سےنکال کر گھر لےچلو ۔ “
خرچ اور بابوجی کی ضد کو دیکھتےہوئےاُنھوں نےبابوجی کو اسپتال سےگھر لےجانےکا فیصلہ کرلیا ۔
لیکن ڈاکٹر نےصاف کہہ دیا کہ وہ مریض کو ایسی حالت میں گھر لےجانےنہیں دےگا ۔ اگر مریض کو کچھ ہوگیا تو اس کا دمہ دار کون ؟
چِڑ کر اُس نےاشوک سےکہہ دیا کہ ساری ذمہ داری وہ اپنےسر لیتےہیں ۔
اس کےپاس اِتنا مہنگا علاج کرنےکےلئےاور پیسہ نہیں ہے۔ اگر ڈاکٹر نےزبردستی بابوجی کو اسپتال میں رکھا تو وہ اب ایک پیسہ بھی بل ادا نہیں کرسکتے۔
اُن کی دو ٹوک بات سن کر ڈاکٹر نےبابوجی کو اسپتال سےڈسچارج کردیا ۔
بابوجی گھر آئےتو بھلےچنگےتھے۔
وہ دونوں اِس بات کا حساب لگارہےتھےکہ بابوجی کےعلاج پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے، اُنھوں نےکتنےدِنوں میں ایک ایک پیسہ جوڑ کر جمع کیا تھا
ایک دِن پھر بابوجی کی حالت خراب ہوئی ۔
پھر بابوجی کو ایک ڈاکٹر کےپاس لےجانا پڑا ۔
” شاید آپ لوگوں کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے؟ “ ڈاکٹر بابوجی کو چیک کرکےان پر بھڑک اُٹھا ۔ ” ان کو فوراً ایڈمٹ کرنا بےحد ضروری ہے۔ ان کا فوراً خون ، شوگر ، یورین ٹیسٹ کیجئے۔ سٹی اسکین کرنےکی ضرورت ہے۔ بدن کی سونوگرافی اور چھاتی کےایکسرےکی رپورٹ آنےکےبعد ہی صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہوپائےگا ۔ میں ابتدائی علاج شروع کروادیتا ہوں ! “


٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)




















l

افسانہ اذان از:۔ایم مبین


شاید وہ رات کا آخری پہر ہوگا ۔ معمول کےمطابق آنکھ کھل گئی تھی۔ اُس نےاندازہ لگایا ‘ شاید ٤ بج رہےہوں گے۔ آج آنکھ معمول سےکچھ پہلےہی کھل گئی ہے۔
اب آنکھ بند کرکےلیٹےرہنا بھی لاحاصل تھا ۔ نیند تو آنےسےرہی ۔ صبح تک کروٹیں بدلنےسےبہتر ہےکہ باہر آنگن میں بیٹھ کر صبح کی ٹھنڈی ہواو¿ں کےجھونکوں سےلُطف اندوز ہوا جائے۔ اُس نےبستر چھوڑا اور گھر کےباہر آیا ۔
چاروں طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ گھر کےباہر بندھےجانوروں نےتاریکی میں بھی اُس کی آہٹ سُن لی یا شاید اُنھوں نےاُس کی مانوس بُو سونگھ لی ہو ۔ وہ اپنی اپنی زُبانوں میں اُسےآوازیں دےکر اپنی موجودگی کا احساس دِلانےلگے۔
” اچھا بابا ! مجھےپتہ ہےتم لوگ جاگ رہےہو ‘ آتا ہوں ۔ “ کہتا وہ مویشی خانےکےپاس آیا ۔ اُسےدیکھ کر گائےنےمنہ سےآواز نکالی ۔
” اب چپ بھی ہوجا ۔“ اُس نےگائےکی پیٹھ تھپتھپائی تو وہ زُبان نکال کر اُس کا ہاتھ چاٹنےلگی۔ اُس کےبعد بھینس ، بیل ، بکریاں اور بھیڑیں شور مچانےلگے۔
وہ اُن کو آوازیں دیتا چپ رہنےکےلئےکہنےلگا ۔
تھوڑی دیر بعد سب چپ ہوگئےتو وہ آنگن میں رکھی کھاٹ پر آکر بیٹھ گیا اور تمباکو نکال کر چلم بھرنےلگا ۔
چلم کا ایک کش لےکر اُس نےدُور گاو¿ں کی طرف ایک نظر ڈالی ۔ اندھیرےمیں ڈوبا گاو¿ں اُسےکسی آسیبی حویلی کی طرح دِکھائی دےرہا تھا ۔وقت دھیرےدھیرےسرک رہا تھا اور اُفق پر ہلکی ہلکی سُرخی نمودار ہورہی تھی ۔لیکن ماحول پر سکوت کا وہی عالم تھا ۔ اُس کےکان اُس سکوت کو توڑنےوالی ایک آواز کےمنتظر تھے۔
اُس سکوت کو سب سےپہلےتوڑنےوالی اللہ بخش کی اذان کی آواز ۔
لیکن اُفق پر پَو پھٹ گئی ۔ ہنومان ، وِشنو ، جلرام ، شنکر کےمندروں کی گھنٹیاں بجنےلگیں ۔ ساتھ بجنےوالی تمام منادر کی گھنٹیوں سےایک بےہنگم شور نےسنّاٹےکےسینےکو درہم برہم کردیا ۔
اور پھر وہ بھی خاموش ہوگئے۔
لیکن اللہ بخش کی آواز نہ تو فضا میں اُبھری اور نہ اُسےاللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی دی ۔
ایک لمبی سانس لےکر اُس نےاپنےسر کو جھٹک دیا ۔
وہ بھی کتنا بےوقوف ہے۔
وہ اچھی طرح جانتا ہےکہ اللہ بخش اپنےبچےہوئےخاندان کےساتھ اُس گاو¿ں کو چھوڑ کر جاچکا ہے۔ جس مسجد کےآنگن سےوہ اذان دیتا تھا وہ مسجد اب کھنڈر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اُس کےاندر اب ہنومان کی مورتی رکھی ہوئی ہی۔پھر بھلا اُسےاللہ بخش کی اذان کی آواز کس طرح سُنائی دےسکتی ہے۔
اب تو اللہ بخش کو گاو¿ں چھوڑےمہینوں ہوگئےہیں ۔ پھر بھی اُس کےکان اللہ بخش کی اذان کےمنتظر کیوں رہتےہیں ؟
شاید اِس لئےکہ وہ گذشتہ چالیس برسوں سےاللہ بخش کی اذان کی آواز سُن رہا تھا ۔
دِن کےشور میں تو اُسےاللہ بخش کی اذان کی آواز سُنائی نہیں دیتی تھی ۔لیکن فجر میں اور عشاءمیں اُس کی اذان کی آواز ہر کوئی صاف صاف سُن سکتا تھا ۔
اُسےاذان کی آواز سُن کر ایک قلبی سکون ملتا تھا ۔ یہ سوچ کر کہ میری طرح میرا دوست بھی جاگ گیا ہےاور وہ اپنےخدا کی عبادت میں لگا ہےاور عبادت میں شریک ہونےکےلئےدُوسرےبندوں کوپکار رہا ہے۔
چالیس سالوں میں ایسےبہت کم مواقع آئےتھےجب اُس نےاللہ بخش کی اذان نہ سُنی ہو ۔اِن مواقعوں میں وہ دِن تھےجب وہ کسی کام سےگاو¿ں سےباہر گیا ہو یا پھر اللہ بخش کسی کام سےباہر گیا ہوگا ۔
چالیس سالوں سےوہ اذان کی آواز سُن رہا تھا ۔ لیکن گذشتہ ٠٦ سالوں سےوہ اللہ بخش کو جانتا تھا ۔ایسا کوئی بھی دِن نہیں گذرا تھا جب اُس کا اور اللہ بخش کا سامنا نہیں ہوا ہو یا بات چیت نہ ہوئی ہو یا دونوں نےمل کر ساتھ تمباکو نہ پی ہو ۔
لیکن وہی اللہ بخش ایک دِن اُسے، اِس گاو¿ں کو چھوڑ کر چلا گیا ‘ جس میں وہ پیدا ہوا تھا ، پلا بڑھا تھا ، جہاں اُس کا گھر تھا ، کھیت تھے، مسجد تھی ۔ جسےاُس نےاپنےہاتھوں سےبنایا تھا ۔
اور وہ جاتےہوئےاُسےروک نہیں سکا تھا ۔
اُس میں اللہ بخش کو روکنےکی ہمّت بھی نہیں تھی ۔ وہ کس منہ سےاُس سےکہتا ۔
” اللہ بخش اِس گاو¿ں کو چھوڑ کر مت جاو¿ ! یہ گاو¿ں تمہارا ہے، تم یہیں پیدا ہوئےہو ۔ ہم ساتھ کھیلےہیں ، بڑےہوئےہیں ، یہاں تمہاری اولادیں پیدا ہوئی ہیں ، اِس گاو¿ں کےقبرستان میں تمہارےماں باپ اور کئی رشتہ دار دفن ہیں ۔ اِس گاو¿ں کو چھوڑ کر مت جاو¿ ۔ “
اُسےپتا تھا کہ اگر وہ ایسا کہتا تو اللہ بخش کا ایک ہی جواب ہوتا ۔
” رام بھائی ! اِس گاو¿ں نےمیرا جوان بیٹا چھین لیا، میرا دُوسرا بیٹا اپاہج ہوگیا ، میری بہو کی طرف ناپاک ہاتھ بڑھے‘ لیکن میری بہو نےاُن ناپاک ہاتھوں کو اپنےجسم کا لمس دینےسےقبل اپنی جان دےدی ،اِس گاو¿ں میں میری بیٹیوں کی عصمت تار ، تار ہونےہی والی تھی ‘ خدا نےکسی طرح اُنھیں بچا لیا ، میرےاس کھیت کو جلا کر راکھ کردیا گیا جو چار مہینےتک اپنےخون سےسینچ ، سینچ کر میں نےلہلہائے۔ اِس گاو¿ں میں میرےپیار کےشِوالے، میرےگھر کو توڑدیا تھا ، مسجد کو کھنڈر بنا کر اُس میں ہنومان کی مورتیاں رکھ دی گئیں ۔ اب آگےاِس بات کی کیا گیارنٹی ہےکہ میرےکسی بیٹےکی جان لینےکی کوشش نہیں کی جائےگی ، میری بیٹیوں کی طرف ہوسناک نظریں نہیں اُٹھیں گی ۔ میری عبادت گاہ مسمار نہیں کی جائےگی ؟ “
اللہ بخش کی اِس بات کا کسی کےپاس جواب نہیں تھا ۔
اُس کی آنکھوں کےسامنےسب کچھ ہوا تھا ۔ مسجد توڑی گئی تھی اور اُس میںہنومان کی مورتیاں رکھی گئی تھیں ، اُس کےکھیت اور گھر جلائےگئےتھے، اُس کےبیٹوں کو ترشولوں سےوار کرکےمارا گیا تھا ۔
اُس کی بہو ، بیٹیوں کی طرف ہوسناک ہاتھ بڑھےتھے۔
وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتا رہا تھا ۔
کسی کو روک نہیں سکا تھا ۔ گاو¿ں کےکسی بھی فرد نےان بلوائیوںکو روکنےکی کوشش نہیں کی تھی ۔
جن لوگوں نےیہ سب کچھ کیا وہ سب اِس کےاپنےتھے، اِسی گاو¿ں کےلوگ ‘ جو اِس گاو¿ں میں پل کر جوان ہوئےتھے، وہ اللہ بخش کی گود میں کھیلےتھے، اُس کےکھیتوں سےآم چرا کر اُنھوں نےکھائےتھے۔
جسےوہ اللہ بخش چاچا کہتےتھے، اُن ہی لوگوں نےاُس کےخاندان کےساتھ یہ سب کیا تھا ۔
وہ اور اُس کےجیسےسیکڑوں لوگ تماشہ دیکھتےرہےتھےاور اللہ بخش کو پُرسہ دینے، اپنی دوستی ، تعلقات کا یقین دِلانےکےلئےاُس وقت پہنچےتھےجب اُس کا سب کچھ لُٹ گیا تھا ۔
جس وقت وحشیت کا یہ ننگا ناچ ہوا تھا ‘ اُس وقت اللہ بخش گاو¿ں میں نہیں تھا ۔
وہ کسی کام سےشہر گیا تھا ۔ جب وہ شہر سےلوٹا تو سب کچھ برباد ہوگیا تھا ۔
اگر اللہ بخش گاو¿ں میںہوتا اور اُس کےسامنےیہ سب کچھ ہوتا تو وہ شاید زندہ نہیں رہتا ۔
یا تو وہ اُس کےبڑےبیٹےکی طرح ماردیا جاتا یا پھر یہ سب اپنی آنکھوں سےدیکھنےکےبعد خودمرجاتا ۔
اِس کےبعد وہ گاو¿ں میں نہیں رہ سکا ، اُسےاپنےزخمی خاندان کو لےکر شہر سےجانا پڑا ۔
شہر سےآنےکےبعد تو اُس کا گاو¿ں میں رہنا اور بھی مشکل ہوگیا ۔ اُسےدھمکیاں ملنےلگیں ۔ گاو¿ں چھوڑ کر چلےجاو¿ ورنہ گذشتہ بار جو نہیں ہوا اِس بار وہ ہوگا ۔ اِس بار کوئی نہیں بچ پائےگا ۔
اِس گاو¿ں میں پیدا ہوئے، پلے، بڑھےاللہ بخش کےہزاروں دوست ، شناسا تھے، ہر کوئی اُسےجانتا تھا ، ہر کسی کےاُس کےساتھ تعلقات تھے۔
سب اللہ بخش کو تسلّی دینےگئےتھے۔
” جو ہوا بہت برا ہوا ۔ “
” اگر وہ برا ہورہا تھا تو آپ لوگوں نےاُسےروکا کیوں نہیں ؟ “
اللہ بخش جب اُن سےسوال کرتا تو سب لاجواب ہوجاتے۔
اِس لئےجب اُس نےاپنےخاندان کےساتھ گاو¿ں چھوڑنےکا فیصلہ کیا تو چند ہی لوگوں نےاُسےروکنےکی کوشش کی ۔
” میں مانتا ہوں ، لیکن جو دھمکیاں مجھےروزانہ مل رہی ہیں ‘ اُن کا کیا ہوگا ؟ اِس بات کی کیا ضمانت ہےکہ جو کچھ میرےخاندان کےساتھ ہوا دوبارہ نہیں ہوگا ،ہم اِس گاو¿ں میں پہلےہی کی طرح محفوظ رہیں گے؟ “
لیکن اِس بات کی کوئی بھی ضمانت نہیں دےسکا ۔
” وہ بچےہیں اور بہک گئےہیں ، اِس طرح بہک گئےہیں یا بہکا دئےگئےہیں کہ اُن کو راہ پر لانا ناممکن ہےاور تم تو جانتےہو ؟ آج کل کےنوجوان کسی کی نہیں سنتےہیں ۔ “ اللہ بخش کو جواب ملتا ۔
” تو اِس کا مطلب یہی ہےکہ مجھےاپنےخاندان والوں کےساتھ یہ گاو¿ں چھوڑنا پڑےگا ۔ تمہارےبچےنہیں چاہتےہیں کہ ہم لوگ اِس گاو¿ں میں رہیں ‘ جو میرا اپنا گاو¿ں ہے۔ تم میں اپنےبچوں کو روکنےکی طاقت نہیں ہے‘ اِس کا مطلب بھی صاف ہےکہ تم بھی اپنےبچوں کےجرم میں برابر کےشریک ہو ۔ تو ٹھیک ہے‘ اب میں کوئی خطرہ نہیں لینا چاہتا ۔ مجھےاور میرےخاندان کو کہیں نہ کہیں تو پناہ مل ہی جائےگی ۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔ “
جس دِن اللہ بخش کا خاندان گاو¿ں چھوڑ کر گیا ‘ اُسےاور اُس کےجیسےچند لوگوں کو بہت دُکھ ہوا ، لیکن گاو¿ں میں جشن منایا گیا ۔ اللہ بخش کےگھر کی اینٹوں کو تو ڑ ، توڑ کر ، مسجد کو توڑ کر اپنی کامیابی ، فتح پر رقص کیا گیا ۔ اللہ بخش کےکھیت پر قبضہ کرکےاُس کےحصّےبخرےکئےگئے۔
وہ چلا گیا ‘ لیکن اُس کےجانےکےساتھ اُس سےوابستہ سالوں کی یادیں نہیں جاسکیں ۔
وہ اللہ بخش جس کےساتھ بچپن سےوہ کھیلتا ، کودتا آیا تھا ۔
جو اُس کےساتھ ساتھ گاو¿ں کی اسکول میں پڑھا تھا ۔
جس کےساتھ وہ گاو¿ں ، کھیت سےوابستہ ہر مسئلےپر بحث کرتا تھا اور اللہ بخش کےنیک مشورےقبول کرتا تھا ۔
عید ، بقر عید کےدِن وہ جس اللہ بخش کےگھر شیر خرمہ کھانےجاتا تھا ، محرم کےایّام میں شربت اور کھچڑا کھانےجاتا تھا ، دیوالی ، نوراتری پر جس کو وہ اپنےگھر بلاتا تھا ۔
نوراتری کےتہوار پر جب اللہ بخش کاٹھیا واڑی لباس پہن کر ڈانڈیا کھیلتا تو کوئی اُسےپہچان نہیں پاتا تھا کہ اللہ بخش ہے‘ جو مسلمان ہے، گاو¿ں کی اکلوتی مسجد کا مو¿ذّن ہے، پیش اِمام ہے، گاو¿ں کےمسلمان بچوں کو عربی کی تعلیم دیتا ہےاور اُنھیں دین کی باتیں بتاتا ، سکھاتا ہے۔
سویرےجاگنےکےبعد اللہ بخش کی اذان کی آواز اُسےبہت بھلی لگتی تھی ۔ رات میں جب تک اذان کی آواز اُس کےکانوں میں نہیںپڑتی تھی تب تک اُسےمیٹھی گہری نیند نہیں آتی تھی ۔
ایک دِن اُس نےاللہ بخش سےپوچھا تھا ۔
” بھائی اللہ بخش ! تم اِس اذان میں کیا پکارتےہو ؟ “
” اِس اذان میں اللہ کی تعریف اور اللہ کی عبادت کےلئےآنےکا بلاوا ہوتا ہے۔ “
اُس کا لڑکا شہر سےٹیپ ریکارڈلےآیا تھا ۔
ایک دِن جب اللہ بخش کسی کام سےاُس کےگھر آیا تو وہ اُس سےبولا ۔
” اللہ بخش ! تم اذان پکارو میں تمہاری اذان کو ٹیپ کرنا چاہتا ہوں ۔ “
” نہیں رام بھائی ! اذان کسی بھی وقت نہیں دی جاتی ‘ اِس کےاوقات مقرر ہیں ۔ اُن ہی اوقات میں اذان دی جاتی ہے۔ “
لیکن جب وہ اللہ بخش سےبہت زیادہ اصرار کرنےلگا کہ وہ اُس کی اذان کو ٹیپ کرنا ہی چاہتا ہےتو اللہ بخش نےاذان دی اور اُس نےاُسےٹیپ کرلی ۔
” میں نےآج تمہارےگھر میں اذان دی ہے۔ دیکھنا اِس اذان کی قوت سےتمہارےگھر میں جو بلائیں ، آسیب ، شیطان ، بھوت ، پریت آتما ہوں گی ؟ بھاگ جائیں گی ۔
اور کچھ دِنوں بعد سچ مچ اُسےمحسوس ہوا کہ اُس کےگھر میں واقعی بہت نمایاں تبدیلی ہوئی ہے۔ جن بلاو¿ں ، آسیب کا گھیرا اُس کےگھر میں تھا ‘ اللہ بخش کی اذان سےوہ دُور ہوگیا ۔
گذشتہ پچاس سالوں میں کئی بار پورا ملک فسادات میں جھلسا ‘ لیکن اُن کی گرم ہوا کبھی بھی اُن کےچھوٹےسےگاو¿ں کو نہیں چھو سکی ۔ لیکن وہ گذشتہ چار پانچ سالوں سےبڑی شدّت سےمحسوس کر رہا تھا کہ اُن کی آل اولاد کےخیالات میں بڑی تیزی سےتبدیلی آرہی ہے۔ اُن کی نسل کےلوگ کبھی بھی اللہ بخش اور اُس کےمذہب کےلوگوں کےبارےمیں باتیں نہیں کرتےتھے۔
لیکن یہ نئی نسل اب صرف اللہ بخش اور اُس کےمذہبی بھائیوں کےبارےمیں ہی باتیں کرتےہیں اور اُن کی باتوں میں نفرت کا زہر بھرا ہوتا ہے۔ گاو¿ں کا ہر چھوٹا بڑا اللہ بخش کی عزت کرتا تھا لیکن یہ چھوٹےموقع ملنےپر بات بات پر اللہ بخش کی توہین کرنےکی کوشش کرتےہیں ‘ اُس سےاور اُس کےخاندان سےاُلجھتےہیں ۔
کبھی کبھی اللہ بخش بڑےدُکھ سےکہتا تھا ۔
” رام بھائی ! کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ گذشتہ پچاس سالوں میں جو میرےیا میرےخاندان کےساتھ اِس گاو¿ں میں نہیں ہوا ‘ وہ ہورہا ہے۔ “
” چھوٹی چھوٹی باتوں پر دِل کیوں چھوٹا کرتےہو اللہ بخش ! ہم ہیں نا ، یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔ “ وہ اُسےسمجھاتا ۔
اور اُس دِن وہ سب کچھ ہوگیا ۔
اچانک ہوا یا پہلےسےطےشدہ تھا ۔ اِس بارےمیں وہ کچھ بھی نہیں جانتا تھا ۔
اور اللہ بخش کو گاو¿ں چھوڑ کر جانا پڑا ۔
اب گاو¿ں میں صرف اللہ بخش کی یادیں اور اُس کی کھنڈر سی نشانیاں ہیں۔ اُس کا ٹوٹا ہوا گھر ، جلی ہوئی مسجد جس میں ہنومان کی مورتیاں رکھی ہیں ۔ کھیتی جس پر پتہ نہیں کتنےلوگوں کا قبضہ ہے۔
جنھوں نےیہ سب کیا تھا کیا شاید وہ بھول بھی گئےہوں گے؟
لیکن وہ اُسےنہیں بھول سکا ۔
اُسےبار بار یہ محسوس ہوتا ہےاللہ بخش جیسےاُس کی رگ ، رگ میں بسا ہوا ہے۔ اُسےاللہ بخش کی ایک ایک بات یاد آتی ہے۔ اللہ بخش کےساتھ گذارا ایک ایک لمحہ یاد آتا ہے۔ اُسےہر جگہ اللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پتا نہیں اُن لوگوں کواللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی بھی ہےیا نہیں ‘ جنھوں نےاُسےگاو¿ں چھوڑنےپرمجبور کیا تھا ۔ اُسےگاو¿ں چھوڑنےپر مجبور کرکےپتا نہیں اُن کےکس جذبہ¿ اَنا کو تسکین ملی ؟
وہ روزانہ جاگتا ہےتو اُس کےکان اللہ بخش کی اذان سننےکےلئےبیتاب رہتےہیں ۔ اُسےپتا تھا کہ اللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی نہیں دےگی۔کیونکہ اللہ بخش یا کوئی اور میاں بخش اِس گاو¿ں میں نہیں رہتا ہے۔ پھر بھی اُس کےکان اذان کی آواز سننا چاہتےتھے۔
اُسےاللہ بخش کی اذان سن کر ایک ذہنی سکون ملتا تھا ۔
لیکن اب اُسےوہ آواز سنائی نہیں دیتی ہےتو دِن بھر ایک بےچینی کا شکار رہتا ہے۔
جب اُس کی بےچینی حد سےزیادہ بڑھ جاتی ہےتو وہ ٹیپ ریکارڈ کےپاس جاتا اور اُس میں وہ کیسیٹ لگاتا جس میں اُس نےایک دِن اللہ بخش کی اذان ٹیپ کی تھی ۔
اور جب وہ پورےوالیوم میں اللہ بخش کی اذان سنتا تو اُس کےدِل کو بڑا سکون ملتا تھا ۔
حی یا علی الفلاح ‘ حی یا علی الفلاح

٭٭٭٭


پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)











افسانہ تریاق از:۔ایم مبین


رات بارہ بجےکےقریب میٹنگ سےجب وہ گھرآئےتو اُنھوں نےشاکرہ کو بےچینی سےڈرائنگ روم میں ٹہلتا ہوا پایا ۔ اُس کی حالت دیکھ کر اُن کا دِل دھک سےرہ گیا اور ذہن میں ہزاروں طرح کےوسوسےسر اُٹھانےلگے۔ شاکرہ کی بےچینی سےاُنھوں نےاندازہ لگایا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہےجس کی وجہ سےشاکرہ اِتنی بےچین ہے۔
وہ کمرےمیں داخل ہوتےتو شاکرہ نےسر اُٹھا کر اُن کو دیکھا‘ اُس کےہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اُبھری اور پھر اُس نےاپنا سر جھکا لیا ۔
جیسےوہ بہت کچھ اُن سےچھپانا چاہتی ہو ۔ اگر نظریں مل گئیں تو اُسےڈر ہےکہ وہ اُس کی آنکھوں سےسب کچھ پڑھ لیں گے۔
” کیا بات ہے‘ تم ابھی تک سوئی نہیں ؟ “ اُنھوں نےشاکرہ سےپوچھا ۔
” نہیں ‘ نیند نہیں آرہی ہے۔“ شاکرہ نےجواب دیا ۔
”سب ٹھیک تو ہے؟ “ اُنھوں نےاپنےدِل پر جبر کرکےپوچھا ۔
” عادل کی حالت بگڑتی جارہی ہی۔ “ شاکرہ نےایک ایک لفظ کو چبا کر کہا ۔ ”مسلسل دو گھنٹےسےچیخ چیخ کر اُس نےسارےبنگلےکو سر پر اُٹھا لیا تھا ۔ پڑوس کےبنگلوں تک اُس کی چیخیں جارہی تھیں اور وہ لوگ بھی انکوائری کےلئےآرہےتھے۔ کمرےکی ہر چیز کو اُس نےتہس نہس کردیا ہے۔ مجبوراً ڈاکٹر کو بلا کر اُسےنیند کا انجکشن دینا پڑا ‘ لیکن ڈاکٹر کہتا ہےاِس انجکشن سےمضبوط سےمضبوط آدمی دس گھنٹوں تک سویا رہتا ہے‘ لیکن عادل کی جو حالت ہے‘ وہ جس اسٹیج میں ہے‘مجھےڈر ہےکہ دو گھنٹےبعد ہی اِس انجکشن کا اثر ختم ہوجائےگا اور اِس کی حالت پھر اُسی طرح سےہوجائےگی ۔ میرا مشورہ ہےکہ اب اس پر اور زیادہ جبر نہ کیا جائے۔ وہ جو ڈوز لیتا ہےاسےدےدیا جائےاسی سےوہ نارمل ہوسکتا ہےایسی حالت میں زیادہ دِنوں تک رہنےسےاُس کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہی“
شاکرہ کی باتیں سن کر اُن کا دِل ڈوبنےلگا ۔ اُنھوں نےشاکرہ کو کوئی جواب نہیں دیا اور بےاِختیار عادل کےکمرےکی طرف بڑھ گئے۔
عادل پلنگ پر بےخبر سورہا تھا ۔
اُس کی اور کمرےکی حالت دیکھ کر وہ کانپ اُٹھے۔
کمرےمیں کوئی بھی چیز ٹھکانےپر نہیں تھی ۔ ہر چیز بکھری یا ٹوٹی ہوئی تھی ۔ عادل کےسر کےبال نچےہوئےتھےاُس کےچہرےاور جسم پر کئی مقام پر زخموں کےنشانات تھے۔
اُنھیں پتہ تھا جنون کےعالم میں عادل نےاپنےآپ کو ہی زخمی کیا ہوگا ۔ ایسی حالت میں خود کو اذیّت پہنچانےسےہی اُسےسکون ملتا ہے۔
زیادہ دیر وہ اور عادل کو دیکھ نہیں سکےاور تیزی سےکمرےکےباہر آگئے۔ شاکرہ کےضبط کا باندھ ٹوٹ گیا تھا ۔ اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی ۔ اُس نےاپنےدونوں ہاتھوں سےاپنا چہرہ چھپا لیا تھا ۔
” خداکےلئےاب عادل پر اور کوئی جبر مت کیجئے۔ وہ جس حالت میں جیتا ہےاُسےاُسی حالت میں زندہ رہنےدیجئے۔ کم سےکم وہ ہماری آنکھوں کےسامنےتو رہےگا ۔ ورنہ ایسی حالت میں وہ ایک دِن مرجائےگا ۔ اگر اُسےکچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا ؟ میری ایک ہی تو اولاد ہے۔ یہ ہماری زمین ، جائداد ، دھن ، دولت سب عادل ہی کا تو ہے۔ وہ اکیلا ہی اِن سب کا وارث ہے‘ جب وہی نہیں ہوگا تو پھر اِن چیزوں کا کیا فائدہ ؟ آپ نےکس کےلئےیہ سب کمایا ہے‘ عادل کےلئےہی نا ؟ پھر عادل کی زندگی کےدُشمن کیوں بن رہےہیں ، وہ جو چاہتا ہےاُسےدےدیجئے۔ “
” تم مجھےعادل کی زندگی کا دُشمن کہہ رہی ہو ؟ “
شاکرہ کی بات سن کر اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
” عادل میری اکلوتی اولاد ہے۔ یہ سب کچھ میں نےاُسی کےلئےتو کمایا ہے۔مجھ سےاپنی اولاد کا پل پل مرنا دیکھا نہیں جاتا ۔ اُس کی پل پل موت میرےلئےاِتنی بڑی سزا ہےجسےمیںبیان نہیں کرسکتا ۔ مجھ سےاِس کی تڑپ دیکھی نہیںجاتی اور بس اِسی لئےاپنےآپ پر جبر کرتا ہوں ‘ باپ ہوں نا۔سوچتا ہوں وہ اسی طرح تِل تِل مرنےکےبجائےایک بار مر جائےتو اسےبھی اس عذاب سےنجات مل جائےاورہم بھی صبر کرلیں گے۔ “
” آپ ایسا کیوں سوچتےہیں ؟ خدا ہمارےبچےکو شفا دےگا ۔ “
اُن کی بات سن کر شاکرہ تڑپ اُٹھی ۔
” اگر خدا ہمارےبچےکو کوئی بیماری دیتاتو اُس کی ذات سےہمیں شفا یابی کی اُمید ہوتی ۔ لیکن یہ روگ تو ہمارےبیٹےنےخود پالا ہےاور میں سمجھتا ہوں ‘ اِس کا ذمہ دار ہےتمہارا بےجا لا ڈ و پیار اور میری کاروباری مصروفیات
میرےکاروبار نےمجھےاِتنا وقت نہیں دیا کہ میں اپنےکاروبار کےساتھ ساتھ اپنی توجہ اپنےبیٹےپر بھی دےسکوں اور تمہارےلئےتو وہ تمہاری اکلوتی اولاد تھی ۔ اُس کی ہر جائز ، ناجائز فرمائش تمہارےسر آنکھوں پر تھی ۔ بس یہی زہر تھا جو اُس کی شریانوں میں بہتا گیا اور اُس کےوجود کا ایک حصّہ بن گیا ۔ “
شاکرہ نےکوئی جواب نہیں دیا وہ سسکتی رہی ۔
اُنھوں نےاندازہ لگالیا تھا عادل کی کیا حالت ہوگی ۔
ڈوز کا وقت پورا ہوگیا تھا اور اُسےاس کی سخت ضرورت تھی ۔
وہ ٹال رہےتھے‘چاہ رہےتھےکہ عادل خود میں قوتِ اِرادی پیدا کرےاور وہ اس نشےکی گرفت سےباہر نکلنےکی کوشش کرے۔
دو دِن سےعادل اُن کےسامنےگڑگڑا رہا تھا ۔
”ڈیڈی ! مجھےپیسےچاہیے، مجھےپانچ ہزار روپیوں کی سخت ضرورت ہے۔ پلیز مجھےپانچ ہزار روپےدےدیجئے، میں آپ سےوعدہ کرتا ہوں ، میں مہینہ بھر آپ سےپیسہ نہیں مانگوں گا ۔ “
لیکن اُنھوں نےپیسہ نہیں دیا ۔
اِس بار اُنھوں نےاِس بات کا بھی خاص خیال رکھا تھا کہ عادل کےپاس کوئی قیمتی چیز نہ رہے، جسےفروخت کرکےوہ پانچ ہزار روپےحاصل کرلےاور اُس سےاپنی من چاہی مراد حاصل کرلے۔
اُنھوں نےشاکرہ کو بھی سخت تاکید دےرکھی تھی ۔
” خبردار ! اگر تم نےاُسےپیسےدئےتو ۔ اگر مجھےپتہ چلا کہ تم نےاُسےپیسےدئےتو میں تمہیں گھر میں نہیں رکھوں گا ۔ “
وہ دیکھنا چاہتےتھےکہ عادل اِس زہر کےبنا کتنےدِنوں تک رہ سکتا ہے۔
لیکن ایک دِن میں ہی عادل کی وہ حالت ہوگئی تھی کہ اُسےدیکھ کروہ خود بھی گھبرا گئےتھے۔
اُنھوں نےڈاکٹر کو فون کرکےاِس سلسلےمیں گفتگو کی ۔
” باقر صاحب ! آپ کی کوشش بےکار ہے، عادل آخری حدوں کو پار کرچکا ہے۔ اب وہ زہر ہی اُسےزندہ رکھےگا ۔ آپ اپنےبیٹےکی زندگی چاہتےہیں تو اسےوہ زہر دےدیجئے۔ اُس کی زندگی بڑھ جائےگی۔ آپ جتنےدِنوں تک اُسےاس زہر سےدُور رکھیں گے‘ اُس کی زندگی کم سےکم ہوتی جائےگی ۔ “
” ڈاکٹر ! قیمتی سےقیمتی نشہ آور شراب ، گرد ، چرس ، افیم اور اسمیک ’ کیا کسی سےبھی کام نہیں چل پائےگا ؟ “
” باقر صاحب ! ناگ کےزہر میں جو نشہ ہوتا ہےوہ ایک ہزار شراب کی بوتلوں میں بھی نہیں ہوتا۔ اور جو شخص ناگ کےزہر کےنشےکا عادی ہو آپ اُسےشراب کی بوتل سےبہلانےکی کوشش کررہےہیں ؟ آپ کی یہ کوشش بےکار ہےباقر صاحب ! اپنےبیٹےکی زندگی سےمت کھیلئے۔ اگر آپ اُسےزندہ دیکھنا چاہتےہیں تو اُسےزہر دیجئے زہر ناگ کا زہر ! “
عادل کےلئےاُنھوں نےدُنیا کےبڑےبڑےڈاکٹروں سےرابطہ قائم کیا تھا ۔
لیکن اُنھیں ہر طرف مایوسی ہی ملی تھی ۔ ایک دو ڈاکٹروں نےدِلاسہ دیا تھا مگر اِس بات کی اُمید نہیں دِلائی تھی کہ عادل اچھا ہوجائےگا۔
اپنےکمرےمیں آنےکےبعد وہ کمرےمیں ٹہلنےلگے۔
نیند اُن کی آنکھوں سےکوسوں دُور تھی ۔ شاکرہ بستر پر لیٹی تھی ، نیند اُس کی آنکھوں میں بھی نہیں تھی ۔
اُنھیں پتا تھا سوکر کوئی فائدہ نہیں ۔
تھوڑی دیر بعد ہی اُنھیں اُٹھنا پڑےگا ۔
نیند سےجاگنےکےبعد عادل وہ ہنگامہ مچائےگا کہ سارا محلہ جاگ جائےگا ۔
سب کچھ کیسےہوگیا۔ اب سوچتےہیں تو کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ڈاکٹروں کاکہنا ہےکہ عادل کو ٢١ ، ٥١ سال کی عمر سےنشہ کی لت ہے۔
وہ باقاعدگی سےاسکول اور کالج جاتا تھا ۔ دِن ، دِن بھر گھر سےغائب رہتا تھا اور رات دیر سےگھر آتا تھا ، ماں پوچھتی تو بتادیتا تھا کہ اس دوست کےساتھ تھا یا اُس دوست کےساتھ تھا ۔ شاکرہ عادل کی یہ آوارگیاں اُن سےچھپاتی رہتی تھی ۔
عادل کو خرچ کےلئےوہ بھی پیسےدیتےتھےاور شاکرہ بھی ۔بس ان ہی پیسوں کی وجہ سےوہ غلط صحبت میں پڑ گیا ۔
پہلےدوستوں نےاُسےبیئر پلائی پھر وہسکی ۔
پھر اسےچرس ، افیون ، گانجا ، اسمیک اور گرد کا چسکہ لگایا ۔ ایل ۔ ایس ۔ ڈی اور دُوسری نشہ آور چیزوں کےٹیکےوہ لینےلگا ۔
اور انھیں اِس کا پتہ ہی نہیں چل سکا ۔
اسکول میں کبھی فیل ہوتا تو کبھی ان کےرسوخ ، وسیلےسےپاس ہوجاتا ۔
کالج میں بھی یہی حال تھا ۔ اُنھوں نےاُسےکوئی ٹیکنیکل یا بڑےکورس میں داخل نہیں کیا تھا ۔
وہ اُس کی ذہنی سطح سےاچھی طرح واقف تھے۔
اِن کا خیال تھا اگر عادل گریجویشن بھی کرلےاور اُن کا کاروبار اگر سنبھال نہ سکےتو کم از کم اس میں اُن کاہاتھ ہی بٹائےتو کافی ہے۔ اُنھوں نےاُسےاچھےکالج میں داخل کیاتھا ۔
لیکن اس کی کارکردگی مایوس کن ہی رہی ۔ ایک ہی کلاس میں دو دو تین تین سالوں کا قیام اس کا معمول بن گیا ۔
جب وہ اُس کےبارےمیں اپنےدوستوں سےبات کرتےتو دوست اُسےتسلّی دیتےتھے۔
” بچوں میں جب تک ذمہ داری کا احساس نہ ہو وہ دِل سےکوئی کام نہیں کرپاتےہیں ۔ ہمارےبچوں کو پتہ ہےکہ پڑھنےکےبعد کچھ کرکےہی وہ اپنا اور ہمارا پیٹ بھر پائیں گے۔ اِس لئےوہ پڑھائی میں دھیان لگاتےہیں ۔ عادل کےساتھ ایسا کچھ نہیں ہے، اُسےپتہ ہےکہ اُس کےباپ نےاُس کےلئےاتنا کمایا ہےکہ اُس کی سات پشتیں بھی بیٹھ کر کھائیں گی ۔ اس لئےلاپرواہ ہوگیاہے۔پڑھائی میں دھیان نہیں دیتا ۔ کاروبار میں لگادو سب ٹھیک ہوجائےگا ۔
لیکن اُنھیں عادل کو کاروبار میں لگانےکی نوبت نہیں آسکی ۔
اِس دوران اُنھیں پتا چلا کہ عادل ڈرگس لیتا ہےاور نشےکا عادی ہوگیا ہے۔
کئی بار نشےکی وجہ سےیا نشہ نہ ملنےکی وجہ سےاس کی حالت خراب ہوئی ۔
ڈاکٹروں کو بتایا گیا ۔ کئی بار اسےاسپتال میں داخل کیا گیا تھا ۔ لیکن ڈاکٹروں نےصاف جواب دےدیا تھا ۔
” عادل نشےکی آخری حد پار کرچکا ہے‘ اُس سےنشہ چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اب اگر یہ کوشش کی گئی تو اُس کی زندگی کو خطرہ پیداہوسکتا ہے۔
ایک دوبار مہنگےاسپتالوں میں رکھ کر عادل کےنشےکی لت چھڑانےکی کوشش کی گئی ۔
جب تک وہ اسپتال میں رہا ،نشےسےدُور رہا ‘ لیکن گھر آتےہی سب کی نظریں بچاکر آخر نشےکےاڈّےپر وہ پہنچ ہی گیا اور سارےکئےکرائےپر پانی پھیر گیا ۔
وہ بڑی اُلجھن میں تھے۔
عادل پر توجہ دیتےتو کاروبار بدنظمی کا شکار ہوتا ۔
کاروبار پر توجہ دیتےتو عادل کی حالت بگڑتی جاتی تھی ۔
شاکرہ کو تو وہ بالکل خاطر میں نہیں لاتا تھا ۔ کئی بار وہ اُس پر ہاتھ اُٹھا کر جانوروں کی طرح مار چکا تھا ۔ یہ بات شاکرہ نےاُن سےچھپائی تھی ۔ نشےمیں اُسےکچھ ہوش نہیں رہتا تھا ۔ کہ سامنےاُس کی ماں ہےیا باپ ہے۔ اور نشہ نہ ملنےپر بھی وہ پاگل ساہوجاتا تھا ۔
شاکرہ سےوہ نشہ کےلئےپیسہ لیا کرتا تھا ۔شاکرہ بھی ترس کھاکر اُس کو پیسےدےدیتی تھی ۔ کم سےکم نشےمیں تو وہ سکون سےرہے، لیکن آخر وہ نشےکی آخری حد کو پہونچ گیا ۔
نشہ حاصل کرنےکےلئےوہ اپنےآپ کو ناگ سےڈسوانےلگا ۔
ناگ سےڈسوانےکےبعد ایک ماہ تک وہ بالکل نارمل رہتا ۔ ناگ کےزہر کا نشہ ایک ماہ تک اُسےمسرور رکھتا ہےلیکن زہر کا اثر ختم ہوتےہی اُس کی حالت پاگلوں سی ہونےلگتی اور جب تک وہ اپنےآپ کو ناگ سےڈسوا نہیں لیتا اُسےسکون نہیں ملتا تھا ۔
اور خود کو ناگ سےڈسوانےکےلئےوہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تک دیتا تھا ۔
پچھلی بار اُس نےجب خود کو ناگ سےڈسوایا ہوگا اُسےشاید ایک ماہ ہوگیا ہوگا ۔ نشہ اُتر گیا تھا اِس لئےاُس کی حالت پاگلوں سی ہورہی تھی
دو گھنٹےبعد انجکشن کا اثر ختم ہوگیا تھا ۔
عادل پھر جاگ اُٹھا تھا اور اُس نےہنگامہ کھڑا کردیا تھا ۔
اُنھوں نےاُسےکمرےمیں ہی بند کرکےرکھا ۔
وہ جانتےتھےکہ اکیلا کمرےمیں بند ہونےپر وہ اپنےآپ کو مار مار کر زخمی کرلےگا ۔
لیکن اُسےکھلا چھوڑنا اُس سےبھی زیادہ خطرناک ہوگا ۔ وہ سویرا ہونےکی راہ دیکھنےلگے۔
دِن نکلتےہی جیسےہی اُنھوں نےعادل کےکمرےکا دروازہ کھولا ‘ عادل اُن کا گلا دبانےکےلئےدوڑا ۔
” عادل ! چلو میں تمھیں ناگ سےڈسوانےلےچلتا ہوں ۔ “
یہ سنتےہی عادل کا سارا غصہ ، جوش ٹھنڈا پڑگیا ۔
وہ اُسےکار میں بٹھا کر چل پڑے۔ عادل اُنھیں راستہ بتاتا رہا ۔
ایک جھونپڑپٹّی کےپاس تنگ و تاریک گلیوں سےہوکر وہ ایک ٹوٹےجھونپڑےکےپاس پہونچے۔
” ارےعادل سیٹھ ! اِس بار لیٹ ہوگیا ؟ “
” چلو جلدی لاو¿ ! مجھ سےبرداشت نہیں ہورہا ہے۔ “ عادل چیخا ۔
” پہلےمال نکال ! “ وہ آدمی بولا ۔ عادل نےاُن کی طرف دیکھا ۔ اُنھوں نےپانچ ہزار روپےاُس آدمی کی طرف بڑھادئے۔
وہ آدمی اندر گیا ‘ واپس آیا تو اُس کےہاتھ میں ایک سانپ کی پٹاری تھی ۔ عادل زبان باہر نکال کر کھڑا ہوگیا ۔
اُس آدمی نےپٹاری کا ڈھکن کھولا ۔اُس میں سےایک کالےناگ نےپھن اُٹھایا ‘ اُس نےچاروں طرف دیکھا اور پھر عادل کی زُبان پر ڈس لیا ۔
اُن کےمنہ سےچیخ نکل گئی ۔
عادل کےمنہ سےبھی چیخ نکلی مگر یہ مسرت اور لذت بھری چیخ تھی ‘ وہ سر سےپیر تک پسینےمیں نہاگیا اور پھر لہراتا ہوا اُن کےساتھ چل دیا ۔
اُنھوں نےجاتےہوئےمڑ کر اُس آدمی اور پٹاری کےناگ کو دیکھا ۔
جس کا زہر اُن کےبیٹےکےلئےتریاق تھا ۔


٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)


















افسانہ ٠٣ بچوں کی ماں از:۔ایم مبین

گھر سےنکلنےمیں صرف ٠١ منٹ کی تاخیر ہوئی تھی اور سارےمعمولات بگڑ گئےتھے۔
اُسےاندازہ ہوگیا تھا کہ اب وہ پورےایک گھنٹہ تاخیر سےڈیوٹی پر پہونچےگی اور اِس ایک گھنٹہ میں کیا کیا فسانےبن گئےہوں گے‘ اُسےاِس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا ۔
سندھیا سےکسی بات کی توقع نہیں تھی کہ وہ کچھ ایسا کرےجس سےکوئی نئی کہانی نہ بن پائے۔
چنٹو نےرو رو کےپورا کمرہ سر پر اُٹھا رکھا ہوگا ۔ رونےکی وجہ سےاُس کی آنکھیں سُرخ ہوکر سوج گئی ہوں گی جو شام تک سوجی رہےگی ۔
اُس کی آنکھوں کو دیکھتےہی شوانی اُس پر برس پڑےگی ۔
” آج پھر چنٹو کو رُلادیا ؟ میں تم کو الگ سےپیسےکس بات کےدیتی ہوں ؟ اگر تم چنٹو کےساتھ بھی عام بچوں کا سا سلوک کرو تو پھر عام بچوں میں اور چنٹو میں فرق کیا ہی؟ میں تمہاری سسٹر سےشکایت کردوں گی کہ تم مجھ سےالگ سےپچاس روپےلیتی ہو ۔“
دھمکی ایسی تھی کہ جس کےتصور سےہی وہ کانپ اُٹھتی تھی ۔
اگر سسٹر کو پتہ چلا کہ وہ شوانی اور دُوسری عورتوں سےبھی الگ سےپیسہ لیتی ہےتو وہ ایک لمحہ بھی اُسےکیئر ہوم میں رکھنےنہیں دےگی ۔
اُس کی نوکری جاتی رہےگی ۔ اور نوکری چلی گئی تو ؟
اس تصور سےہی اُس کےماتھےپر پسینےکی بوندیں اُبھر آئیں ۔ چنٹو کی عادت سی بن گئی تھی کہ وہ جیسےہی ماں سےبچھڑتا تھا ‘ دہاڑیں مار مار کر رونےلگتا تھا ۔ صرف اُسی کی گود میں بہل پاتا تھا ۔
آج شوانی اُسےسندھیا کےپاس یہ سوچ کر چھوڑگئی ہوگی کہ وہ تو تھوڑی دیر میں آجائےگی اور روتےچنٹو کو بہلا لےگی ۔
لیکن بدقسمتی سےوہ آج ایک گھنٹہ لیٹ پہونچ رہی ہے۔
تھوڑی دیر سےآنکھ کھلی جس کی وجہ سےگھر سےنکلنےمیں دس منٹ لیٹ ہوگئی تھی جس کی وجہ سےجو بس اُسےریلوےاسٹیشن تک لےجاتی تھی ‘چھوٹ گئی ۔
دُوسری بس آنےمیں ٥١ منٹ لگ گئے۔
اسٹیشن پہونچی تو لوکل چھوٹ گئی تھی ۔ دُوسری ٹرین ٥١ ۔ ٠٢ منٹ لیٹ آئی جو راستےمیں دس منٹ لیٹ ہوگئی ۔ پھر ریلوےاسٹیشن سےکیئر ہوم کےلئےبس کاانتظار
ہر جگہ تاخیر تاخیر تاخیر !
اُسےپتا تھا اُس کےدیر سےآنےسےنہ تو سسٹر اُسےکچھ بولےگی اور نہ سندھیا ۔
دونوں کو پتا تھا کہ وہ کافی دُور سےآتی ہے۔ سات بجےہوم پہونچنےکےلئےاُسےرات ساڑھےپانچ بجےگھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ اِس کےباوجود وہ کبھی کبھار ہی لیٹ ہوتی تھی ۔ اس میں اِس کا عمل دخل نہیں ہوتا تھا ۔ لوکل یا بس لیٹ ہونےکی وجہ سےہی تاخیر سےکیئر ہوم پہونچ پاتی تھی ۔
اور پھر دِن بھر ٠٣ بچوں کی ماں بن کر اُن کا خیال رکھتی تھی ۔کبھی کبھی تو بچوں میں اِتنی اُلجھ جاتی تھی کہ دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھا پاتی تھی ۔
روزانہ کا یہ معمول تھا جب بھی وہ دوپہر کا کھانا کھاتی تھی ۔ اُس کی گود میں کوئی نہ کوئی روتا ہوا بچہ ضرور ہوتا تھا ۔ وہ کھانا بھی کھاتی اور بہلاتی بھی ۔
کیئر ہوم میں جتنےبھی گاہک تھےسب اُس سےخوش تھے۔
چھوٹےبچےتو زبان سےاِس کی خدمت کےبارےمیں اپنےماں باپ کو کہہ نہیں پاتےتھے۔ لیکن جب وہ اُسےدیکھ کر ماں کی گود سےاُس کی طرف ہاتھ پھیلا کر مسکراتے، لپکتےتھےتو ماں باپ اندازہ لگا لیتےتھےوہ اُن کےبچوں کا کتنا خیال رکھتی ہے۔
ہاں بڑےبچےجو بول سکتےتھےوہ ماں باپ سےتعریف کرتےتھے۔
” رادھا آنٹی بہت اچھی ہیں ، ہم سےبہت پیار کرتی ہیں ، ہمارا بہت خیال رکھتی ہے، ہم سےبڑی اچھی اچھی باتیں کرتی ہیں ۔ “
اِس وجہ سےگاہکوں میں اُس کی امیج بہت اچھی تھی ۔
لیکن کبھی کبھی کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوجاتی تھی جس کی وجہ سےاُس کی امیج کو دھکّا پہونچنےکا خطرہ پیدا ہوجاتا تھا ۔بلکہ اُسےاپنی نوکری بھی خطرےمیں محسوس ہوتی تھی ۔
اور نوکری خطرےمیں پڑنےکےتصور سےہی وہ کانپ اُٹھتی تھی ۔
بوڑھےماں باپ ، دو جوان بہنیں اور دو نکمّے، آوارہ بھائیوں کی نگہداشت کا سارا بوجھ اُسی پر تھا ۔ سسٹر اُسےتنخواہ کےطور پر ٣ ہزار روپےدیتی تھی ۔
اُسےاِس بات کا علم تھا کہ وہ اچھی سےاچھی غیر سرکاری نوکری بھی کرتی تو شاید اُسےاِتنی تنخواہ نہیں ملتی ۔ اِس کےعلاوہ بچوں کےماں باپ اُسےخوشی سےچالیس پچاس روپےہر مہینہ دےدیتےتھے۔ یہ سوچ کر کہ اِس لالچ سےشاید وہ اُن کےبچےکا اچھی طرح سےخیال رکھےگی ۔
اس نوکری کےچھوٹ جانےکا مطلب تھا پھر سےایک بار بےکاری کےغار میں بھٹکنا ، ماں باپ کی جھڑکیاں ، بہنوں کےطعنےاور بھائیوں کی گالیاں سننا ۔
گھر کےحالات کچھ ایسےہوگئےتھےکہ اگر اُسےکسی کےگھر میں برتن مانجھنےکا کام بھی مل جاتا تو وہ بھی کرنےکےلئےتیّار ہوجاتی ۔
اس کےمقابلےتو یہ کافی اچھا ، مختلف اور آمدنی والا کام تھا ۔
اُسےکیئر ہوم میں ٠٣ بچوں ک دیکھ بھال کرنی پڑتی تھی ۔
شہر کی ایک بڑی سی رہائشی کالونی میں سسٹر روزی نےیہ چلڈرن کیئر ہوم جاری کر رکھا تھا ۔
اِس کالونی میں زیادہ تر افراد نوکری پیشہ تھے۔ ان میں سےکئی ایسےبھی تھے۔ دونوں میاں بیوی نوکری کرتےتھے۔ ان کےگھر میں بچوں کی دیکھ بھال کرنےوالا کوئی نہیں تھا۔
بچےدو ماہ سےلےکر دس سال تک تھے۔
اُن بچوں کو وہ کس کےسہارےاکیلےگھر میں چھوڑ کر دُور دراز کےعلاقوں میں نوکری کےلئےجائیں ؟
پورےوقت کےلئےوہ نوکرانی نہیں رکھ سکتےتھے۔ کیونکہ ایسےکاموں کےلئےنوکرانیاں اتنی تنخواہ کی مانگ کرتی تھیں جو اُن کی کل تنخواہ کےنصف سےبھی زائد ہوتی تھی ۔
ایسےتمام نوکری پیشہ افراد کا وہ واحد سہارا سسٹر روزی کا چلڈرن کیئر ہوم تھا ۔
مائیں اپنےبچےڈیوٹی پر جاتےہوئےکیئر ہوم میں چھوڑ جاتی تھیں اور شام کو ڈیوٹی سےواپس آتےہوئےاُنھیں واپس اپنےگھروں کو لیکر جاتی تھیں ۔
اِس طرح اس کیئر ہوم میں روزانہ سیکڑوں بچےآتےاور دِن بھر وہاں رُک کر شام کو واپس اپنےگھروں کو چلےجاتےتھے۔
ان بچوں کی دیکھ بھال کےلئےسسٹر روزی نےکئی نوکرانیاں رکھی تھیں ۔وہ بھی اُن میں سےایک تھی۔ اس کےساتھ ساتھ سندھیا بھی تھی ۔ دونوں مل کر ٠٣ بچوں کا خیال رکھتی تھیں ۔
سندھیا اور اُس میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
وہ ایک گریجویٹ ، سلجھی ہوئی لڑکی تھی ۔
لیکن سندھیا ایک جاہل ، اُجڈ اور گنوارقسم کی عورت تھی۔
وہ سویری٧ بجےسےرات کے٨ / ٩ بجےتک ڈیوٹی دینےپر یقین رکھتی تھی، بچوں کا کس طرح خیال رکھا جائےاُس نےسیکھا نہ تھا اور نہ اُسنےسیکھنےکی ضرورت محسوس کی تھی ۔
” ارے! میں اپنےبچوں کا اِس طرح سےخیال نہیں رکھتی ہوں تو کیا اِن لوگوں کا خیال رکھوں۔ اُن کےماں باپ نےکیا اُنھیں ہمارےلےجنا ۔ پیدا کیا اُنھوں نےاور یہاں ہمارےپاس لاکر چھوڑ گئے۔ “
” سندھیا تم اس کام کےپیسےبھی تو لیتی ہو ؟ “
” بی بی میں پیسےان بچوں پر نظر رکھنےکےلیتی ہوں ۔ یہ کمرےکےباہر تو نہیں جارہےہیں ۔ کوئی اُنھیں اغوا کرنےکی کوشش تو نہیں کررہا ہے؟ رات دِن ان کی خدمت کرنےکےنہیں ؟ “
سندھیا کی باتوں اور حرکتوں سےاسےاُلجھن ہوتی تھی ۔ اسےسندھیا کی نہ تو کوئی بات پسند تھی اور نہ کوئی حرکت ۔ کبھی کبھی دِل میں آتا تھا کہ وہ سسٹر سےاس کی شکایت کردےیا پھر سسٹر سےکہہ کر سندھیا کےبدلےمیں کسی اور کو اپنےمعاون کےطور پر مانگ لے۔
مگر اس کا انجام کیا ہوگا اُسےاس بات کا اندازہ تھا ۔
ار وہ سسٹر سےسندھیا کی شکایت کرتی تو سسٹر اُےفوراً اُسےاِس کام سےنکال دیتی ۔
یا وہ سندھیا کےبدلےمیں کسی اور کو مانگ لیتی تو سندھیا جس کسی کےساتھ رہتی اُ س کی حرکتوں کی وجہ سےوہ سسٹر سےاُس کی شکایت ضرور کرتی اور سسٹر اُسےکام پر سےنکال دیتی ۔
اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ سندھیا کی نوکری جائے۔
کیونکہ اُسےپتا تھا سندھیا بھی اُسی کی طرح بہت ضرورت مند ہے۔
اِسی نوکری پر اُس کا گھر چلتا تھا ۔
اُس کا ایک آوارہ شرابی شوہر تھا جو کام نہیں کرتا تھا لیکن روزانہ شراب پینےکےلئےاُس سےلڑجھگڑ کر پیسےضرور لےجاتا تھا ۔ اُس کےچار بچےتھے۔ سب سےچھوٹا لڑکا ٢ سال کا تھا ۔وہ اُن سب کو اکیلا اپنےگھر چھوڑ کر آتی تھی ۔ ان سب کا خیال اس کی بڑی لڑکی رکھتی تھی ۔ جس کی عمر ٠١ سال کےقریب ہوگی ۔
سندھیا کا اس نوکری سےنکال دیا جانا ان سب کےلئےبھکمری کا پیغام لےکر آتا ۔ اس لئےوہ سندھیا اور اس کی حرکتوں کو برداشت کئےجارہی تھی ۔
ان کےپاس جو ٠٣ بچےتھےان میں سےتقریباً دس بچےایک سال سےبھی کم عمر کےتھے۔چنٹو اور رنیتو صرف دو ماہ کےتھے۔ دس بچےپانچ سال سےکم کےتھےباقی پانچ سال سےبڑےتھے۔
بڑےبچےان کےلئےکوئی مسئلہ نہیں تھے۔
جب ان کےماں باپ اُنھیں چھوڑ کر جاتےتھےتو ان کا اسکول کا بستہ ان کےساتھ ہوتا تھا ۔وہ بچےایک کونےمیں بیٹھ کر پڑھائی کیا کرتےتھے، جب ان کی اسکول کا وقت ہوجاتا تو وہ دونوں ان بچوں کو یونیفارم پہنا کر تیار کرتیں اور اسکول کی بس یا رکشاتک چھوڑ آتیں ۔
ان میں سےکچھ بچےاسکول چھوٹنےکےبعد سیدھےگھر چلےجاتےتھے۔کیونکہ تب تک ان کےماں باپ گھر واپس آجاتےتھے۔کچھ بچےاسکول سےدوبارہ کیئر ہوم میں آجاتےتھے۔ کیونکہ ان کےماں باپ دیر سےگھر آتےتھے۔ اِس لئےوہ ڈیوٹی سےآکر اُنھیں کیئر ہوم سےلےکر جاتےتھے۔
پانچ سال کےبچےآپس میں یا پھر کمرےمیں رکھےکھلونوں سےکھیلا کرتےتھے۔
سب سےبڑا مسئلہ ٢ ماہ سے١ سال کی عمر کےجو بچےتھے‘ ان کا تھا ۔ ایک ایک لمحہ ان کا خیال رکھنا پڑتا تھا ۔ اُنھیں وقت پر دُود ھ ، دو ائیں یا دُوسری چیزیں دینا ۔ پیشاب ، پاخانےکی صورت میں اُن کےکپڑےتبدیل کرنا ، رونےکی صورت میں اُنھیں بہلانا ۔
پھر عام طور پر اس عمر کےبچےصرف ماں باپ سےہی بہلتےہیں ۔ ایک بار اگر رونا شروع کردیں تو پھر اُنھیں بہلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
بڑےبچوں کو تو مار کےخوف سےچپ کرایا جاسکتا ہے۔
لیکن اِس عمر کےبچوں کےسامنےیہ ہتھیار بھی ناکارہ ثابت ہوتا تھا ۔ ایسی بچوں کا وہ ماں بن کر خیال تو رکھ سکتی تھی لیکن ماں نہیں بن سکتی تھی ۔ بچےماں کےلمس سےہی چپ ہوجاتےہیں ۔ بھلےوہ اُنھیں لاکھ ماں سا لاڈ ، پیار ، دُلار دےلیکن ماں کا لمس کیسےدےسکتی تھی ۔جس سےوہ آشنا تھے۔
اُسےپتا تھا اگر اس نےکسی بھی بچےکو سنھالنےمیں ذرا بھی لاپرواہی کی تو اِس کی سزا اسےہی بھگتنی پڑےگی۔
راہیہ کو ہر ایک گھنٹےکےبعد دوا دینی پڑتی تھی ۔ اگر اس نےاسےباقاعدگی سےدوا نہیں دی تو وہ بیمار ہوجائےگی ۔ راہیہ کی ماں صرف رات بھر اسےسنبھالےگی ۔دُوسرےدِن وہ اس کےپاس چھوڑ کر جائےگی اور دُوسرےبچوں کےساتھ بیمار راہیہ کو اسی کو سنبھالنا پڑےگا ۔ گوتم کو ہر ایک گھنٹےپر دُودھ دینا پڑتا تھا ۔ اگر اُسےدودھ نہ ملےتو وہ رو رو کر سارا کمرہ سر پر اُٹھا لیتا تھا ۔ اور اُسےروتا دیکھ کر دوسرےبچےبھی رونےلگتےتھے۔بچوں کو یہ عادت ہوتی ہےکہ اگر وہ کسی کو روتا ہوا دیکھتےہیں تو خود بھی رونا شروع کردیتےہیں ۔
اِس سےبہتر تھا کہ ٥١ ۔ ٠٢ روتےہوئےبچوں کو سنبھالنےکےبجائےگوتم نہ روئےاس بات کی ترکیب کی جائے۔
نِکیتا صرف ٨ مہینےکی ہے۔اس کا باپ اسےوہاں چھوڑ جاتا ہے۔ اور اسےلینےکےلئےبھی آتا ہے۔اس کی ماں جب وہ ٥ مہینےکی تھی تو کسی کےساتھ بھاگ گئی تھی ۔ ا ب اس کا باپ ہی ماں بن کر اس کی پرورش کررہاہے۔
اشونی کی صرف ماں ہے۔اُس کےباپ نےکسی اور کےساتھ دُوسری شادی کرلی ہے۔ مجبوراً اپنا گھر چلانےکےلئےاس کی ماں کو نوکری کرنی پڑی ۔ وہ آٹھ مہینےکا ہے۔اس کی ماں اس کےپاس اشونی کو چھوڑ کر نوکری کرنےجاتی ہے۔
جب ماں باپ کیئر ہوم میں بچےچھوڑ کر جاتےہیں تو ان کےلئےسیکڑوں ہدایتیں دےجاتےہیں ۔
” ہر دوگھنٹےکےبعد دُودھ پلاتی رہنا ، دوا باقاعدگی سےدینا ، اگر پاخانہ یا پیشاب کرےتو فوراً صاف کردینا ، زیادہ دیر کھلا رہنےسےاُسےسردی ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر نےسختی سےمنع کیا ہےتو بچےکو سردی نہیں ہونی چاہیئے۔ اس بار سردی ہوئی تو اسےنمونیہ ہونےکا ڈر ہے۔ دوپہر کو کپڑےبدل کر کاجل پاو¿ڈر لگادینا ۔ شام کو بچہ اچھی حالت میںہونا چاہیئے۔ اسےراہل سےدُور رکھنا ، راہل بیمار ہےکہیں اس کی بیماری اسےنہ لگ جائے۔
چھوٹےبچوں کےلئےتو ہدایتیں تھیں ۔ بڑےبچوں کےلئےکوئی ہدایتیں نہیں ہوتی تھیں ۔ کیونکہ بچےخود ہدایت دیتےتھے۔
” ممی نےکہا ہے۔ ١١ بجےدوائی دیجئےگا ۔ “
” ممی نےکہا ہے۔٠١ بجےوہ چاکلیٹ کھالینا جو اُنھوں نےدی ہے۔ “
” ممی نےکپڑےبدل کر نہلانےکےلئےکہا ہے۔ “
بچےخود فرمائش کرتے، ایسےبچوں کی فوراً فرمائش پوری کرنی پڑتی تھی ۔ نہ کرنےکی صورت میں وہ باپ سےشکایت کردیتے، ماں باپ اُسےباتیں سناتےاور سسٹر روزی کو بھی شکایت کردیتےاور اسےسسٹر روزی کی بھی باتیں سننی پڑتیں ۔ ان تمام خوف اور ڈر سےبےنیاز کوئی تھا تو وہ سندھیا ۔
ہر بچےسےوہ پوچھتی ۔
” اےآج ٹفن میں کیا لایا رے؟ “
اگر بچےکےٹفن میں کوئی اچھی چیز رہتی تو وہ اسےخود کھاجاتی تھی ۔ بچوں کےچاکلیٹ بسکٹ بھی آدھےسےزیادہ خود کھالیتی تھی ۔ ذرا ذرا سی بات پر بچوں کو بری طرح مارتی تھی اور اُنھیں دھمکاتی بھی تھی ۔ اگر اُنھوں نےاپنےماں باپ سےشکایت کی تو کل اس سےزیادہ مار پڑےگی ۔
اس دھمکی کےبعد بچےشکایت نہیں کرتےتھے۔اگر کسی نےکچھ کہہ دیا اور اسےباتیں سننی پڑتی تھی تو دُوسرےدِن اس بچےکو اس بری طرح مارتی تھی کہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرتا تھا ۔
اُسےیہ سب اچھا نہیں لگتا تھا ۔
اُس کی سوچ الگ تھی ۔
اُسےماں باپ کےدِلوں کا پتا تھا ۔
ماں باپ اپنےبچوں کو ایک لمحہ کےلئےبھی کبھی جدا نہیں کرتےتھے۔ اگر وہ جدا کرتےبھی ہیں تو ان کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہوتی ہے۔ جو ماں باپ اپنےبچوں کو ان کےپاس چھوڑ جاتےہیں وہ سب مجبور ہیں ۔ پیٹ کی خاطر ، روزی ، روٹی کی خاطر وہ اتنا بڑا پتھر اپنےدِل پر رکھتےہیں ۔
ایسےمیں ان ماں باپ کےجذبات سےکیوں کھیلا جائے۔
سسٹر روزی ان بچوں کو سنبھالنےکےاسےپیسےدیتی ہے۔
پھر اپنےکام سےایمانداری کیوں نہ برتی جائے۔ بےایمانی برت کر کیا حاصل ؟
اُس کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔
وہ ماں نہیں بنی تھی ۔ لیکن ان ٠٣ بچوں کو سنبھالتےہوئےکب وہ ان ٠٣ بچوں کی ماں بن گئی تھی اسےبھی پتہ نہیں چل سکا تھا ۔

٭٭٭

پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)














افسانہ دہشت کا ایک دِن از:۔۔ایم مبین
جب وہ گھر سےنکلا تو سب کچھ معمول کےمطابق چل رہاتھا ۔
بلڈنگ کا واچ مین اُسےدیکھ کر کھڑا ہوگیا اور اُس نےاُسےسلام کیا ۔ اُس نےسر کےاِشارےسےاُس کےسلام کا جواب دیا ۔ آگےبڑھا تو ایس ۔ ٹی ۔ ڈی میں بیٹھےساجد نےاُسےسلام کیا ، خلاف معمول اُس دِن اُس کےپی ۔ سی ۔ او پر بہت زیادہ بھیڑ تھی اور زیروکس نکالنےوالوں کی بھی قطار لگی تھی ۔ کلاسک آئیل ڈپو میں بیٹھےگڈو نےاُسےسلام کیا ۔ اُن کےسلام کا جواب دیتا جب وہ سیڑھیوں سےنیچےاُترا ۔
سامنےآلو پیاز والےدوکانداروں کی شناسا صورتیں دِکھائی دیں ۔ اور وہی رکشا ، ہاتھ گاڑی ، موٹر سائیکل ، اسکوٹروں کی ریل پیل اور اُن کےہارن کا شور اُن کےدرمیان سےراستہ بناتا وہ بڑی مشکل سےآگےبڑھا ۔
بسم اللہ چکن سینٹر پر چکن خریدنےکےلئےلوگوں کی قطار لگی تھی ۔ ایک تختی پر آج کا نرخ لکھا تھا۔ لٹکتی تختی ہوا کےساتھ گول گول گھوم رہی تھی ۔
اُس کےسامنےوالی چکن کی دُکان پر نرخ ایک روپیہ کم تھا ۔
سدگرو ہوٹل کےباہر مٹھائی بنانےوالا پیاز کےبھجئےتل رہا تھا ۔ بڑےسےطباق میں وہ جلیبیاں ، وڑےاور آلو کےپکوڑےپہلےہی تل چکا تھا ۔ گلزار کولڈرنک میں اِکّا دُکّا گاہک بیٹھےمشروب کا مزہ لےرہےتھے۔
برف کی گاڑی آگئی تھی ‘ برف کی بڑی بڑی لادیاںاُس پر سےاُتاری جارہی تھیں ۔ برف لینےوالوں کی بھیڑ تھی ۔ جیسےہی کوئی گاہک برف کی قیمت ادا کرتا ، دو آدمی بڑی آہنی قینچی میں برف کی لادی پکڑ کر اُس کےرکشا میں رکھ آتے۔
ماموں ابوجی کی دوکان پر دُودھ لینےوالوں کی بھیڑ لگی تھی ۔ اُس کےسر پر دُودھ کےنرخ کی تختی ہوا سےگھوم رہی تھی ۔
” ٣ روپیہ پاو¿ ، ٠١ روپیہ کا ایک کلو ، تین روپیہ پاو¿ ، دس روپیہ ایک کلو ۔“ ٹماٹر فروخت کرنےوالےزور زور سےآوازیں لگا رہےتھے۔
” بھائی السلام وعلیکم ! “ آواز لگاتے، لگاتےانور اور شکیل نےحسب معمول اُسےسلام کیا ۔ سلام کا جواب دےکر خود کو بھیڑ کےدھکّوں اور نیچےکےکیچڑ سےبچاتا وہ آگےبڑھا ۔
رکشہ کی قطار میں کھڑےعزیز نےاُسےسلام کیا ۔
آگےبڑھا تو پولس اسٹیشن کےباہر کئی سپاہی کھڑےتھےاور ایک سپاہی اُنھیں اُن کی ڈیوٹی کا ایریا بتا رہا تھا ۔
” نمسکار صاحب ! “ ایک کانسٹبل نےاُسےسلام کیا ۔
” ارےپوتدار ! چلو ۔ “اُس نےجواب دیا ۔
” نہیں آج میری ڈیوٹی نہیںہے‘ شاید کوئی دُوسرا سپاہی آئے۔ “ سپاہی نےجواب دیا۔
مرچی والوں کی دُکان کےپاس سےگذرتےہوئےاُسےکھانسی آگئی ۔ اُس نےکھانسی پر قابو پایا اور آگےبڑھا ۔ سنگم جویلرس کی دوکان بھی کھل گئی تھی ۔ راج دیپ ہوٹل کےکاو¿نٹر پر بیٹھےسندیپ نےاُسےنمسکار کیا اور باہر پوری بھاجی بنانےوالےآدمی کو گالی دیتےہوئےاُسےجلد آرڈر کا مال بنانےکےلئےکہا ۔
سنیما کی گلی سےہوتا وہ پوسٹ آفس تک آیا ۔ پوسٹ آفس کےباہر منی آرڈر ، رجسٹر کرنےوالوں کی بھیڑ تھی ۔ سعیدی ہوٹل کےباہر دوچار آوارہ لڑکےبیٹھےآنےجانےوالوں کو چھیڑ رہےتھےاور آنےجانےوالی عورتوں اور لڑکیوں پر بھدےفقرےکس رہےتھے۔
اُن سب سےگذر کر وہ وقت پر آفس پہونچ گیا اور آفس کےکاموں میں لگ گیا۔
آفس میں اُس دِن زیادہ بھیڑ تھی ، کام کا لوڈ بھی زیادہ تھا ۔ایک ، ایک آدمی کو نپٹاتےہوئےکب دو تین گھنٹےگذر گئےپتا ہی نہیں چل سکا ۔
اچانک اُس کےایک ساتھی موہن کو اُس کےبھائی کا فون آیا ۔
فون پر بات کرنےکےبعد جب اُس نےریسیور رکھا رکھا تو اُس کےچہرےپر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں ۔
” کیا بات ہے؟ “ اُس نےموہن سےپوچھا ۔
” بھائی کا فون تھا ۔ ناکےپر کسی وکیل کو گولی ماردی گئی ہے۔ وہ جگہ پر ہی مرگیا ۔ شہر میں بھگدڑ مچ گئی ہے۔ دوکانیں بند ہورہی ہیں ۔گڑ بڑ ہونےکا اندیشہ ہے‘اُس نےکہا ہےکہ میں آفس سےآجاو¿ں ۔ “
یہ بات سن کر اُس کےماتھےپر بھی شکنیں اُبھر آئیں ۔ اُس نےسوالیہ نظروں سےباس کی طرف دیکھا ۔
” میں فون لگا کر تفصیلات معلوم کرتا ہوں ۔ “ کہتےہوئےباس نےریسیور اُٹھایا ۔
دو تین نمبر ڈائل کرکےجھلّا کر ریسیور رکھ دیا ۔
” ٹیلی فون ڈیڈ ہوگیا ہے۔ “
تھوڑی دیر بعد پیون بھی واپس آگیا ۔ وہ کسی کام سےباہر گیا تھا ۔
” کیا ہوا جادھو ؟ “اُس نےپوچھا ۔
کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہےپورےشہر میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ کسی وکیل کو گولی مار دی گئی ہے۔ دوکانیں بند ہورہی ہیں ، لوگ اِدھر اُدھر بدحواسی سےبھاگ رہےہیں ۔ پتا چلا ہےکہ رکشا اور گاڑیوں پر پتھراو¿ کیا جارہا ہے۔ میری آنکھوں کےسامنےچار پانچ کانچ پھوٹی رکشا آئی ۔ سب سےزیادہ لفڑا نذرانہ کی طرف ہے۔ “
” نذرانہ ! “ یہ سنتےہی باس کےچہرےپر ہوائیاں اُڑنےلگیں ۔ میری بیٹی اِس وقت وہاں ٹیوشن کےلئےگئی ہوگی ۔
اور وہ گھبرا کر پھر ریسیور اُٹھا کر ٹیلی فون ڈائل کرنےلگا ۔ اتفاق سےٹیلی فون لگ گیا ۔
” مینا کہاں ہے؟ “ ٹیوشن کےلئےگئی ہے۔ ” ٹیوشن کا وقت تو ختم ہوگیا ‘ وہ ابھی تک واپس کیوں نہیں آئی ، سنا ہےاُس علاقےمیں بہت گڑبڑ چل رہی ہے؟ فوراً کسی کو بھیجو اور اُسےٹیوشن کلاس سےلےآو¿ ۔ “ کہتےاُس نےٹیلی فون کا ریسیور رکھ دیا ۔ لیکن اُس کےچہرےپر تفکّر کی شکنیں تھیں ۔
اِس کےبعد اُس نےگھر ٹیلی فون لگا کر حالات معلوم کرنےکی کوشش کی تو ٹیلی فون ڈیڈ ہوچکا تھا ۔ آفس سےباہر جھانکا تو ساری دوکانیں بند ہوگئی تھیں ، سڑکیں سنسان ہوگئی تھیں ، سڑکوں پر کوئی سواری دِکھائی نہیں دیتی تھی ۔ لوگ دودو چار چار کی ٹولیاں بنا کر آپس میں باتیں کررہےتھے۔
” کیا کیا جائے؟ “ اُس نےباس سےپوچھا ۔ ” آفس بند کردیا جائے۔ “
” بالکل بند کردیا جائےجلدی سےباقی بچےکام نپٹا لیجئے۔ “ باس نےکہا اور پھر گھر فون لگانےکی کوشش کرنےلگا ۔
” جادھو ! سامنےسےنسیم سےموبائیل لےکر آو¿ ۔ شاید اُس سےرابطہ قائم ہوسکے۔ “ اُس نےپیون سےکہا ۔
جادھو نےموبائیل فون نہیں لایا ‘ خود نسیم موبائیل فون لےکر آگیا ۔
”صاحب سارےٹیلی فون ڈیڈ ہوگئےہیں ‘ میں بھی کئی جگہ فون لگانےکی کوشش کررہا ہوں ، آپ کو کون سا نمبر لگانا ہے؟ “
باس نےنمبر بتایا نسیم نےنمبر لگانےکی کوشش کی مگر نمبر نہیں لگا ۔
” لگتا ہےسارےشہر کےٹیلی فون بند کردئےگےہیں ۔ “
سب کام ختم کرنےمیں لگ گئے۔ اُس نےدوچار بار گھر فون لگانےکی کوشش کی اتفاق سےایک بار لگ گیا ۔
” کیا صورتِ حال ہے؟ “ اُس نےپوچھا ۔
”یہاں پر گڑبڑ ہے۔ ساری دُکانیں بند ہوگئی ہیں ۔ سڑک کی دونوں طرف ہزاروں افراد کی بھیڑ ہے‘ جو ایک دُوسرےکےخلاف نعرےبازی کر رہےہیں ، پتھراو¿ بھی ہورہاہےمعاملہ کبھی بھی بگڑ سکتا ہے۔“
” میں گھر آو¿ں ؟ “ اُس نےپوچھا ۔
” گھر آنےکی حماقت بھول کر بھی نہیں کرنا ۔ سارےراستےبند ہیں ، راستوں پر لوگوں کی بھیڑ ہےاور جوش میں بھری بھیڑ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتی ہے۔ آپ جہاں ہیں وہیں رہیں ۔ جب حالات معمول پر آجائیں گےتو آجانا ۔ ورنہ آنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آفس کےآس پاس آپ کےبہت دوست ہیں ‘ کسی کےپاس بھی رُک جائیےاور مجھ سےرابطہ قائم رکھئے۔ “ بیوی نےجواب دیا ۔
اُس نےریسیور نیچےرکھا ۔
آفس بند کرنےکی تیاری ہوگئی تھی ۔ موہن کا بھائی اسکوٹر لےکر آگیا تھا ۔
” چلو میں چلتا ہوں ۔ “
” سنو ۔ “ اُس نےکہا ۔ ” پرانےپل کےراستےنہیں جانا ‘اُدھر خطرہ ہے۔ “
” نہیں میں پل کےراستےہی آو¿ں گا ۔ “ موہن نےکہا ۔
صاحب اورجادھو بھی آفس بند کرکےجانےکی تیّاری کرہےتھے‘ اُن کےگھر آفس سےکافی قریب تھے۔
” تم کیا کروگے؟ “ باس نےپوچھا ۔
”بیوی کو فون کیا تھا ‘ وہ کہتی ہےمیں گھر واپس آنےکی حماقت نہ کروں ۔ سارےراستےبھیڑ سےبھرےہیں ‘ لوگوں کےہاتھوں میں ہتھیار ہے، پتھراو¿ ہورہا ہے، راستےمیں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ میں جن راستوں سےگذر کر گھر پہونچتا ہوں ‘ وہاں تو بہت زیادہ تناو¿ ہےاور پھر اُن علاقوں کا ہر فرد مجھےپہچانتا ہے۔ ذرا سی گڑبڑی کی صورت میں میری جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ “
” تو میرےگھر چلو ‘ جب حالات معمول پر آجائیں تو گھر چلےجانا ۔ “ باس بولا
نہیں میں یہاں رُکتا ہوں ۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کےگھر آجاو¿ں گا ۔ “ آفس بند کردیا گیا ۔ باس اور جادھو چلےگئے۔ وہ آفس کےسایےمیں کھڑا ہوگیا ۔
اُسی وقت سامنےسےمصطفیٰ آتا دِکھائی دیا ۔
” مصطفیٰ کیا بات ہے؟ “ اُس نےپوچھا
” آپ کی طرف ہی آرہا تھا جاوید بھائی ! پورےشہر میں گڑبڑ چل رہی ہے۔ آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں ہے‘ چلئےمیرےگھر چلئے۔ رات میں بھی میرےگھر ہی رُک جانا ۔ میں نےبھابھی کو فون کیا تھا ۔ بھابھی نےکہا ہےکہ میں آپ کو گھر جانےنہ دوں ۔ اپنےگھر روک لوں ۔ وہاں بہت گڑبڑ ہے۔“
وہ باتیں کرتا مصطفیٰ کےساتھ اُس کےگھر چل دیا ۔
” گڑبڑ شروع کیسےہوئی ؟ “
” پتہ نہیں ! وہ وکیل شہر کےچوراہےسےہوتا کورٹ جارہا تھا ۔ اچانک دو موٹر سائیکل سواروں نےاُسےروک کر اُس کےسر میں گولی مار دی ‘ وہ وہیں ڈھیر ہوگیا ۔ ہوگی کوئی پرانی دُشمنی یا گینگ وار کا چکّر ۔وہ وکیل ویسےبھی اِس طرح کےکالےکارناموں میں ملوث تھا اور کافی بدنام تھا ۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کےکیس کی پیروی بھی وہی کرتا تھا ۔ اِس لئےاس جماعت نےاسےسیاسی اور پھر فرقہ ورانہ رنگ دےدیا ۔ دوکانیں بند کرانےلگے۔ دوکانیں بند نہ کرنےوالےدوکانداروں کو مارتےپیٹتےاور اُن کی دوکانوں پر پتھراو¿ کرتے۔ سامنےجو بھی رکشاآتی اُس کو روک کر اُس کےرکشا ڈرائیور کو مارتے، رکشاکی کانچ پھوڑ دیتے، اُسےاُلٹ کر آگ لگا دیتے۔ خاص طور پر داڑھی والےڈرائیورس کو نشانہ بناتے۔ “ غصےسےاُس نےاپنےہونٹ بھینچے۔
یہ بھی کوئی طریقہ ہے‘ معاملہ معمولی سا ہے۔ ذاتی دُشمنی یا کسی اور وجہ سےقتل ہوا ہوگا ۔ اُسےفوراً سیاسی اور فرقہ ورانہ رنگ دےکر شہر کا امن غارت کیا جائےاور شہریوں کی جان و مال سےکھیلا جائے۔
اُس نےمصطفیٰ کےگھر دوپہر کا کھانا کھایا ۔
اور دوبارہ گھر فون لگانےکی کوشش کی ‘ لیکن فون بند ہونےکی وجہ سےرابطہ قائم نہیں ہوسکا ۔
ایک گھنٹےبعد اچانک رابطہ قائم ہوگیا ۔
” یہاں بہت گڑبڑ ہے۔ “ بیوی بتانےلگی ۔ ” ہم بلڈنگ کےٹیرس پر گئےتھے‘ آس پاس ہزاروں لوگ جمع ہیں ۔ وہ حملہ کرنےکی تیّاریوں میں ہیں ۔ سامنےوالی مسجد پر پتھراو¿ ہورہا ہے۔ اسلامی ہوٹل پر پتھراو¿ کیا گیا تھا اور اُسےلوٹنےکی کوشش کی گئی تھی ۔ لیکن اُس ہوٹل کی گلی میں ہزاروں لڑکےجمع ہوگئےتھے۔ اُنھوں نےجوابی پتھراو¿ کیا تو حملہ آور بھاگ گئے۔ لیکن دونوں طرف سےسخت نعرےبازی جاری ہےاور پتھراو¿ بھی ہورہا ہے۔ حالات کبھی بھی بگڑ سکتےہیں ۔ آپ اِس طرف آنےکی قطعی جماقت مت کیجئے۔ رات میں بھی مصطفیٰ کےگھر ہی رُک جائیے۔ “
” دیکھو اگر بلڈنگ کو خطرہ محسوس ہوتو تم بچوں کو لےکر اپنےمیکےچلی جانا ۔ “
”ویسےتو بلڈنگ کو خطرہ نہیں ہےلیکن جس طرح سامنےلوگ جمع ہیں ‘ کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا کچھ ہوا تو میں اس سےپہلےہی بچوں کو لےکر میکےچلی جاو¿ں گی ۔ “ بیوی نےجواب دیا ۔
بیوی کا میکہ زیادہ دُور نہیں تھا اور وہ گھر سےنسبتاً محفوظ راستوں پر تھا ۔ اِس لئےاُسےاِس بات کا اطمینان تھا ۔ بیوی بچوں کو لےکر آرام سےمیکےپہونچ جائےگی جو کافی محفوظ علاقہ ہے۔ لیکن اپنےگھر کا کیا ؟
کچھ گڑبڑ ہوئی تو اُسےلٹنےاور جلنےسےکوئی نہیں روک سکتا ۔ اُنھیں وہ مکان لئےآٹھ مہینےبھی نہیں ہوئےتھے۔ ساری زندگی کی کمائی ، زیورات اور بینک کا قرض لگا کر اُنھوں نےوہ مکان لیا تھا اور دھیرےدھیرےاُس میں ضرورت کی ہر چیزسجایا تھا ۔ اگر وہ لوٹ لیا گیا یا جلا دیا گیا تو ؟
اُس کا دِل تیزی سےدھڑکنےلگا اور ماتھےپر پسینےکو بوندیں اُبھر آئیں ‘مصطفیٰ نےٹی وی لگایا ۔
ٹی وی کےہر چینل پر شہر میں ہونےوالےہنگاموں کی خبریں آرہی تھی ۔ شہر میں ایک وکیل کےقتل کےبعد ایک سیاسی پارٹی کےورکروں کا شہر میں ہنگامہ ، پتھرراو¿ اور توڑ پھوڑ ۔
پہلےاُس وکیل کا تعلق اس سیاسی پارٹی سےاس حد تک بتایا گیا کہ وہ اس پارٹی ،جماعت ،کےکیسوں کی پیروی کرتا تھا ۔
پھر خبروں میں اُس وکیل کو اِس سیاسی جماعت کا ورکربتایا گیا ۔
اور آخر میں اُسےاسی سیاسی جماعت کا صدر بنادیا گیا ۔
” ایک سیاسی جماعت کےصدر وکیل کےقتل کےبعد شہر میں سخت تناو¿ ، پتھراو¿ کی وارداتیں ، دُکانیں لوٹنے، چھرےبازی کی وارداتیں ۔ امول کاٹیکر نامی ایک شخص کو ایک ہجوم نےمار مار کر اَدھ مرا کردیا ۔ شری پروویژن نامی دوکان جلادی گئی ،مہادیو میڈیکل لوٹ لی گئی ۔ “ جیسی خبریں ہر چینل دینےلگا اور تناو¿ اور تشدد میں اضافہ کرنےلگا ۔
حالات سنگین ہوتےجارہےتھے۔ اُس کا دِل ڈوب رہا تھا ۔ اُسےلگا شہر بارُود کا ڈھیر بن چکا ہےاور اب وہ پھٹا ہی چاہتا تھا ۔ آنکھوں کےسامنےگجرات کےفسادات کےواقعات اور خبریں گھوم رہی تھیں ۔ لوگوں کو زندہ جلایا جانا ، چن چن کر لوگوں کو مارنا ، اُن کی اِملاک تباہ و برباد کرنا ، اُن کےمکانوں ، عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کرنا ۔
اُسےایسا محسوس ہورہا تھا ‘ اگر ایسا ہی کچھ یہاں بھی شروع ہوگیا تو اس سےزیادہ خوفناک واقعات یہاں پیش آسکتےہیں ۔ ممکن ہےکچھ لوگ گجرات کا اِعادہ کرنا چاہیں تو کچھ گجرات کا بدلہ لینا چاہیں ۔ دونوں صورتوں میں جو کچھ ہوسکتاہےاس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
اُس کا دِل ڈوبنےلگا اور آنکھوں کےسامنےاندھیرا سا چھانےلگا ۔ کیا یہی ہمارا مقدر بن گیا ہے؟
باہر لوگوں کی بھیڑ ٹولیوں کی شکل میں جگہ جگہ جمع تھی ۔ ہر کوئی پلان بنا رہا تھا ۔ اگر فساد شروع ہوگیا تو کیا کیا جائے۔ کچھ بچاو¿ کی ترکیبیں سوچ رہےتھے۔تو کچھ لوٹ مار کا پلان بنارہےتھے۔ تو کچھ جوابی کاروائی اور حملہ کی منصوبہ بندی کررہےتھے۔جو لوگ اس جگہ کو غیر محفوظ سمجھ رہےتھےوہ اس جگہ کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف جارہےتھے۔
کچھ جگہوں پر پولس کانام و نشان بھی نہیں تھا اور کچھ جگہوں کو پولس چھاو¿نی میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ایسا کچھ لوگوں کی حفاظت کےلئےکیا گیاتھا ۔ تو کچھ علاقوں کےلوگوں کو پوری طرح آزاد چھوڑ دیا گیا تھا ‘ وہ جو چاہےکرسکتےہیں ، اُن کو روکنےوالا کوئی نہیں ہے۔ تو کچھ علاقوں کو اِس طرح سیل کردیا گیا تھا کہ ان مقاموں پر پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہےاور وہ کچھ نہیں کرسکتےہیں ۔
شہر سےناخوش گوار واقعات کی خبریں آرہی تھیں ۔
ہر خبر کےبعد ایسا محسوں ہوتا تھا جیسےحالات سنگین سےسنگین ہوتےجارہےہیں ۔ تناو¿ اور تشدد جاری ہے۔ اُس نےکئی بار گھر فون لگانےکی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہیں ہوسکا جس کی وجہ سےاُس کی تشویش بڑھتی جارہی تھی ۔بیوی گھر میں اکیلی ہے، اُسےمیکےجانےکےلئےکہا تھا ۔ پتا نہیں وہ میکےگئی بھی یا نہیں ‘ اُسےمیکےچلےجانا چاہیئے، لیکن وہ جائےگی نہیں ، اُس کی جان اُس کےگھر میں اٹکی ہے۔
اِتنی مشکلوں ،اور مصیبتوں سےاُنھوں نےاپنا گھر بنایا تھا ، گھر کی ایک ایک چیز میں اپنا خون پسینہ لگایا تھا ۔ گھر کی ہر اینٹ میں اُن کےارمان ، خواب چنےہوئےتھے۔ بھلا وہ اِس گھر کو چھوڑ کر جاسکتی ہے؟ اُسےڈر ہوگا کہ اُس کےسارےیہ ارمان ، خواب جلا کر راکھ نہ کردئےجائیں ۔
لیکن اگر وہ ایسا سوچ رہی ہوگی تو وہ بےوقوف ہےاگر وہ گھر میں رہی تو نہ گھر کو بچا سکےگی اور نہ اپنےآپ کو نہ اپنےبچوں کو ۔
ایک اکیلی کمزور عورت بھلا کس طرح اپنےآپ کو بچا سکتی ہے۔ ہزاروں واقعات اس کےذہن میں گردِش کررہےتھے۔ ایسی عورتوں کو ہوس کا شکار بنا کر زندہ جلا دیا گیا بچوں کو سنگینوں اور ترشول سےچھید کر جلا دیا گیا ۔
” نہیں ! “ بےساختہ اُس کےمنہ سےچیخ نکل گئی ۔
” کیا ہوا ؟ “ مصطفیٰ نےچونک کر اُس سےپوچھا ۔
” کچھ نہیں ‘ ایک بھیانک خواب دیکھ رہا تھا ۔ “
” جاگتےہوئےبھی ؟ “ مصطفیٰ مسکرایا ۔
” جو کچھ ہورہا ہے‘ وہ بھیانک خواب سےبھی بدتر ہے۔ ایسےمیں جاگنا اور سوناسب برابر ہے۔ “ اُس نےکہا ۔
مصطفیٰ اُس کی بات کو سمجھ نہیں سکا ۔
شام کو اُس نےطےکیا کہ وہ تھوڑی دُور تک حالات کا جائزہ لےکر آئےگا ۔
مصطفیٰ نےاُسےایسا کرنےسےروکا کہ وہ گھر جانےکی حماقت بھری کوشش نےکرے۔ لیکن اُس نےاُسےیقین دِلایا کہ وہ گھر جانےکی کوشش نہیں کرےگا ۔
تھوڑی دُور گیا تو اُسےایک شناسا مل گیا ۔
” جاوید بھائی ! گھر جانےکی آپ کوشش نہ کریں ۔ اس میں بہت خطرہ ہے۔ آپ کا گھر جن راستوں پر ہےوہ خطروں سےبھرےہیں ‘ بہتر ہےکہ آپ رات یہاں ہی رُک جائیے۔ ویسےتو حالات معمول پر آگئےہیں لیکن کچھ کہا نہیں جاسکتا کب کیا ہوجائے۔ “
” نہیں ! میں گھر جانا نہیں چاہتا ہوں بس یوں ہی تھوڑی دُور تک ٹہل کر واپس آجاو¿ں گا ۔ “
” ویسےاگر آپ محفوظ راستوں سےگھر جانا چاہیں تو جاسکتےہیں ۔ ان راستوں پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آئیےمیں آپ کو گھر چھوڑ دوں ۔
اُس نےموٹر سائیکل پر بٹھایا اور محفوظ راستوں سےوہ گذرنےلگے۔ ان راستوں اور محلوں سےگذرتےایسا محسوس ہورہا تھا جیسےوہاں بہت کچھ ہوا ہے۔ سیاسی لیڈر اور بزرگ بھیڑ کو سمجھا کر روکنےکی کوشش کررہےتھے۔
گھر کےقریب پہونچا تو پیچھےوالی گلی ہزاروں لوگوں سےبھری تھی ۔ جنھیں دو لیڈران سمجھا کر خود پر قابو رکھنےکےلئےکہہ رہےتھے۔
گھر آیا تو بیوی بھڑک اُٹھی ۔
” اِتنا سمجھانےکےبعد بھی آپ نہیں مانے؟ جان خطرےمیں ڈال کر چلےآئے۔ “
” نہیں ‘ ایک پہچان والا مل گیا تھا اُس نےمحفوظ راستوں سےموٹر سائیکل پر لاکر چھوڑا ۔“
رات تک حالات معمول پر آگئےتھے۔
یہ طےتھا رات دہشت اور تناو¿میںگذرےگی ۔
لیکن دہشت کا ایک دِن تو بیت گیا تھا ۔


افسانہ قاتلوں کےدرمیان از:۔ایم مبین

ہوش میں آنےکےباوجود اُسےاحساس نہیں ہوسکا کہ وہ زندہ بھی ہےیا نہیں ؟
آنکھوں کےسامنےتاریکی چھائی ہوئی تھی اور سارا جسم درد سےبھرا پھوڑا محسوس ہورہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسےسارا جسم پٹیوں سےجکڑا ہے۔ آنکھوں پر بھی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں ۔ وہ آنکھیں کھولنےکی کوشش کر رہا تھا لیکن آنکھیں کھولنےمیں کامیاب نہیں ہوپارہا تھا ۔ اکثر ایسا محسوس بھی ہوتا کہ آنکھیں کھل گئیں تو بھی آنکھوں کےسامنےتاریکی چھائی رہتی ۔
یہ تاریکی نہ تو زندگی کی دلیل تھی اور نہ ہی موت کی علامت ! اگر وہ زندہ تھا تو پھر یہ چاروں طرف تاریکی کیوں چھائی ہے؟ اور اگر مرچکا ہےتو اُس کےجسم میں احساس کیوں زندہ ہے؟ اُسےکیوں محسوس ہورہا ہےکہ اُس کا سارا جسم دہکتا ہوا انگارا بنا ہوا ہے۔ اور سارا جسم پٹیوں سےڈھکا ہے۔
اُسےعلم تھا کہ وہ مرچکا ہے۔
اِتنا مار کھانےکےبعد اُس کا زندہ رہنا نا ممکن تھا ۔
چار پانچ سو لوگوں کےمجمع نےاُسےجانوروں کی طرح مارا تھا ۔ اُس پر لاتوں ، گھونسوں سےوار تو کئےتھےساتھ ہی ساتھ اپنےہتھیار بھی آزمائےتھے۔
ترشولوں سےاُس کےجسم کو کئی جگہ چھیدا گیا تھا ۔ خنجر اُس کےجسم میں اُتارےگئےتھے۔ لاٹھی ، ہاکی سےاُس کےسر پر وار کئےگئےتھے۔ اُس کےزمین پر گرنےکےبعد مجمع اُسےاپنےپیروں سےکچل رہا تھا ۔ اِس کےبعد اُس کا زندہ رہنا تو نا ممکن ہی تھا ۔
لیکن پھر بھی !اِس کےجسم میں احساس جاگا تھا ‘ اُس کا ذہن کام کرنےلگا تھا ۔ وہ مرگیا ہوتا ۔ وہ سوچ رہا تھا اور اِس وقت وہ قبر میں ہے‘ یہ قبر کی تاریکی ہےاور اُس کا جسم جو دُکھ رہا ہےیہ منکر نکیر کےگرجو کی مار کی وجہ سےدُکھ رہا ہے، وہ مسلمان ہےاپنےآپ کو وہ نیک مسلمان مانتا ہی نہیں ہے۔ ہفتہ میں ایک بار صرف جمعہ کو نماز پڑھتا تھا ‘ رمضان میں کچھ روزےرکھ لیتا تھا اور کبھی کبھی قرآن کریم کی تلاوت کرلیتا تھا ۔ ہاں اُس کےدل میں ایمان ضرور تھا کہ وہ مسلمان ہےلیکن صرف اِس بنیاد پر اُسےقبر کےعذاب سےنجات مل جائےگی ‘ اِس بات کا یقین تو اُسےبھی نہیں تھا ۔ اس لئےہوش میں آنےکےبعد وہ خود کو قبر میں محسوس کرنےلگا۔ لیکن اِس کےپاس سےجوآوازیں بلند ہورہی تھیں اُسےاِس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ وہ قبر میں نہیں ہے۔ چاروں طرف سےلوگوں کی کراہوں ، چیخوں کا شور اُبھر رہا تھا ۔ ” ڈاکٹر صاحب میں مرا ، میرا سارا جسم دُکھ رہا ہے، یہ درد مجھ سےبرداشت نہیں ہورہا ہے، ڈاکٹر صاحب آپ نےمجھےکیوں بچالیا ہے، مجھےبھی مرنےدیتے‘ اب میرا دُنیا میں کوئی بھی نہیں بچا ‘ میں جی کر کیا کروں گا ، کس کےلئےجیوں گا ؟
” ڈاکٹر صاحب ! بیڈ نمبر ٤٣ کےمریض کی حالت بہت خراب ہے ! ڈاکٹر صاحب ! یہ کیا ہورہا ہے‘ لوگ زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہیں ، ایک ایک سانس کےلئےلڑ رہےہیں اور آپ اُن پر توجہ دینےکی بجائےنرسوں سےخوش گپیّوں میں لگےہوئےہیں ؟ “ یہ آوازیں قبر سےنہیں اُٹھ سکتی تھیں ۔ حلق میں کانٹےسےپڑےہوئےتھےاور ہنوٹوں پر پپڑیاں جمی تھیں ۔ بڑی مشکل سےاُس نےاپنی گیلی زبان سےہونٹوں کو ‘ تھوڑا سا تھوک نگل کر اپنےحلق کو تر کرنےکی کوشش کی ۔
” مَیں کہاں ہوں ؟ بڑی مشکل سےاُس کےہونٹوں سےتین لفظ نکل پائے۔
” تم اسپتال میں ہو اور پورےچار دِنوں کےبعد تمہیں ہوش آیا ہے۔ “ اُس کےقریب سےایک نسوانی آواز اُبھری۔ اِس ایک آواز کےساتھ ہی طوفانی رفتار سےاُس کےذہن نےسب کچھ سوچ کر سارےحالات کا اندازہ لگا لیا ۔ تو وہ زندہ بچ گیا ہے۔ معجزہ ! اِتنا ہونےکےبعد تو وہ زندہ بچ ہی نہیں سکتا تھا ۔ پھر بھی زندہ بچ گیا ہے‘ یہ معجزہ ہے۔ اور اِس وقت اسپتال میں ہےشاید صحیح وقت پر وہ اسپتال میں پہونچ گیا اِس لئےزندہ ہے۔
” مگر مَیں یہاں کیسےآیا ؟ “
” تُم اِن ہزاروں لوگوں میں سےایک جو شہر کےمختلف اسپتالوں میں اِسی حالت میں آئےتھےاور زندہ بچ گئے۔ تمہارا سارا جسم زخموں سےبھرا ہےچہرےپر بھی گہرےزخم ہیں اِس لئےہم نےتمہارا سارا جسم پٹیوں سےڈھانک دیا ہےاور چہرہ بھی پٹیوں سےباندھ دیا ہے، تمہاری آنکھیں سلامت ہیں یا نہیں یہ تو پٹیاں کھلنےکےبعد ہی معلوم ہوگا ۔ “
” مجھےکچھ دِکھائی نہیں دےرہا ہے، گہری تاریکی ہے۔ کبھی کبھی ہلکی سی سُرخی لہرا جاتی ہےیا پھر ایک دودھیا روشنی ۔ “
” مبارک ہو ‘ اِس کا مطلب ہےتمہاری آنکھیں سلامت ہیں ۔ تمہارےزخم بھی بڑی تیزی سےبھر رہےہیں ۔ بھگوان نےچاہا تو تم بہت جلد اچھےہوجاو¿گے۔ “
نرس کی بات سن کر اُس کےاندر پھر سےجینےکی ایک نئی آرزو جاگ اُٹھی ‘ وہ مرا نہیں ، وہ زندہ ہی۔ شاید اُس کی آنکھیں بھی سلامت ہیں ، جسم کےزخم بھی اچھےہورہےہیں ۔ وہ بہت جلد اچھا ہوجائےگا ‘ چلنےپھرنےکےقابل ہوجائےگا اور اپنےگھر جاسکےگا ۔
” گھر “ اِس بارےمیں سوچ کر وہ اور اُداس ہوگیا ۔
گھر اب کہاں بچا ہے۔ وہ تو اِس کی آنکھوں کےسامنےجل کر راکھ ہوگیا تھا ۔ گھر کا کوئی بھی فرد بھی تو نہیں بچا تھا ۔ اُس نےاپنی آنکھوں سےاپنےہی گھر کی چتا میں اپنی بیوی بچوں کو جلتےدیکھا تھا ۔ اُس نےآگ میں لپٹی اپنی بیوی کی آخری چیخ اپنےکانوں سےسنی تھی ۔ جلتی آگ سےنکل کر وہ آگ سےباہر آنےکی کوشش کر رہی تھی اور جلتےگھر کےگرد بھیڑ نےجو گھیرا بنا رکھا تھا اُن کےہاتھوں کی لکڑیاں ، ترشول ، بھالےبیوی کو دوبارہ آگ میں دھکیل رہےتھے۔
ماحول میں انسانی جسموں کےجلنےکی سر پھاڑ دینےوالی بدبو تھی ۔ اِس بدبو میں شاید اُس کےبچوں کےجسم کی بدبو بھی شامل تھی ۔ وہ اُس سےزیادہ نہیں دیکھ سکا تھا کیونکہ کسی کی نظر اُس پر پڑی تھی ۔
” ارے ! یہ یہاں کس طرح پہونچ گیا ، یہ کیسےزندہ بچ گیا ؟ مارو اِسےمارو ۔ اُسےدیکھ کر کوئی چیخا تھا اور اُس کےبعد پورا مجمع اُس پر ٹوٹ پڑا تھا ۔
اُسےاپنےگھر والوں اور گھر کےبچنےکی آس تو قطعی نہیں تھی ۔ جو منظر اُس نےاپنی آنکھوں سےدیکھا تھا اُس کےبعد تو اُسےیقین ہورہا تھا کہ پورا محلہ نہیں بچا ہوگا ۔ پورےمحلےمیں نہ تو کوئی گھر باقی بچا ہوگا اور نہ کسی گھر کا کوئی مکیں ۔ وہ زندہ تو بچ گیا یہ معجزہ تھا کیوںنہ وہ گھر سےباہر چلا گیا تھا اگر وہ گھر میں ہوتا تو زندہ جل کر راکھ بن جاتا ۔ ویسےاُسی دن بیوی اُسےباہر جانےسےروک رہی تھی ۔
” گھر سےباہر مت جاو¿ ۔ ٨٥ لوگوں کو زندہ جلانےکےاحتجاج میں شہر بند ہے‘ بند کےدوران کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ “
” بند ، بند کی طرح ختم ہوجائےگا ۔ دوکانیں وغیرہ بند رہیں گی ، لوگ اِدھر اُدھر بیٹھ کر باتیں کریں گےاور دن گذر جائےگا ۔ لیکن ہماری روزی کا کیا ہوگا ۔ اگر میں کام پر نہیں گیا تو کل ہمارےگھر چولہا نہیں جلےگا ۔ پھر بھی تم فکر مت کرو ‘ اگر مجھےایسا محسوس ہوا کہ خطرہ ہےتو میں واپس گھر آجاو¿ں گا ۔ “ اور وہ کام کی تلاش میں گھر سےنکل پڑا تھا ۔
ایک دو گھنٹےکےبعد جب اُسےکوئی کام نہیں ملا تو اُسےمحسوس ہوا ‘ اُس نےگھر سےنکل کر غلطی کی ہے۔ پورا شہر بند تھا اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر تھے۔ایسےمیں کوئی کام ملنےسےتو رہا ۔ اِس کےبعد اُسےشہر کےآسمان پر کالےکالےدھوئیں کو دیکھ کر اُس کا دل دھڑک اُٹھا ۔ ابھی صورتِ حال کا اُس نےاندازہ نہیں لگایا تھا ۔ جو مناظر اُس نےدیکھےتھےاُن سےوہ ڈر گیا تھا ۔
سینکڑوں کا مجمع ٹولیاں بنا بنا کر سڑکوں پر گشت کر رہا تھا ۔ وہ ہتھیاروں سےلیس تھےجس دوکان کو چاہتےتوڑ کر اُسےنذرِ آتش کردیتے۔ جس کسی آدمی کو چاہتےاُس پر ٹوٹ پڑتےاور ایک لمحہ میں اُسےمار کر جلتی ہوئی آگ میں جھونک دیتے۔
گھر جل رہےتھے۔دوکانیں لوٹی اور جلائی جا رہی تھیں۔ لاشیں گر رہی تھیں لوگ جانیں بچا کر
بھاگ رہےتھی۔ قاتل ان کلا تعاقب کر رہےتھی۔ اور بھاگتےلوگوں کو گھیر کر قتل کر رہےتھی۔ جو مزاحمت کرتےاس کی مزاحمت کا جواب دیتےاور پھر اس کی لاش کےچتھڑےاڑادیتی۔
ایسا لگتا جیسےجنگل راج آگیا تھا۔ ہر فرد وحشی درندہ بن گیا تھا اور ایسی حرکتیں کر رہا تھا جو وحشی درندےبھی نہیں کر سکتےہیں۔ ایسےایسےمناظر سامنےدکھائی دےرہےتھےجو آج تک نہ فلموں ،یا ٹی وی پر دیکھےتھےاور نہ ہی کتابوں میں پڑھےتھے۔
” یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں یہ حال ہی۔تو میرےمحلےکا کیا حال ہوگا؟ میرےبیوی ، بچےکس حال میں ہوں گے؟ تو ہم پر رحم کر ، انھیں محفوظ رکھ۔“
سوچتا ہوا۔ وہ قاتلوں ، وحشیوں کےدرمیان سےخود کو بچاتا اپنےمحلےکی طرف بھاگا۔
بھیڑ وحشیانہ نعرےلگا رہی تھی ۔
”مارو ۔کاٹو۔کوئی بھی زندہ نہ بچنےپائے۔“
’خون کا بدلہ خون ۔ ان کا نام و نشان زمین سےمٹا ڈالو۔‘
اپنی طاقت بتا دو۔ ایک ایک کےبدلےہزار ہزار کی جان لو۔‘
ان وحشیوں سےبچتا وہ کسی طرح اپنےمحلےمیں آیا تو وہ بھی اس کی آنکھوں کےسامنےوہی منظر تھےجو راستہ بھر وہ دیکھتا ہوا آیا تھا۔
پورےمحلےمیںوہی وحشیوں کا ننگا ناچ چل رہا تھا۔
مجمع میں شامل وہ ایک ایک فرد کو حیرت سےدیکھ رہا تھا۔
اس مجمع کےایک ایک فرد کو وہ اچھی طرح پہچانتا تھا۔
سیاسی ورکر تھی‘سیاسی لیڈر ‘مذہبی رہنما‘کٹّر مذہب پرست‘عام آدمی سبھی تواس مجمع میں شامل تھی۔اور وہ وحشیت بربریت کا ننگا ناچ ناچ رہےتھی۔مظلوم مدد کےلیےپکار رہےتھی۔ لیکن کوئی بھی ان کی مدد کوآگےنہیں بڑھ رہا تھا۔ چپ چاپ کھڑےتماشہ دیکھ رہےتھی۔بربریت کا ایسا تماشہ جسکاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن بڑےاطمینان سےوہ اس بربریت دیکھ رہےتھے۔ایسا لگتا تھا کہ یہ کوئی جانور وحشی درندہ بن گیا ہی۔کسی میں بھی ذرا سی بھی انسانیت باقی نہیں تھی۔
اگر ذرا سی بھی انسانیت باقی ہوتی تو وہ اسکےخلاف احتجاج کرتا ‘وحشیوں کو ایسا کرنےسےروکتا یا کم سےکم ان مناظر کو دیکھ کر اپنی آنکھیں پھیر لیتا۔
اس سےآگےنہ تو وہ کچھ سوچ سکا اور نہ ہی کچھ دیکھ سکا۔
کسی کی نظر اس پر پڑی اور وہ اس کا نام لیکر چیخی۔ اور پھر ان وحشیوں کا پورا مجمع اس پر ٹوٹ پڑا۔اس کےبعدنہ تو کسی کےزندہ رہنےکی توقع کی جاسکتی ہےنہ آس لگائی جاسکتی ہے۔
” نرس ! نوٹیا کا کیا حال ہے۔ “ اُس نےنرس سےپوچھا ۔
” تم اُس محلےمیں رہتےتھے؟ ہےبھگوان ! وہاں تو بہت برا حال ہے، وہاں پر ٠١١ لوگوں کو زندہ جلا یا گیا ہےاور پورا محلہ جلا کر خاک کردیا گیا ہے۔ “
نرس کی باتیں سن کر اُس کی پٹیوں میں چھپی آنکھیں بند ہوگئیں ۔
نرس کی اِس بات سےاُس کی آخری اُمید بھی ٹوٹ گئی تھی ۔ اِس کےبعد اُسےاپنےمحلےاور گھر والوں کےبارےمیں سوچنےکےلئےکچھ بھی نہیں بچا تھا ۔
دس دنوں بعد وہ بستر پر اُٹھ کر بیٹھنےکےقابل ہوگیا ۔
آنکھوں کی پٹیاں کھل گئی تھیں وہ اچھی طرح سب کچھ دیکھ سکتا تھا ۔ اُس کا پورا چہرہ زخموں سےبھرا تھا ، سارا جسم زخموں سےچور تھا لیکن زخم بھرنےلگےتھے۔ صرف جو گہرےزخم تھےاُن میں رُک رُک کر ہلکی ہلکی ٹیس اُٹھتی رہتی تھی ۔
اِس دوران ہزاروں کہانیاں اُس نےسنی تھیں ۔ وہ کہانیاں اُس بربریت سےبھی زیادہ ہولناک تھیں جو اُس نےاپنی آنکھوں سےدیکھی تھی ۔
اسپتال میں اُس کی طرح سینکڑوں افراد تھے۔ ادھ مرے، زندگی کی چاہ میں زندگی سےجنگ کرتے، دل میں جینےکی آرزو لئے‘ یہ درد کو سہنےکی کوشش کرتےلوگ ۔ ہر کسی کی کہانی اُس سےملتی جلتی تھی ۔ ہر کسی نےیا تو اپنا پورا خاندان کھویا تھا یا پھر گھر بار ۔
پولس آکر اُس کا بیان لےگئی تھی ۔ سیاسی لیڈر آکر اُسےتسلیاں دےگئےتھے۔ لیڈر ہر کسی کو تسلیاں دیتےتھے۔ پولس بار بار آکر اُن کےبیان لیتی تھی ۔ وہاں پر کئی پولس والےڈیوٹی پر متعیّن تھے۔ وہ جیسےاُن پر نگرانی رکھ رہےتھے۔
ایک دن اچھی طرح چیک اپ کرنےکےبعد ڈاکٹر نےاُس سےکہا ۔
” اب تم چاہو تو اپنےگھر جاسکتےہو ۔ جو زخم باقی ہیں وہ جلد ہی بھر جائیں گے۔ آٹھ دن میں ایک بار آکر اِن زخموں کی مرہم پٹی کرا لیا کرنا ۔ “
ڈاکٹر نےتو کہہ دیا کہ وہ گھر جاسکتا ہےلیکن گھر بچا ہی نہیں ہےتو وہ کون سےگھر جائے۔ اِس سےاچھا ہےکہ وہ یہیں اسپتال میں لاوارثوں کی طرح پڑا رہے۔
لیکن وہ زیادہ دنوں تک وہاں نہیں رہ سکا ۔
ایک دن پولس آکر اُسےاسپتال سےاُٹھا لےگئی اور اُسےحوالات میں ڈال دیا ۔
حوالات کےاِس کمرےمیں وہ پچاس لوگوں کےدرمیان تھا ۔ اِن پچاس لوگوں میں کچھ کی حالت اُس کی سی تھی ، کچھ لوگ اچھی حالت میں تھے۔
” انسپکٹر صاحب ! مجھےیہاں کیوں لایا گیا ‘ مجھےحوالات میں کیوں ڈالا گیا ہے؟ “ وہ چیخا ۔
” دنگا کرنےکےالزام میں تجھےحوالات میں ڈالا گیا ہے۔ تیرےمحلےکےپڑوس کےمحلےکی شانتی بین چال پر تم لوگوں نےحملہ کیا تھا اور چال کو آگ لگا دی تھی اور دس لوگوں کو زندہ جلا دیا تھا ۔ “
” انسپکٹر صاحب ! بھلا مَیں کسی پر حملہ کس طرح کر سکتا ہوں ۔ کس طرح کسی کو زندہ جلا سکتا ہوں؟ خود میرا گھر بار جلا دیا گیا ، میرےبیوی بچوں کو میری آنکھوں کےسامنےزندہ جلا دیا گیا مجھےمار مار کر ادھ مرا کردیا گیا ہے۔ پھر میں یہ بھیانک جرم کیسےکرسکتا ہوں ؟ “ وہ چیخا ۔
” اےکاہےکو چیخ رہا ہے؟ اپنا گلہ پھاڑ پھاڑ کر تُو رات دن بھی چیختا رہےتو بھی تیرےچیخنےکا اُن پر کوئی اثر نہیں ہوگا ‘ ایک بار اُنھوں نےجو الزام لگا دیا ‘ وہ پتھر کی لکیر ہے۔ اب فساد ، لوٹ مار ، قتل و غارت گری کےجرم میں سات آٹھ سال اندر رہ کر عدالت میں خود کو بےگناہ ثابت کر تبھی یہاں سےنکل پائےگا ۔ “
تب اُس کو پتہ چلا کہ اِس کمرےمیں جتنےلوگ ہیں اُن میں سےزیادہ تر لوگ بےگناہ ہیں ‘ اُنھیں شہر کےمختلف علاقوں سےپکڑ کر لا کر اِس حوالات میں ٹھونس دیا گیا ہےاور اُن پروہ الزام لگا دئےگئےہیں ۔
اِس کےبعد تو اُس کےدل میں حوالات سےنکلنےکی کوئی اُمید باقی نہیں رہی ۔ ایک دن کوئی سیاسی لیڈر پولس اسٹیشن آیا ۔ حوالات میں آکر وہ اُن سےملا ۔ اُس نےاُن کی ساری باتیں سنیں اور باہر جاکر پولس پر گرجنےلگا ۔
” یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہ لٹے، تباہ حال لوگ جو اُس وحشیانہ فساد میں اپنا سب کچھ لٹا چکےہیں اُن کےساتھ جو وحشیانہ سلوک جن فسادیوں نےکیا وہ تو آزاد ہیں پولس نےاُن کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کی ۔ اُن مظلوم لوگوں کو فسادی بنادیا گیا ہے۔ میں کل ہی اِس کےبارےمیں پارلمینٹ میں آواز اُٹھاو¿ں گا اور وزیر داخلہ سےاِس بارےمیں جواب طلب کروں گا ۔ “
اُس کی بات سن کر پولس کےچہرےپر ہوائیاں اُڑنےلگیں ۔
” اگر ایسا ہوا تو جواب دینا مشکل ہوجائےگا ۔ ہم اُن لوگوں پر کیس تو بنا چکےہیں ۔ اُنھیں اِس وقت چھوڑ دیا جائےجب معاملہ ٹھنڈا ہوجائےپھر اُٹھا لیں گیا اور ہمارےسروں سےیہ مصیبت بھی ٹل جائےگی ۔
اور اُنھیں راتوں رات چھوڑ دیا گیا ۔
اب وہ شہرمیں تنہا تھا ۔ بےیار و مدد گار بےامان ۔
نہ تو اُس کا کوئی ساتھی نہ رشتہ دار تھا ‘نہ اُس کےسر پر کوئی چھت تھی ۔
اپنےجلےگھر کی راکھ کو صاف کرکےاُس نےایک کونےمیں اتنی جگہ بنا لی تھی جہاں وہ ریلیف میں ملا کمبل بچھا کر سو سکتا تھا ۔ آنکھ کھلتی تو اُسےاپنےچاروں طرف وہی شناسا چہرےدکھائی دیتےجنھوں نےاُس کےگھر اور اُس کےبیوی بچوں کو جلایا تھا ۔
وہ اُسےدیکھ کر طنزیہ انداز میں مسکراتےتھے۔ وحشیانہ ہنسی ہنستےتھےجن کو سن کر اُس کا دل دہل جاتا تھا ۔ بڑےآرام سےوہ اپنےکام دھندوں میں لگےہوئےتھے۔ اپنی دوکانوں پر بیٹھےقہقہےمار کر باتیں کرتےتھے۔ اپنی پارٹی کےجلسوں اور مذہبی جلسوں میں جوش و خروش سےکرتن بھاشن کرتےتھے۔ وہ ایک ایک چہرےکو اچھی طرح جانتا تھا ۔
اُس نےجلتی ہوئی بیوی کےسینےمیں ترشول مار کر اُسےدوبارہ آگ میں دھکیلا تھا ۔ اُس نےاُس کےجسم پر کئی جگہ ترشول گاڑھےتھے، اُس نےاُس کےسر پر ہاکی ماری تھی ، اُس نےاُس کےجسم پر خنجر مارا تھا ، اُس نےاُس جگہ آگ لگائی تھی ، اُس نےوہ دوکان لوٹی تھی ۔
لیکن وہ سب آزاد تھے۔
پولس اُسےبار بار پولس اسٹیشن طلب کرتی اور پتہ نہیں کن کن کاغذات پر اُس کےدستخط لیتی ۔ دن بھر اُس کا پولس اسٹیشن یا کورٹ میں گذرتا ۔
اور قاتل ، وحشی اپنےاپنےگھروں ، محلوں ، دوکانوں میں رہتے۔ وہ خود کو قاتلوں کےدرمیان گھرا ہوا پاتا ۔ اُس کےچاروں طرف قاتل بکھرےہوئےتھےجو آزاد تھے۔
ایک بار وہ اُن سےبچ گیا لیکن اگر اُنھیں دوبارہ اِس طرح کا موقع ملےتو کیا وہ بچ پائےگا ؟


٭٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)




















افسانہ یودھا از:۔ایم مبین


حوالات میں جو شخص داخل ہوا اُسےدیکھ کر دونوں حیرت میں پڑگئے۔
” مگن بھائی ! “ دونوں کےمنہ سےنکلا ۔
اپنا نام سن کر مگن بھائی نےچونک کر اُنھیں دیکھا اور پھر گھور اُنھیںکر پہچاننےکی کوشش کرنےلگا
دونوں مگن بھائی کےلئےنا آشنا تھے۔ اِس لئےمگن بھائی کےچہرےپر کوئی تاثر نہیں اُبھرا ۔ اُس نےہاتھ میںپکڑےموبائیل فون پر ایک نمبر ڈائل کیا اور کسی سےبات کرنےلگا ۔
” ہیلو میں مگن بھائی ہوں اور حوالات سےبول رہا ہوں ۔ کیا میری گرفتاری کی خبر ٹی وی پر نہیں دیکھی ۔؟ ارےحوالات مجبوری ہے۔ سی ۔ ایم سےمیں نےبات کی ہے۔ اُنھوں نےمجھےسمجھایا کہ تمہارا معاملہ بہت بگڑ چکا ہے‘ پورےملک میں اِس سےہنگامےہورہےہیں ۔ حالات کےتقاضےکےتحت تمہاری گرفتاری بہت ضروری ہے۔ اِس لئےجاکر دو تین دِن تک حوالات میں آرام کرو ۔ بعد میں سارا معاملہ کس طرح ختم کیا جائے؟ میں دیکھ لوں گا ۔ اِس لئےگرفتاری دینی پڑی اور حوالات میں ہوں ۔۔۔ ارےفکر کرنےکی کوئی بات نہیں ہی۔ یہاں مجھےہر طرح کی سہولت مہیا کی جاےگی ۔ فون کرنےکا مطلب یہ ہےکہ اگر مجھ سےملنا ہو تو آزاد نگر پولس اسٹیشن آجانا ‘سمجھے۔ “
ابھی مگن بھائی نےموبائیل بند بھی نہیں کیا تھا کہ دو سپاہی گادی اور ضروری سامان کےساتھ حوالات میں داخل ہوئے۔ اُنھوں نےگادی فرش پر بچھا دی ، کُرسی ایک کونےپر رکھ دی ۔
” مگن بھائی اور کچھ چاہئے؟ “ دونوں نےبڑےادب سےپوچھا ۔
مگن نےجیب سےسو روپےکا نوٹ نکال کر اُن کی طرف بڑھا یا ۔
ایک 555کا سگریٹ کا پیکٹ لےآنا ‘ باقی تم رکھ لینا ۔ “
دونوں سپاہیوں نےمگن بھائی کو سلام کیا اور حوالات کےباہر چلےگئے۔ مگن بھائی گادی پر لیٹ کر سگریٹ پھونکنےلگا ۔
اُسی وقت موبائیل فون بجا ۔
” ہاں مگن بول رہا ہوں ۔ جو کچھ دیکھا سُنا سب سچ تھا ۔ اِس وقت حوالات میں ہوں ۔ ارےیہ سب ناٹک اور دِکھاوا ہے۔ اپوزیشن اور عوام کےغصےکو ٹھنڈا کرنا ضروری تھا ۔ اگر میں چاہوں تو کل ہی گھر چلا جاو¿ں گا ، کاغذ پر میرا ریمانڈ رہےگا اور میں بنگلےمیں آرام کروں گا ۔ سب سیٹنگ ہوگئی ہے‘ گھبرانےکی کوئی بات نہیں ۔ “
اس کےبعدمسلسل آٹھ دس فون آئے۔ سب سےمگن بھائی نےاِسی طرح کی باتیں کی ۔
دونوں ایک کونےمیں بیٹھےچپ چاپ مگن بھائی کا تماشہ دیکھتےرہے۔ اُنھیںمگن بھائی کو حوالات میںدیکھ کر بڑی خوشی ہورہی تھی ، وہ خوشی سےپھولےنہیں سما رہےتھے۔ وہ آج حوالات میں اُس کمرےمیں ہیں جس میں مگن بھائی بھی ہے۔ لیکن آج ایک بات دِل کو کچوک رہی تھی ۔
مگن بھائی جس طرح حوالات میں تھا اور اُسےحوالات میں جو آرائشیں میسّر تھیں ‘ اُنھیں اس پر شدید غصہ آرہا تھا ۔
حوالات میں تو وہ بھی تھے۔
سویرےاُنھیں گرفتار کرکےحوالات میں ڈالا گیا تھا لیکن اُنھیں نہ پینےکےلئےپانی ملا تھا اور نہ کھانےکےلئےکھانا ۔
اُن کےلئےگھر سےجو کھانا آیا تھا ‘ ڈیوٹی پر تعینات سپاہی چٹ کرگئےتھے۔
اور مگن بھائی کو ؟
دونوں کےجرائم میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔ اُنھوں نےایک معمولی جھگڑا اور مارپیٹ کی تھی جو کوئی سنگین جرم نہیں تھا ۔ مگر جس کےساتھ مارپیٹ کی تھی اُس کا اثر و رُسوخ بہت زیادہ تھا ۔ اور اِس وقت ریاست میں سیاسی رسُوخ کا ہی راج تھا ۔ اِس لئےاُنھیں فوراً گرفتار کرلیا گیا ۔ راستےبھر پٹائی ہوتی رہی ، حوالات میں ڈالنےکےبعد تو سپاہیوں نےاُنھیں اور بھی زیادہ بےدردی سےمارا تھا ۔
” سالو حرام زادو ! پریم جی بھائی سےاُلجھتےہو ‘ جانتےہو ، پریم جی بھائی کون ہے؟ سی ۔ ایم کا خاص آدمی ہے۔ تم لوگوں نےسی ۔ ایم کےخاص آدمی سےمارپیٹ کی ؟ اگر سی ۔ ایم کا فون آیا تو فساد کےالزام میں پوٹا لگا کر زندگی بھر جیل میں سڑا دیں گے۔ تمہارےایریےمیں فساد میں مسلمانوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ سیکڑوں لوگوں کو موت کےگھاٹ اُتارا گیا ہے۔ لیکن اوپر سےآئےحکم کےمطابق ہم نےابھی تک ایک بھی فسادی گرفتار نہیں کیا ہے۔ اگر پریم جی بھائی نےکہہ دیا تو تمہیں فساد کےجرم میں گرفتار کرلیں گے۔ ہمارےلئےایک پنتھ دو کاج ہوگا ۔ لیکن تم اپنا انجام سوچ لو ! “
پریم جی بھائی سےاُلجھتےوقت اُنھیں اندازہ تھا کہ اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ ان عام باتوں کےلئےاُنھوں نےاپنےآپ کو پہلےسےتیّار کرلیا تھا ۔ ان سےڈر کر کام نہیں چل سکتا تھا ۔ پریم جی بھائی کو سبق سکھانا بہت ضروری تھا ۔ اِس لئےوہ اُس سےاُلجھ پڑے۔
اِس لئےاُن کےساتھ جو کچھ ہو رہا تھا اس کو وہ برداشت کررہےتھے۔ لیکن اُنھیں یہ بات کچوک رہی تھی کہ اُنھوں نےکوئی سنگین جرم نہیں کیا تھا ۔ پھر بھی اُن کےساتھ جانوروں سا سلوک کیا جارہا ہے۔ لیکن ایک سنگین جرم کرنےوالےوحشی ، درندےکو شاہانہ ٹھاٹ باٹ سےحوالات میں رکھا گیا ہے۔
اُنھوں نےسویرےپریم جی بھائی سےمارپیٹ کی اور آدھا گھنٹےکےاندر حوالات میں تھے۔
مگن بھائی نےجو جرائم کئےاُنھیں مہینوں ہوگئےہیں پھر بھی وہ آزاد تھا ۔ ایک ماہ پہلےشکیلہ نےایک اپوزیشن لیڈر کےسامنےبیان دیا تھا کہ مگن بھائی نےاُس کےساتھ وحشیانہ غیر انسانی سلوک کیا ہے۔
شکیلہ کےاس بیان کو کئی ٹی وی چینل کےکیمروں نےقید کیا تھا ۔اور پھر اس بیان کو ساری دُنیا میں بتایا گیا تھا ۔
اس اپوزیشن کےلیڈر نےاس بات کو پارلیمنٹ میں اُٹھایا تھا اور وزیر داخلہ سےمگن بھائی کی گرفتاری کی مانگ کی تھی ۔
لیکن ریاست کےسی ۔ ایم اور خود وزیر داخلہ نےاُسےمگن بھائی کےخلاف ایک سازش قرار دےکر گرفتاری کی درخواست مسترد کردی تھی ۔
جب کئی ممبران نےاُس کےخلاف آواز اُٹھائی تو وزیر داخلہ نےاعلان کردیا ۔ ہم اِس معاملےکی تحقیقات کررہےہیں اور اگر مگن بھائی کو خطا وار پایا گیا تو اُس کےخلاف ضروری قانونی کاروائی کی جائےگی ۔
ہر کوئی جانتا تھا کہ مگن بھائی خطا وار ہے۔ اُس نےبڑےبھیانک انسانیت سوز جرائم کئےہیں کہ اگر اُسےدس بار بھی پھانسی پر لٹکایا گیا تو بھی اُس کی سزا کم ہوگی ۔
لیکن مگن بھائی کا تعلق سی ۔ ایم اور وزیر داخلہ کی پارٹی سےتھا ۔ وہ اُن کی پارٹی اور اُس کی ذیلی پارٹیوں کا سرگرم رُکن تھا اور اِس بات پر فوراً عمل کرتا تھا جس کا حکم اُس کی پارٹی یا ذیلی تنظیمیں دیتی تھیں ۔ پھر بھلا ایسےسرگرم رُکن کےخلاف کس طرح کوئی کاروائی کی جاسکتی ہےاور اِن کی پارٹی اور ذیلی تنظیموں کی نظر میں تو مگن بھائی نےکوئی جرم ہی نہیں کیا تھا ۔
انسانیت اور قانون کی نظر میں مگن بھائی کےکارنامےشاید گھناونے، وحشیانہ اور سنگین جرائم ہوں گے۔ لیکن اُن کی پارٹی کی نظر میں یہ کوئی جرم نہیں تھا ۔ کیونکہ اُن کی پارٹی کی نظر میں اِس طرح کی حرکتوں کا اِرتکاب دھرم کا پالن تھا ۔ اور مگن بھائی نےپارٹی تنظیم کےدھرم کا پالن کیا تھا ۔ اِس لئےایسےدھرم یودھا کی حفاظت کےلئےپارٹی اور تنظیم فولادی دیوار بن کر کھڑی تھی ۔
دُنیا کےتمام اخلاقیات کےاُصول ، درس بالائےطاق ۔ ہمارےیودھا نےجو کچھ کیا وہ دُرست ۔ ہم بھلےاپنےآپ کو بہت با اخلاق ، باکردار ظاہر کریں لیکن اپنےمفاد ، اپنےمقصد کےحصول کےلئےسارےاخلاقی ، انسانی ، قانونی ضوابط کو روندنا ہمارا مقصد ہے۔
جس پارٹی کےاُصول ہی یہ ہوں وہ مگن بھائی جیسےیودھا کیوں نہ پیدا کریں ؟ اور یہ یودھا مگن بھائی جیسےکارہائےنمایاں انجام کیوں نہ دیں ۔
ساری دُنیا جن کاموں پر تھوکیں ‘ اُن کاموں کو انجام دینےمیں بھی نہ تو کوئی جھجھک محسوس کرےنہ دُنیا کےتھوکنےپر شرم آئے، نہ غیرت محسوس ہو ، نہ اپنےکسی کام پر پشیمانی محسوس ہو ۔ مگن بھائی جیسےیودھاو¿ں کو جب تیّار کیا جاتا ہےتو سب سےپہلےاُن کےضمیر کو ختم کردیا جاتا ہے۔تاکہ کسی کام کو کرتےوقت وہ اُنھیں اس کام کو کرنےسےنہ روکےاور نہ ہی وہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں ۔
لبیک کہیں تو صرف پارٹی اور تنظیم کی آواز، اُن کےحکم پر ۔ اِس لئےسارےملک اور دُنیا کےکئی ممالک سےشور اُٹھتا رہا ۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں واویلا مچاتی رہی ۔ پھر بھی مگن بھائی دندناتا ہوا گھومتا رہا ۔ وزیر داخلہ سےسی ۔ ایم تک اِس کی ہر بات کا دفاع کرتےرہتے۔
روزانہ نئےنئےچینل شکیلہ کےانٹرویو دِکھاتے۔ اخبارات شکیلہ کی کہانی کو کوراسٹوری بناتےاور مگن بھائی کےگناہ تازہ ہوجاتے۔ انسانیت کےپرستار اِس حیوانیت کےخلاف آواز اُٹھاتےاور مگن بھائی اسےکتوں کا بھونکنا قرار دیتا ۔ پارٹی اپنےیودھا کا دفاع کرتی ۔
لیکن ایک دِن آخر وہ ہولناک منظر سامنےآہی گیا جس کی اب تک لوگوں نےکہانیاں سُنی تھیں۔ اب تک شکیلہ اپنےہر انٹرویو میں بتاتی تھی کہ کس طرح مگن بھائی نےاُس کےگھر کےہر فرد کو زندہ جلایا ہے۔ اُس کےبوڑھےباپ کےسینےمیں ترشول مار کر اُسےدہکتی آگ میں پھینکا۔ اُس کی ماں کو جلتی آگ میں ڈال دیا ۔ اُس کےدونوں بھائیوں کو ترشولوں سےمار مار کر جلتی آگ میں ڈھکیلا ۔ اُس کی چھوٹی بہنوں کےنسوانی اعضاءکو ترشول سےگھائل کیا اور پھر اُنھیں آگ دِکھا دی ۔
اور اس کےساتھ ۔
اس کےساتھ تیس چالیس یودھاو¿ں نےبلاتکار کیا ۔
اور مگن نےاپنےہاتھ سےاُس کےسینےپر چاقو سے” جےشری رام “لکھا ۔وہ اس لئےنہیں ماری گئی کیونکہ اسےیودھاو¿ں کی حیوانیت کو سیراب کرنا تھا ۔
وہ اس لئےبچ گئی کہ آخری یودھا جب اس سےسیراب ہوکر گیا تو دوسرےیودھا کےآنےمیں تھوڑی تاخیر ہوگئی ۔ اِس دوران اُس نےخود کو سنبھال لیا اور موقع ملتےہی اس جگہ سےبھاگ نکلی اور کسی طرح گرتےپڑتےایک اسپتال پہونچ گئی ۔
جہاں علاج کرنےکےبعد اُس کی جان بچا لی گئی ۔
لیکن اپنےاس آخری انٹرویو میں اس نےاپنا سینہ کیمروں کےسامنےکردیا ۔
ایک جوان لڑکی کا نرم گداز سینہ ۔
جس پر چاقو کی نوک سےلکھا ” جےشری رام “ صاف دِکھائی دےرہا تھا ۔
اُسےدیکھ کر ہر کوئی دہل اُٹھا ۔
یہ ہےاُس درندےمگن بھائی کےگناہ کا ثبوت جسےیودھا قرار دےکر وزیر داخلہ سےسی ۔ ایم تک بچانےکی کوشش کررہا ہے۔
اِس منظر کو دیکھ کر انسانیت کانپ اُٹھی ۔ جس نےبھی ٹی وی پر تصویروں میں شکیلہ کا سینہ دیکھا ‘ کانپ اُٹھا ۔
ایک جوان لڑکی کا گداز سینہ دیکھ کر بھی کسی کےدِل میں ہوس کا جذبہ پیدا نہیں ہوا ۔
ہر کسی نےلعنت ملامت کی اور غم اور غصےکی ایک لہر پورےملک میں دوڑ گئی ۔ اور آخر ارباب اقتدار کو مگن بھائی کی گرفتاری کا آرڈر دینا پڑا ۔ مگن بھائی گرفتار کیا گیا اور ان کےساتھ حوالات میں تھا ، کس طرح تھا ؟ اُنھیں خود شرم آرہی تھی ۔
دونوں شکیلہ کو بہت اچھی طرح جانتےتھے۔
شکیلہ ایک اسکول میں ٹیچر تھی ، اُن کےمحلےمیں ہی رہتی تھی ۔
اور دونوں کےبچےاُس کےپاس ٹیوشن پڑھنےجاتےتھے۔
جب بھی سامنا ہوتا تھا ۔ مسکراکر ان سےملتی تھی ۔ اور اُن کےبچوں کےبارےمیں بتاتی تھی ۔
” اشوک بھائی ! اتُل میتھس میں تھوڑا کمزور ہے‘ میں اسےٹھیک کرلوں گی ، لیکن گجراتی پر بھی دھیان دیں ۔ “
” وِنےبھائی ! وِملا کی انگریزی اچھی نہیں ہے‘ بہت محنت کرنی پڑےگی ۔ “
اس شکیلہ کےساتھ اور اس کےخاندان کےساتھ جو کچھ ہوا وہ اچھی طرح جانتےتھے۔
اُنھیں تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ شکیلہ کےاور اس کےخاندان والوں کےساتھ کیا ہوا ہے۔ مگر اُنھیں علم تھا کہ اگر اُنھیں اس وقت بھی معلوم ہوجاتا جب یہ سب کچھ ہورہا تھا تو بھی وہ کچھ نہیں کرپاتی۔
یودھاو¿ں کی پوری فوج انسانیت کو تاراج کرکےاپنےافکار کا جھنڈا گاڑنےنکلی تھی ۔ اور اِس فوج کےساتھ حکومت ، مشنری ، اقتدار سب کچھ تھا ۔ اِس لئےجو کچھ ہوا اُس پر صبر و شکر کرلینا کافی ہے۔ شاید اس سےبھی زیادہ کچھ ہوجاتا یا ہوسکتا تھا ۔
اِس یُدھ کاایک یودھا مگن بھائی حوالات میں تھا ۔
اور اس یودھا کو اس کی شان کےمطابق ہی اعزاز مل رہا تھا ۔
دونوں ایک دُوسرےکو کبھی بےبسی سےدیکھتےتو کبھی غصےسےمگن بھائی کو ۔ جو اِس وقت آرام سےسو رہا تھا ۔
ابھی کچھ دیر قبل اُس نےآخری موبائیل کال وصول کی تھی ۔
” ارےتم فکر کیوں کرتی ہو ؟ بولا نہ کل تک سب ٹھیک ہوجائےگا ۔ ایک دو دِنوں میں گھر آجاو¿ں گا ۔ سی ۔ ایم اور وزیر داخلہ سےبات ہوگئی ہے۔ اِس حرامی لڑکی شکیلہ کا کچھ دِنوں کےبعد قصہ ہی ختم کرلیا جائےگا ۔ اسےآئی ۔ ایس ۔ آئی کا ایجنٹ قرار دےکر گرفتار کرلیا جائےگا دُنیا کو بتادیا جائےگا کہ مگن بھائی ، اس کی پارٹی ، تنظیم کو بدنام کرنےکےلئےیہ آئی ۔ ایس ۔ آئی کی سازش تھی ۔
دونوں دیر سےمگن بھائی کےاس کال پر غور کر رہےتھے۔
مگن بھائی نےکہہ دیا تو ایسا ہی ہوگا ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر شکیلہ انصاف انسانیت !
اُنھیں لگا جیسےچاروں طرف وحشی ناچ رہےہیں ۔ دھرتی پر وحشیوں کا راج آگیا ہے۔ اب ان کےپاس دوہی راستےہیں ۔ وہ بھی وحشی بن جائیں یا پھر انسان ہونےکا ثبوت دیں ۔
” اشوک ! “
” وجے ! “
” ہمیں انسان ہونےکا ثبوت دیناہے۔ “
” ہاں نہیں تو تاریخ ہم کو معاف نہیں کرسکےگی ۔ “
دونوں ایک دُوسرےکی آنکھوں میں دیکھ کر بولے۔
” آو¿ حساب کریں ۔ “
دونوں اُٹھ کر مگن بھائی کےپاس پہونچے۔ اُسےنیند سےجھنجھوڑا
” کیا بات ہی‘ مجھےنیند سےکیوں جگایا ؟ اشوک ، وجے! تم کیا چاہتےہو ؟ “
” رات کےدو بج رہےہیں سارےسپاہی سو چکےہیں تم اگر ذبح ہونےوالےبکرےکی طرح بھی چیخو تو تمہاری چیخ اُن تک نہیں پہونچ پائےگی ۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو ۔ اگر تمہارےمنہ سےہلکی سی چیخ بھی نکلی تو ہم تمہیں سچ مچ کسی بکرےکی طرح ذبح کردیں گے۔ انجام جو کچھ ہوگا دیکھا جائےگا ۔
اور وہ کسی بھوکےشیر کی طرح مگن بھائی پر ٹوٹ پڑے۔
اپنےجسم کی ساری طاقت جمع کرکےمگن بھائی پر وار کرنےلگے۔
مگن بھائی کےمنہ سےہلکی سی آواز بھی نکلتی تو ان کا اگلا وار دُوگنا طاقت کا ہوتا ۔ اس وار سےبچنےکےلئےمگن بھائی نےچیخنا تو درکنار کراہنا بھی بند کردیا ۔
ایک گھنٹےتک اُنھوں نےمگن بھائی کی اتنی پٹائی کی کہ ان کےہاتھ پیر اور پورا جسم درد کرنےلگا ۔ سستانےکےلئےوہ تھوڑی دیر رُک گئے۔
اُنھوں نےطےکرلیا تھا کہ مگن بھائی کےساتھ یہ عمل اُنھیں رات بھر دہرانا ہے۔
ننگ دھڑنگ مگن بھائی حوالات کےایک کونےمیں دُبکا ، اپنےجسم پر اُبھرےزخموں کےنشان اور مار کی ٹِیسوں کو برداشت کرنےکی کوشش میں سسک رہا تھا ۔
مگن کو دی گئی کُرسی پر اشوک بیٹھا اُس کےموبائیل سےکھیل رہا تھا اور وجےمگن کو دئےگئےنرم بستر پر لیٹا سستا رہا تھا ۔

٭٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)
















افسانہ بےجسم از:۔ایم مبین

واپس گھر پہونچنےتک ٩ بج گئےتھے۔
اسےجھنجھلاہٹ ہورہی تھی ۔ ہر بار وہ چاہتا ہےکہ جلد سےجلد گھر پہونچےلیکن اُس کی یہ چاہ کبھی پوری نہیں ہوتی تھی ۔ آفس سےنکلنےکےبعد راستےمیں کچھ نہ کچھ مسائل اُٹھ کھڑےہوتےتھےاور وہ تو دس بجےہی گھر پہونچ پاتا تھا ۔
کبھی آفس کی مصروفیات یا باس کا کوئی آرڈر اُسےآفس سےجلد نہ نکلنےکےلئےمجبور کردیتا تھا ۔ تو کبھی لمبی مسافت کا سفر اور سفر کےدوران پیش آنےوالےواقعات ۔
اس نےکبھی بھی اس کےگھر پہونچنےپر مایا کےچہرےپر مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی ۔
اسےدیکھ کر مایا کےچہرےپر کوئی تاثر نہیں اُبھرتا تھا اور وہ کسی روبوٹ کی طرح بیزار سی اس کی خدمت میں لگ جاتی تھی ۔
خدمت کیا ‘ اُس کےاُتارےکپڑوں کو سلیقہ سےلےجاکر ہینگر میں لگانا ، اسےگھر میں پہننےوالےکپڑےدینا ، جب وہ واش بیسن سےمنہ دھوکر ہٹےتو ٹاول لےکر کھڑی رہنا ۔
اس کےبعد بہت مختصر سےمعمولات ہوئےتھے۔
دونوں ساتھ کھانا کھاتے، تھوڑی دیر تک ٹی وی دیکھتےاور سوجاتے۔ سویرےجلدی اُٹھ کر مایا اس کےلئےٹفن بناتی اور وہ دفتر جانےکی تیاری کرتا اور آٹھ بجےسےپہلےگھر چھوڑ دیتا ۔
اس دِن جب وہ کمرےمیں داخل ہوا تو رگھو اطمینان سےبیٹھا کُرسی بنا رہا تھا ۔ مایا ٹی وی دیکھ رہی تھی ، اس کی آہٹ سن کر مایا نےپلٹ کر اُسےدیکھا ، اس کےچہرےپر کوئی تاثر نہیں اُبھرا ، وہ دوبارہ ٹی وی دیکھنےمیں مصروف ہوگئی ۔
رگھو نےاس کی آہٹ پاکر سر اٹھا کر اسےدیکھا اور دوبارہ اپنےکام میں مصروف ہوگیا ۔
اس کےچہرےپر اطمینان اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔
اس نےاندازہ لگالیا تھا ‘ سب کچھ ٹھیک ہے۔
بجوکا اپنی جگہ کھڑا ہے، اس کےسر کی جگہ رگھو کا سر لگا ہوا ہےاور وہ اپنےفرائض انجام دےرہا ہے۔
اسےاطمینان محسوس ہوتا ‘ جیسےیہ اطمینان اس کی سب سےبڑی دولت ہے، اس کی زندگی کا حصول ہے۔ اس اطمینان کو قائم رکھنےکےلئےوہ زندگی کی جنگ لڑ رہا ہےاور اس اطمینان میں اس کی فتح یابی پنہاں ہے۔
وہ ایک کسان ہےاس کےماں باپ ، دادا ، پردادا کسان تھی۔گاو¿ں میںزراعت کرتےتھی۔اس نےکھیتی نہیں کی ہی۔ وہ اپنےگاو¿ں اور کھیت سےکوسوں دُور ہے۔ لیکن اس کی فطرت نہیں بدل پائی ہے۔ ایک کسان کی طرح اسےسب سےزیادہ فکر اپنےکھیت کی رہتی ہے۔
لیکن یہاں تناظر بدل گیاہے۔
اس کےپاس کھیت نہیں ہےوہ اپنی زمین ، کھیت ، گاو¿ں سےبہت دور ہے۔اسےان کی کوئی فکر نہیں ہے۔
لیکن نئےتناظر نےاسےایک نئی فکر دےدی ہے۔
مایا
مایا اس کےلئےایک مسئلہ ہے۔ اس کی سب سےبڑی فکر ،پریشانی ہے۔اس کی زندگی کی سب سےبڑی اُلجھن ہے، اُس کی سب سےبڑی چنتا ہے۔
مایا اس کی بیوی ۔
کبھی کبھی اسےمحسوس ہوتا ہےکہ اس نےمایا سےشادی کرکےسب سےبڑی غلطی کی ہے۔
لیکن جب سنجیدگی سےسوچتا تو اسےیہ اپنی کوئی غلطی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔
اسےشادی تو کرنی تھی ، بنا شادی کےتو وہ جی نہیں سکتا تھا ۔
اگر مایا سےشادی نہیں کرتا تو کسی ریکھا ، رُوپا یا گنگا سےشادی کرتا ۔
اور جب اپنےحالات پر غور کرتا تو اُسےمحسوس ہوتا ‘ جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر آتی‘اس کےلئےوہی مسئلہ ہوتی جو مایا ہے۔
کبھی سوچتا مایا سےہمیشہ کےلئےنجات پالے۔
لیکن بھلا مایا سےنجات ممکن ہے؟
کبھی سوچتا مایا کو اپنےگاو¿ں یا اس کےمیکےبھیج دے۔ لیکن دونوں میں سےکوئی بھی کام مسئلہ کا حل نہیں تھا ۔ وہ اور مایا اسی مسئلہ میں گھری رہتی جس میں آج گھری ہے۔
آج کم سےکم مایا کےپاس یہ احساس تو ہےکہ رات کو اس کا پتی اس کےپاس ہوتا ہے۔ اگر وہ مایا کو اپنےگاو¿ں یا اس کےمیکےبھیج دےتو اس سےیہ احساس بھی چھن جائےگا ۔ تب اس کی حالت کیا ہوگی ؟ اور وہ کیا کر ڈالےگی اس کےتصور سےہی اس کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی ۔
مایا اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مایااسےپسند ہےوہ مایا کو بےحد چاہتا ہے۔ مایا بھی ایک سعادت مند بیوی کی طرح اس کی ہر طرح سےخدمت کرتی ہے۔ اس کا ہر طرح سےخیال رکھتی ہے، اس نےاسےزندگی میں کبھی کوئی کمی محسوس نہیں ہونےدی ہے۔
اور اس نےبھی اپنی جان سےبڑھ کر مایا کا خیال رکھا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہےاپنےاور مایا کےلئےہی تو کرتا ہے۔ ان کی زندگی میں اور کوئی بھی نہیں ہے۔ اسےمایا کی ہر خواہش ، ہر مانگ کو پوری کرنےمیں رُوحانی مسرت ہوتی ہےاس کا دِل چاہتا ہےکہ مایا اس سےکوئی چیز مانگےاور فوراً مایا کی مانگ پوری کرےیا مایا کی مانگ پوری کرنےکےلئےاپنےتن ، من ، دھن کی بازی لگادے۔
لیکن مایا کا رویّہ اُس کےلئےایک سوالیہ نشان تھا ۔
صرف کبھی کبھی ہی نہیں ‘ ہمیشہ اسےمایا کےرویّےسےایسا محسوس ہوتا تھا جیسےمایا اس کےساتھ خوش نہیں ہےیا مایا اسےشریک حیات کےطور پر پاکر خوش نہیں ہے۔
اِ س بات کو سوچ کر اس پر ایک افسردگی کا طوفان چھا جاتا تھا ۔ اس کی آنکھوں کےسامنےاندھیرا چھانےلگتا تھا اور دِل کی دھڑکنیں ڈوبنےلگتی تھی ۔
” آخر مجھ میںکیا کمی ہے، میں نےمایا کی کسی خواہش کو پورا نہیں کیا ہے، مایا کی زندگی میں ایسی کون سی کمی رکھی ہےجو مایا میرےساتھ خوش نہیں ہے۔ ؟ “
وہ خود سےیہ سوال بار بار کرتا تھا ۔ لیکن اس میں مایا سےیہ سوال پوچھنےکی ہمت نہیں تھی ۔
وہ ڈرتا تھا کہ اگر مایا اس بات کا اقرار کرلےکہ وہ اس کےساتھ خوش نہیں ہےاور اپنی زندگی کی اس کمی کےبارےمیں بتادےجو وہ پوری نہیں کرپارہا ہےتو شاید اس کی زندگی میں ایسا طوفان آجائےگا جو دونوں کو بہالےجائےگا اور ہمیشہ ہمیشہ کےلئےایک دُوسرےکو جدا کردےگا ۔
یہ سوال جیسےاس طوفان کو روکنےوالا دروازہ تھا اور وہ خود یہ سوال پوچھ کر اس طوفان کا دروازہ کھول کر اس کی تاب لانےکی سکت نہیں رکھتا تھا ۔
دھیرےدھیرےاسےمایا کی خواہشات کا پتہ چلنےلگا تھا ۔ مایا چاہتی تھی کہ وہ مہینےمیں ایک دوبار کسی دُوسرےشہر سیر و تفریح کےلئےجائے، ہر شام جلد گھر آجائےاور اسےلےکر شہر کےتفریحی مقامات پر جائے، ہوٹلوں میں کھانا کھائے، فلمیں دیکھے، اپنےدوست اس کی سہیلیوں کےگھر پارٹیوں میں لےجائے۔
اور اتوار کا دِن کا تو ایک لمحہ بھی گھر میںنہ گذارے۔
لیکن سب کچھ مایا کی اُمیدوں کےبرخلاف ہوتا تھا ۔
آفس کی مصروفیات کی وجہ سےوہ رات نو ، دس بجےسےپہلےگھر نہیں آپاتا تھا ۔
کوئی سرکاری نوکری نہیں تھی کہ پانچ بجےبھی اگر دفتر چھوڑدیا جائےتو کوئی جواب طلب کرنےکی ہمّت نہیں کرےگا ۔
پرائیویٹ سروس تھی ۔ ہر لمحہ ، قدم قدم پر باس منیجمنٹ کا خیال رکھنا پڑتا تھا ۔
آفس آنےکا وقت متعیّن تھا ۔ اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی تھی ۔ لیکن آفس سےجانےکا کوئی وقت متعیّن نہیں تھا ۔ اگر رات کےبارہ بھی بج جائےتو بنا کام پورا کئےگھر جانےکی اجازت نہیں تھی ۔
مایا کو اس کی اس مجبوری کا علم نہیں تھا ۔
ویسےوہ مایا کو سیکڑوں بار اِس بارےمیں سمجھا چکا تھا ۔
لیکن مایا کی خواہشات کےآگےاس کی مجبوریاں کچھ نہیں تھیں ۔ ہفتہ بھر تو صبح آٹھ بجےسےنو، دس بجےتک گھر کےباہر ہی رہنا پڑتا تھا ۔ کھانا کھانےکےبعد بھلا جسم میں اتنی قوت کہاں باقی بچتی تھی کہ کہیں باہر جایا جائےیا رات زیادہ دیر تک جاگ کر آوارگی سےلُطف اندوز ہوا جائے۔ کیونکہ سامنےصبح جلدی اُٹھ کر آفس جانےکا آسیب منہ پھاڑےکھڑا ہوتا تھا ۔
اتوار کو اس کا من چاہتا تھا ‘ وہ ہفتہ بھر کام کی تھکن اُتارے۔ اور دِن بھر سوتا رہے، دِن بھر تو سو نہیں پاتا تھا ، اُٹھ کر تیّار ہونےاور دوپہر کا کھانا کھانےمیں دو بج جاتےتھے۔ پھر ایک دو گھنٹہ کےلئےبھی باہر جانا ہوگیا تو اچھی بات تھی ۔ اگر کوئی مہمان آگیا تو وہ بھی ممکن نہیں تھا ۔ ایسےمیں مایا کی خواہشات کیسےپوری ہوسکتی تھیں ۔
اس کےآفس جانےکےبعد وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔ اس کا آفس بھی گھر سے٠٦ ، ٠٧ کلومیٹر دور تھا ۔ وہ مایا کی خبر بھی نہیں لےسکتا تھا ۔ نہ مایا اس کی خیریت پوچھ سکتی تھی ۔
شادی کےبعد برسوں تک یہی معمولات چلتےرہتے۔
ان میں کچھ دِنوں کی تبدیلی اس وقت آئی تھی جب وہ دونوں ایک دودِنوں کےلئےگاو¿ں جاتےتھے۔ لیکن یہ صرف سالوں میں ہی ممکن تھا ۔
پھر دھیرےدھیرےاسےایسی خبریں ملنےلگیں جن کو سن کر اس کی زندگی کا سکون درہم برہم ہوجاتا تھا ۔
آس پڑوس والوں نےبتایا کہ اس کےآفس جانےکےبعد مایا گھنٹوں گھر سےغائب رہتی ہی۔ اس سےملنےاجنبی لوگ گھر آتےہیں اور گھنٹوں گھر میں رہتےہیں ۔
اس نےاس سلسلہ میں جب مایا سےپوچھا تو مایا کےپاس اس کا بڑا سیدھا سا جواب تھا ۔
آج اس سہیلی کےگھر اس سےملنےگئی تھی ۔
ملنےکےلئےآنےوالا وہ مرد میری اس سہیلی کا شوہر تھا ۔ وہ یہ چیزیں لینےکےلئےگھر آیا تھا ۔
مایا کےاس جواب کےبعد دوبارہ کوئی سوال کرنےکی اس کی ہمت ہی نہیں ہوتی تھی ۔
دھیرےدھیرےایسےثبوت ملنےلگےکہ اس کا شک یقین ہےاور مایا کی ہر بات جھوٹی ہے۔
گھر میں فون تو نہیں تھا جس کےذریعےپتا لگایا جاسکےکہ مایا گھر میں ہےیا نہیں ؟ پڑوس میں فون تھا ، دوچار بار اس نےپڑوس میں فون لگا کر مایا کو فون پر بلاناچاہا ، ہر بار اسےجواب ملا کہ گھر پر تالہ لگا ہے۔
رات میں اس سلسلہ میں اس نےمایا سےپوچھا تو مایا کا جواب تھا ۔
” وہ لوگ جھوٹ کہتےہیں ، میں تو ایک لمحہ کےلئےبھی گھر سےباہر نہیں نکلی ۔ پر تالہ لگا ہے، میں گھر میں نہیں ہوں ، یہ کہہ کر وہ مجھےبدنام کرنا چاہتےہیں اور تمہارےدِل میں بدگمانی پیدا کرنا چاہتےہیں ۔ ‘
مایا کا جواب اسےاُلجھن میں ڈال دیتا تھا ۔
سچائی کا پتہ اس وقت لگ سکتا تھا جب گھر میں کوئی گھر کا بڑا ہو ، گھر کےکسی بھی چھوٹےبڑےآدمی کےگھر میں آئےمایا کا گھر سےباہر قدم نکالنا مشکل تھا ۔ نہ اس کےہوتےکوئی غیر مرد گھر میں آسکتا تھا ۔
اُس کا دُنیا میں کوئی بھی تو نہیں تھا ۔ماں ، باپ ، بھائی ، بہنیں ، کوئی بھی تو نہیں جس کو وہ گھر میں لاکر رکھتا تاکہ مایا کےپیروں میں زنجیریں پڑی رہے۔
ایک ہی راستہ تھا جو مایا کو راہ پر لاسکتا تھا ۔ لیکن وہ راستہ بھی اسےمسدُود محسوس ہورہا تھا ۔
اسےاپنا بچپن یاد آیا ۔
وہ بچپن میں اپنےماں باپ کےساتھ کھیتوں میں جایا کرتا تھا ۔ ماں باپ دِن بھر کھیتوں میں کام کرکےاپنےخون پسینےسےسیراب کرکےکھیتوں کو لہلہاتےتھے۔
جب فصل پک جاتی تو اس فصل کو پرندوں سےبچانا سب سےبڑا مسئلہ ہوتا تھا ۔
اس کےلئےوہ کئی طریقےاستعمال کرتےتھے۔
ڈھول تاشےبجا کر شور مچاکر پرندوں کو اُڑاتےتھے۔
اور ہر فصل کےساتھ ایک بجوکا تو بنایا جاتا ہی ہے۔
لکڑیوں سےبنا ہوا بجوکا ، جس کو پرانےکپڑےپہنادئےجاتےتھے۔ اور سر کی جگہ ایک ہانڈی لگادی جاتی تھی ۔ جس پر یہ بھیانک آنکھیں منہ ، ناک وغیرہ بنادئےجاتےتھے۔ تب پرندےاسےکوئی انسان سمجھ کر پھر اس طرف کا رُخ نہیں کرتےتھے۔
اسےشدت سےاحساس ہونےلگا اسےاپنےگھر کی حفاظت کےلئےایک بجوکا کی ضرورت ہے۔ جو اس کےکھیت کی حفاظت کرسکے۔
کچھ ماہ قبل اسےاس کےچاچا کا خط ملا تھا ۔
” رگھو نےبہت پریشان کر رکھا ہے۔ ٨١ سال کا ہوگیا ہےکوئی کام دھندا نہیں کرتا ہی۔ اسکول وغیرہ تو بہت پہلےہی چھوڑ چکا ہے۔ اسےاپنےپاس بلا کر کسی کام دھندےسےلگادو ۔ ورنہ بگڑ جائےگا ۔ “
اس خط کو یاد کرکےاس کی آنکھیں چمک اُٹھی تھیں ۔
اسےایسا محسوس ہوا جیسےاسےاپنےگھر کےلئےبجوکا مل گیا ہے۔
رگھو اگر صرف اس کےگھر میں رہےتو بھی کافی ہوگا ۔ بھلےسےوہ کوئی کام نہ کرے، کم سےکم اس کےگھر ، مایا کی حفاظت تو کرےگا ۔ اس نےچاچا کو خط لکھا کہ رگھو کو اس کےپاس بھیج دیں ۔
آٹھ دِن بعد ہی رگھو اُن کےپاس آگیا ۔
اور جیسےاس کی ساری پریشانیاں دُور ہوگئی تھیں ۔
وہ دِن بھر گھر میں بیٹھا ٹی وی پر فلمیں دیکھا کرتا تھا یا گھر کےچھوٹےموٹےکام کیا کرتا تھا ۔
رات کو جب وہ گھر آتا تو مایا کو اپنےکام میں مصروف پاتا اور رگھو کو اپنے۔
وہ اپنےتصور کےبجوکا کو دیکھتا تو اس کےسر کی جگہ اسےرگھو کا سر لگا نظر آتا اور وہ مسکرا کر اس سےکہتا میں اپنا فرض بخوبی نبھا رہا ہوں ۔
رگھو کےآجانےسےمایا بھی بجھی بجھی سی تھی ۔ اس کی ساری آزادی سلب ہوگئی تھیں لیکن وہ چاہ کر بھی اس کےخلاف احتجاج نہیں کرپارہی تھی ۔
ایک دوبار دبےلفظوں میں اس نےاس سےکہا بھی ۔
” یہ رگھو کب تک یوں ہی گھر میں بیٹھا رہےگا ۔ اس کےلئےکوئی کام تلاش کرو ، ورنہ اس کےماں باپ ہم پر الزام لگائیں گےکہ ہم سےایک چھوٹا کام بھی نہیں ہوسکا ۔ ہم رگھو کو کام بھی نہیں دِلا سکتے۔ “
” میں اس کےلئےکام تلاش کررہا ہوں ۔“ کہہ کر وہ مایا کو لاجواب کردیتا تھا ۔
وہ سکون بھری زندگی گذار رہا تھا ۔ اس کی ساری پریشانیاں ، وسوسے، بدگمانیاں ، شک و شبہات رگھو کےگھر آجانےکی وجہ سےجیسےختم ہوگئے۔
ایک دِن جب وہ آیا تو اسےگھر کا ماحول کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوا ۔
رگھو الماری کی صفائی کرتا ایک پوربی لوک گیت گارہا تھا ۔
اور مایا بھی دھیرےدھیرےکچھ گنگنا رہی تھی ۔
اس کا چہرہ پھول سا کھلا ہوا تھا ، چہرےاور آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی ۔
اس کا دِل دھڑک اُٹھا ۔
اس نےاپنےتصور کےبجوکا کو دیکھا تو اسےایک جھٹکا سا لگا ۔
اسےاس بجوکا کےسر کی جگہ رگھو کےبجائےاپنا سر لگا ہوا دِکھائی دےرہا تھا ۔

٭٭٭٭

پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)

















افسانہ میزان از:۔ایم مبین

”ادھرم کو روکنا بھی دھرم ہے۔ ادھرم روکنےکےلئےجان بھی دینی پڑےیا کسی کی جان بھی لینی پڑےتو یہ دھرم ہے، یہ دیش بھی ہمارا دھرم ہے، اس دیش کےخلاف جو بھی کام کرتا ہےوہ ادھرمی ہیں اور ایسےادھرمی کا سروناش کرنا دھرم ہے۔ جو اس دیش کےقانون ، کامن سول کوڈ کو نہیں مانتے۔ وندےماترم کا گان نہیں کرتے، گئو کا احترام نہیں کرتےوہ سب ادھرمی ہیں اور ایسےادھرمیوں کےخلاف تلوار اُٹھانےکا وقت آگیا ہے۔ جو لوگ ہمارےرام للّا کا مندر بنانےکا وِرودھ کرتےہیں ایسےادھرمیوں کا سنہار کرنےکےلئےاُٹھ کھڑےہوجاو¿ اُٹھ کھڑےہوجاو¿ ہر ہر مہادیو جےبھوانی جےشیواجی جےمہاکالی سوامی مہاراج کی جے۔ “
سوامی جی کی آواز لاو¿ڈ اسپیکر سےچاروں طرف پھیل رہی تھی ۔ پھر ان کی آواز اشتعال انگیز جوشیلےنعروں کےدرمیان ڈوب کر رہ گئی تھی ۔ لاو¿ڈ اسپیکر سےنفرت انگیز ، نعرےہی اُبل رہےتھے۔
پل پر کھڑےکھڑےمیں نےنیچےمیدان پر نظر ڈالی ۔
لاکھوں کی بھیڑ ہوگی ، ہر فرد مٹھیاں بھینچےنعرےلگا رہا تھا ۔ ان نعروں سےمجھےخوف محسوس ہورہا تھا ۔
مجھےایسا محسوس ہورہا تھا ، وہ نعرےلگاتی بھیڑ بےقابو ہوگئی ہے، ان کےہاتھوں میں ہتھیار آگئےہیں اور وہ سڑکوں پر اُتر آئی ہے۔ دوکانوں کو لوٹ رہی ہے، جلا رہی ہے، لوگوں کو مار کاٹ رہی ہےاور اس بھیڑ کےدرمیان کئی چہرےمسکرا رہےہیں ، ان میں ایک چہرہ سوامی جی کا بھی ہے۔
کیا وہ سوامی جی کا چہرہ ہوسکتا ہے؟
وشنو پنت سوامی کا چہرہ ؟
دُنیا چاہےکچھ بھی کہےمیرا دِل یہ ماننےکو تیّار نہیں تھا کہ یہ باتیں سوامی جی کےدِل سےنکل رہی ہیں ۔ سوامی جی اشتعال پھیلانا چاہتےہیں ‘ تاکہ یہ اشتعال خونریزی میں تبدیل ہوجائے۔
سڑکیں آگ اور خون میں نہا جائیں
راستےلاشوں سےپٹ جائیں
ساری دُنیا کہتی ہےسوامی جی کا یہی منشا ہے۔
مگر میرا دِل یہ ماننےکو تیّار نہیں ۔
لاو¿ڈ اسپیکر سےجو تقریر نشر ہورہی تھی میرا دِل تو اس پر بھی یقین کرنےکو تیّار نہیں تھا ۔ لیکن میں اچھی طرح جانتا تھا یہ سوامی جی کی ہی آواز ہے۔ سوامی جی کی آواز کو میں جتنی اچھی طرح پہچانتا ہوں شاید ہی کوئی اور پہچانتا ہوگا ۔
جس پل کےکنارےمیں کھڑا تھا اُسی فلائےاوور پر میرےسر پر ایک بڑی سی ہورڈنگ تھی ۔ جس پر زعفرانی لباس میں دونوں ہاتھ جوڑےسوامی جی کی بڑی سی تصویر تھی ۔
شعلہ بیان ، دھرم ویر ، دھرم سرکھشک سوامی جی وشنو پنت کا بیان ۔
جگہ وہی تھی وقت وہی تھا ۔
آج شاید تیسرا دِن تھا ۔ ابھی آٹھ دس روز اور وہ پروگرام چلےگا ۔ سوامی جی کی زہریلی تقریر سےلاکھوں افراد کےذہن پراگندہ ہوں گےاور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہےاس کےتصور سےہی میں کانپ اُٹھتا ہوں ۔
میرا مکان ریلوےلائن کی دیوار سےلگ کر ہے۔ اس کےبعد کچےمکانوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔
اگر چلتی ٹرین سےکوئی ایک آگ کا گولہ بھی اس بستی کی طرف اُچھال دےتو آگ ساری بستی کو جلا کر راکھ کرسکتی ہےاور میرا مکان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔
اس تصور سےہی میرےجسم میں ایک جھرجھری سی آگئی ۔
سوامی جی کا بھاشن ختم ہوگیا تھا ۔
میدان سےنکل کر بھیڑ برج کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ بھیڑ کی وجہ سےبرج پر ٹریفک متاثر ہورہی تھی ۔ کچھ لوگ تو آگےاپنی منزل کی طرف بڑھےجارہےتھے۔ کچھ لوگ پل کےکنارےقطار لگا کر کھڑےہوئےتھے۔ شاید اس پل پر سےسوامی جی کی کار گذرنےوالی تھی اور وہ لوگ شاید سوامی جی کا درشن کرنا چاہتےتھے۔
لوگ میرےآگےپیچھےکھڑےہوگئےاور میں کب اِس قطار کا حصہ بن گیا مجھےپتہ بھی نہیں چل سکا ۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ نہ میں قطار چھوڑ سکتا تھا نہ قطار میں شامل رہنےکےلئےمیرا دِل چاہ رہا تھا ۔
سوامی جی کی کار پل پر نمودار ہوئی تھی ۔ لوگ سر جھکا کر اُنھیں سلام کررہےتھےاور سوامی جی ہاتھ اُٹھاکر اُنھیں آشیرواد دےرہےتھے۔
کار جیسےجیسےقریب آرہی تھی ‘ سوامی جی کا چہرہ واضح ہوتا جا رہا تھا ۔
کار میرےسامنےآئی تو بےاختیار میرےہاتھ بھی سلام کےلئےاُٹھ گئے۔
میری اور سوامی جی کی نظریں ٹکرائیں ۔ ان کےچہرےپر حیرت کےتاثرات اُبھرے‘اُنھوں نےاِشارےسےڈرائیور کو رُکنےکےلئےکہا ۔
” ارےاکبر بابو آپ ! اتنےدِنوں کےبعد دِکھائی دئے؟ آئیے! اندر آئیے“ سوامی جی نےآواز لگائی تو میں دفعتاً ساری بھیڑ کی توجہ کا مرکز بن گیا ۔
سوامی جی مجھےآوازیں دےرہےتھے۔ اُنھوں نےمیرےلئےکار کا دروازہ کھول رکھا تھا ۔ بےساختہ میں آگےبڑھ گیا ۔
کار میں داخل ہوکر سوامی جی کےپہلو میں جابیٹھا ۔ اُنھوں نےدروازہ بند کیا اور لوگوں کو درشن دےکےاپنا سفر جاری رکھا ۔
تھوڑی دیر بعد درشن لینےوالوں کی بھیڑ ختم ہوگئی تو اُنھوں نےکار کےشیشےچڑھا دئے۔ ایئر کنڈیشن کار میں مجھےسردی محسوس ہونےلگی ۔
کار فراٹےبھرتی تارکو ل کی چکنی سڑک پر آگےبڑھی جارہی تھی ۔
” کہیئےاکبر بابو ! گھر میں سب مزےمیں تو ہیں نا ؟بھابھی جی کیسی ہیں ؟ راشد اور اشرف کیسےہیں ‘ سارہ تو اب کافی بڑی ہوگئی ہوگی نا ؟ “ اُنھوں نےایک ساتھ کئی سوالات کرڈالے۔
” ہاں سب مزےمیں ہیں ۔ “ میں نےجواب دیا ۔ ” سارہ اخباروں میں آپ کی تصویر دیکھ کر اپنی سہیلیوں کو بڑےفخر سےبتاتی پھرتی ہےکہ یہ میرےسوامی انکل ہیں ۔ میں ان کی گود میں کھیلتی تھی ۔ “
” معصوم بچی ۔ “ سوامی جی کےمنہ سےنکلا اور وہ کہیں کھوگئے۔
مجھےاس بات کی قطعی توقع نہیں تھی کہ ہزاروں کی بھیڑ میں سوامی جی مجھےاتنی آسانی سےپہچان لیں گےاور بلا کر اپنی کار میں بٹھالیں گےاور پھر مجھ سےاس طرح باتیں کریں گےجیسےوہ کبھی میری زندگی سےجدا تھےہی نہیں ۔
” آپ اب بھی وہیں اسی لائن کےکنارےوالےمکان میں رہتےہیں نا ؟ “ سوامی جی نےپوچھا ۔
” ہاں اور کہاں جاسکتےہیں ؟ اِس بڑےشہر میں مکان تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ “میں نےجواب دیا ۔
” میں جس جھونپڑےمیں رہتا تھا ‘ وہ ہے؟ “ اُنھوں نےپوچھا ۔
” ہاں ‘ ‘ میں نےجواب دیا ۔ ” پوتیا ( جھونپڑےکےمالک ) نےجس شخص کو کرایےپر دیا ہےوہ اب وہاں دیسی شراب کا غیر قانونی اڈّہ چلاتا ہے۔ “
میری بات سن کر سوامی جی کےچہرےپر سخت تاثرات اُبھر آئے۔ اُن کےذہن میں شاید اُن کےاس ماضی کی یاد تازہ ہوگئی تھی جو اُنھوں نےاس میں گذارا تھا ۔
” میں آپ کو اپنےگھر لےجارہا ہوں ۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہےیا گھر جانےمیں دیرتو نہیں ہوگی ؟ سوامی جی نےپوچھا ۔
” بھلا مجھےکیا اعتراض ہوسکتا ہےسوامی جی ؟ “ میں نےہنس کر کہا ۔ ” اور جہاں تک تاخیر کی بات ہےگھر والےمیرےتاخیر سےآنےکےعادی ہیں ۔ “
” سچ پوچھئےتو بہت دِنوں بعد مجھےکوئی میرا اپنا ملا ہے۔ اِس لئےدِل کھول کر آج میں آپ سےباتیں کرنا چاہتا ہوں ۔ “ سوامی جی بولے۔
” یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہےسوامی جی ! ورنہ میں کس قابل ؟ “ میں نےہنس کر جواب دیا ۔
میں نےکبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی سوامی جی سےسامنا ہوگا تو میرےسامنےبرسوں پرانےسوامی جی ہوں گےجو میرےمکان کےبازو میں ریلوےلائن کی دیوار سےلگ کر ایک تنگ و تاریک گندی کھولی میں رہتےتھے۔ جن کا زیادہ تر وقت میرےاور میرےبچوں کےساتھ گذرتا تھا ۔
میرا خیال تھا سوامی جی مجھےپہچان کر بھی انجان بن جائیں گےاور آگےبڑھ جائیں گے۔ کیونکہ میں اُن کا تلخ ماضی ہوں ۔ آج اُن کےپاس تابناک حال اور روشن مستقبل ہےپھر بھلا وہ اپنےتلخ ماضی کےبارےمیں کیوں سوچیں گے۔ ؟
میرےمکان کےاطراف جو بھی سوامی جی کو جانتا تھا ان سب کی سوامی جی کےبارےمیں اچھی رائےنہیں تھی ۔
” سالا کل تک دانےدانےکو محتاج تھا ، آج اَن داتا بنا پھر رہا ہے، کل تک لوگوں کی بھیک پر زندہ تھا ، آج دونوں ہاتھوں سےدولت لوٹ رہا ہے، لوگ اُس پر دولت کی بارش کررہےہیں ۔ “
” سوامی سےپولیٹیکل سوامی بن گیا ۔ کل تک مندر میں جب پروچن کرتا تھا تو کتےبھی اس کےپروچن کو سننےنہیں آتےتھے۔ آج جب گرگٹ کی طرح رنگ بدلا ہے، دھرم کو سیاست کےساتھ ملا کر بھاشن دیتا ہےتو اس کےبھاشن کو سننےلاکھوں لوگ آتےہیں ۔ “
سب کےخیالات اس سےبھی گرےہوئےتھے۔
جہاں تک میرا خیال تھا سوامی جی کےاس رویّےپر مجھےخود بےحد دُکھ ہوتا تھا ۔
میں نےسوامی جی کو بہت قریب سےدیکھا تھا ۔ اُن کو میں اچھی طرح جانتا تھا ، اس وجہ سےکبھی میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ سوامی جی اس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں گے۔
کل تک بھائی چارہ ، اخوت ، اپنا پن ، مساوات ، انسانیت کا درس دینےوالےسوامی جی لوگوں کو نفرت بانٹتےپھریں گے۔
اشتعال انگیز تقریروں کےذریعہ لوگوں کےدِلوں میں نفرت کا یہ بیج بوکر اُنھیں ایک دُوسرےکےخون کا پیاسا بنائیں گے۔
لیکن یقین نہ کرنےکی کوئی وجہ ہی نہیں تھی ۔
روزانہ اخبارات میں سوامی جی کےجلسوں کی رپورٹیں تصویروں کےساتھ شائع ہوتی تھیں اُن کی زہریلی تقریروں کو نمایاں انداز میں شائع کیا جاتا تھا ۔
یہاں تک یہ بات مشہور ہوگئی تھی ۔
سوامی جی نےجس شہر میں تقریر کردی اُس شہر میں فرقہ ورانہ فساد ہونا لازمی ہوجاتا تھا ۔
گذشتہ دو سالوں میں میں نےخود سوامی جی کےدو تین جلسوں میں شرکت کی تھی ۔ لیکن میں سوامی جی کی پوری تقریر نہیں سن سکا ۔ جو جو زہر اُنھوں نےاس تقریر میں اُگلا تھا ‘ میں کوئی شنکر نہیں تھا جواس زہر کو اپنےحلق کےنیچےاُتار لیتا ۔
میں چپ چاپ جلسہ سےاُٹھ آیا ۔
آج بھی اس مقام پر میں سوامی جی کےجلسےمیں شریک ہونےکےلئےنہیں آیا تھا ۔
بلکہ اس پل سےگذر رہا تھا تو اس ہورڈنگ پر نظر پڑی ۔ اور نیچےمیدان میں لگےلاو¿ڈ اسپیکروں سےسوامی جی کی آواز سنائی دی تو رُک گیا ۔
اور اب جب سوامی جی کی کار میں ان کےساتھ ایک انجان منزل کی طرف جارہا تھا تو سوامی جی سےکیا بات کروں میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔
میری آنکھوں کےسامنےایک سیدھا سادہ برہمن گھوم رہا تھا جو میرےپڑوس میں رہتا تھا ۔
اس علاقےکےایک غنڈےنےریلوےلائن کےقریب کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکےایک جھونپڑ پٹی بسائی تھی ۔
اس میں میرا بھی ایک کرایےکا مکان تھا ۔ جس کا میں باقاعدگی سےاس غنڈےپوتیا کو کرایہ دیتا تھا ۔ پھر اس نےمیرےمکان اور ریلوےلائن کی دیوار کےدرمیان جو تھوڑی سی جگہ بچی تھی اس جگہ بھی ایک جھونپڑابنا دیا۔ دودن بعد اس میں ایک نیاکرایہ دار بھی آگیا ۔
یہ کوئی بنارس کا پنڈت تھا ۔
سوامی وشنو پنت اور ان کی بیوی ۔
بنارس کےگھاٹوں پر پوجا پاٹ کرکےوہ اپنا اور اپنےخاندان والوں کا گذر بسر کرتےتھے۔ بنارس میں اچھا مکان تھا ۔ بال بچےتھےجو پڑھ رہےتھے۔ لیکن پوجا پاٹھ سےاتنا پیسہ نہیں ملتا تھاکہ جس سےاپنا اور اپنےخاندان والوں کاپیٹ بھر سکے۔
کسی نےمشورہ دیا ۔ ” پنڈت جی آپ ممبئی کیوں نہیں چلےجاتے؟ بہت بڑا شہر ہےلوگ اتنےدھارمک تو نہیں ہیں لیکن دھرم کےکاموں میں بےانتہا پیسہ خرچ کرتےہیں ۔ ان کےپاس دھرم کےکام کرنےکےلئےوقت نہیں ہے۔ ہاں پیسہ دےکر وہ کام ضرور کرواتےہیں ۔
اپنی پوجا پاٹھ سےاچھی آمدنی کا خواب لےکر سوامی جی بنارس سےممبئی آئےتھےاور اس گندی بستی میں رہنا بھی قبول کرلیا تھا ۔
سویرےسورج نکلنےسےپہلےہی گھر چھوڑ دیتےتھے۔ تو رات دیر گئےواپس گھر آتےتھے۔
پنڈتائن گھر میں اکیلی رہتی تھی ۔اس کا زیادہ تر وقت ہمارےگھر میں میری بیوی اور بچوں کےساتھ گذرتا تھا ۔
سوامی جی دِن بھر شہر کےمندروں کی خاک چھانتےپھرتےتھے۔ شاید کسی مندر میں اُنھیں مستقل طور پر پوجا پاٹ کا کام مل جائے۔ لیکن اس خاک نوردی سےانھیں پتا چلا تھا کہ ان مندروں پر پہلےہی دو دو تین تین پجاریوں نےقبضہ کررکھا ہےاور وہ کسی اور کی دال گلنےنہیں دیتےہیں ۔
ایسےمیں وہ ایسےگاہک ڈھونڈتےتھےجو اُنھیں گھر لےجاکر ان سےپوجا پاٹ کرائے۔
دِن میں ایک آدھ گاہک مل جائےتو اتنا مل جاتا تھا کہ دونوں اپنا پیٹ بھر سکے۔
” زمانہ بہت خراب آگیا ہےاکبر بابو ! ‘ ‘وہ روزانہ مجھےدِن بھر کی رُوداد سناتےتھے۔ ” لوگوں کا اب دھارمک کاموں میں وشواس اور شردھا نہیں رہی ہے۔ بڑےسےبڑےپاٹھ کی دکھشنا ٥ اور ١١ روپیہ دیتےہیں ۔ سمجھ لیجئےبنارس سےبرا حال یہاں ہے، مجھےلگ رہا میں نےممبئی آکر غلطی کی ہے۔ “
میں سوامی جی کا شاگرد بن گیا تھا ۔ سوامی جی ایسی باتیں بتاتےتھےجو میں ساری عمر نہیں جان پاتا ۔ میرا دِل چاہتا تھا سوامی جی کہتےرہیں اور میں سنتا رہوں ۔
اس لئےاکثر اتوارکو جب مجھےچھٹی ہوتی تھی میں سوامی جی کےساتھ مندر جاتا تھا ۔
مسلمان ہونےکےناطےمندر میں تو نہیں جاسکتا تھا ‘ مندر کےباہر گھنٹوں بیٹھ کر مندر میں ہوتا سوامی جی کا پاٹھ سنتا تھا ۔ سوامی جی کی محبت ،بھائی چارے، اُخوت ، مساوات ، انسانیت کا سبق دینےوالی باتیں ۔ مجھےوہ انسان کےرُوپ میںفرشتہ محسوس ہوتےتھے۔
اُنھوں نےایک سال ہمارےپڑوس میں گذارا ہوگا ۔ لیکن اُن کی حالت غیر رہی ۔ کسی دوکان کےافتتاح کی پوجا ہو یا کسی کا شرادھ ، تین چار گھنٹےپوجا کرنےپر بھی ١١ روپیہ یا ١٥ روپیہ ہی ملتا تھا ۔ اس میں سوامی جی اپنا خرچ بھی چلاتےاور اپنےبچوں کو بھی پیسہ بھیجتےجو بنارس میں تھے۔
ہر روز کہیں نہ کہیں کسی موضوع پر پاٹھ دیتےلیکن ان کےمطابق اس پاٹھ کو سننےوالےدس بارہ لوگ بھی نہیں ہوتےہیں ۔
ایک دِن اُنھیں ایک نئی قسم کی پیش کش ملی۔
ایک سیاسی پارٹی نےگئو رکشا کےموضوع پر ایک جلسہ رکھا تھا ۔ اُنھیں اِس جلسہ میں اِس موضوع پر بولنا تھا۔ سیاسی پارٹی والوں نےان سےکہا تھا کہ وہ دھرم کےساتھ ساتھ کچھ سیاست پر بھی بولیں۔ اِس جلسےمیں وہ بولےاور سیاسی پارٹی کےافکار کےمطابق بولے، جلسےمیں تالیاں بجتی رہیں اور وہ لوگوں پر چھاگئے۔ سیاسی پارٹی والوں کو لگا کہ اس آدمی کےذریعہ وہ اپنی سیاسی دوکان چلا سکتےہیں ۔ انھوں نےاسےایک نیا نام سوامی وشنو پنت جی دیتےہوئےان سے٠١ ، ٢١ جلسےکرائے۔
تمام جلسےکامیاب رہے‘ ہر جلسےمیں سوامی جی کی تقریر کا انداز جارحانہ ہوتا جاتا تھا ۔ اور لوگوں کی بھیڑ بڑھتی جارہی تھی اور مقبولیت بھی ۔
چند مہینوں کےاندر وہ ایک مشہور و معروف شخصیت بن گئے۔ اور اپنا پرانا مکان چھوڑ کر ایک مشہور علاقےمیں رہنےچلےگئے۔ اس کےبعد سوامی جی نےاس پارٹی کےلئےصرف اشتعال انگیز تقاریر کیں ۔
کار ایک بہت بڑےبنگلےمیں جاکر رُکی تھی ۔ میں کار سےاُترا تو اِس بنگلےکی شان و شوکت دیکھ کر میری آنکھیں چوندھیا گئیں ۔
” یہ میرا بنگلہ ہے۔ “ سوامی جی فخر سےبولے۔ ” ملک کےکئی حصوں میں اس طرح کےمیرےکئی بنگلےہیں ، میرےبچےبڑےبڑےکالجوں میں پڑھتےہیں ، میرےکئی دھندےہیں ۔ “
میں صوفےپر بیٹھ کر سوامی جی کی امارت کا اندازہ لگانےکی کوشش کرتا رہا ۔
” اکبر بابو ! آج اگر میں کسی کی دوکان یا بزنس کا افتتاح کرتا ہوں تو اسےبہت بڑی سعادت سمجھتا ہےاور اس کےبدلےمیں مجھےلاکھوں روپیہ دیتا ہے۔ بڑےبڑےلوگ اپنےمردہ رشتےداروں کےدھارمک کاریہ مجھ سےکروانےمیں فخر سمجھتےہیں اور اس کےبدلےمجھےلاکھوں روپیہ دیتےہیں ۔ جس جگہ میرا جلسہ ہوتا ہےلوگ مجھےپیسوں میں تولتےہیں ۔ کل ان ہی کاموں کےبدلےمجھےدس روپیہ مشکل سےمل پاتےتھے۔ آج میرےچاروں طرف دولت رہتی ہے۔ “ سوامی جی بولے۔
” فرق صرف اتنا ہوا ہےکہ میں لوگوں کےمیزان کےمطابق بولتا ہوں اور عوام کا میزان کیا ہے‘ جانتےہو ؟ جب میں لوگوں کو اخوت ، بھائی چارے، انسانیت اور دھرم کا اُپدیش دیتا تھا تو میری باتوں کو سننےوالےدس بیس آدمی نہیں ہوتےتھےاور میں کوڑی کوڑی کا محتاج تھا ۔ لیکن آج جب میں لوگوں کو فرقہ پرستی ، نفرت ، اشتعال انگیزی کی ترغیب دیتا ہوں تو لاکھوں لوگ میرےجلسوں میں شریک ہوتےہیں ۔ میرےماننےوالےکروڑوں ہیں ۔ میرےایک ایک بول کےبدلےمجھےلاکھوں روپیہ دیا جاتا ہے، کل میں ایک ایک لفظ اپنےدِل سےبولتا تھا تو کوڑی کوڑی کا محتاج تھا ۔ آج جب ایک ایک لفظ اپنےدِماغ سےبولتا ہوں تو کروڑوں میں کھیلتا ہوں ۔ “ سوامی جی کی بات سن کر میں کسی سوچ میں ڈوب گیا ۔
” کس سوچ میں ڈوب گئےاکبر بابو ! “ سوامی جی نےپوچھا ۔
” دُنیا کےمیزان کےبارےمیں سوچ رہا ہوں سوامی جی ‘ جس پرآپ تُلےہیں ۔ “

٭٭٭

پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)









افسا نہ تاریکی از:۔ایم مبین

راستےمیں رگھو ویر مل گیا تھا ۔
رگھو ویر کو دیکھ کر وہ پہچان ہی نہیں سکے۔ وہ اتنا بدل گیا تھا۔ جب وہ ان کےساتھ کام کرتا تھا تو دبلا پتلا ہوا کرتا تھا۔ جسم پر ٹھیک ڈھنگ کےکپڑےبھی نہیں ہوتےتھی۔
لیکن اسوقت اس کےجسم پر کافی قیمتی کپڑےتھی۔ اور جسم کےحجم میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔
انھوں نےہی اسےآواز دی ۔
” ارےرگھوویر ! “
” کون ارےشندےصاحب ! “رگھوویر اُنھیں دیکھ کر حیرت میں پڑگیا ۔
” یہ آپ ہیں ؟ “
” ہاں میں ہی ہوں ۔ “ اُن کےچہرےپر ایک پھیکی مسکراہٹ اُبھر آئی ۔
” یہ آپ نےاپنی کیا حالت بنا رکھی ہے؟ “ رگھو نےحیرت سےاُنھیں دیکھا ۔
بولا ۔ ” آپ کتنےدُبلےہوگئےہیں ، آنکھیں اندر دھنس گئی ہیں ۔ کیا آپ بیمار ہیں ؟ “
” دُنیا میں بیکاری سےبڑھ کر اور کیا بیماری ہوسکتی ہے؟ “ اُنھوں نےتاسف سےکہا ۔
” کیا آپ کےکیس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ؟ “ اس نےحیرت سےپوچھا ۔
” نہیں ‘ ‘ اُنھوں نےکہا پھر موضوع بدلنےکےلئےپوچھا ۔ ” اور بتاو¿ ‘ کیسےبیت رہی ہے؟ “
” بھگوان کی دیا ہےشندےصاحب ۔ “ رگھو بولا ۔ ” ترقی ہوگئی ہے، ترقی کرکےہیڈ بن گیا ہوں ۔ بڑےلڑکےکو سوفٹ ویر کروا دیا تھا ‘ وہ ایک فرم میں لگ گیا ہے۔چھوٹا ہارڈ ویر کر رہا ہی۔ اس کی اپنی دوکان کھولنےکا اِرادہ ہے، چھوٹی لڑکی کالج کےآخری سال میں ہی، لال باغ والا کمرہ چھوڑ دیا ، وسئی میں ایک فلیٹ لےلیا ہوں ۔ “
گذشتہ پانچ سالوں کی کہانی رگھو نےچند جملوں میں بیان کردی اور باقی کا اندازہ اُنھوں نےاس کی حالت سےلگالیا ۔
پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنےکےبعد رگھو نےآخر تیر چلا ہی دیا ۔
” شندےصاحب ! میں آپ کو بار بار سمجھاتا تھا ۔ مانا ہم جہاں کام کرتےہیں وہاں پیسہ ہی پیسہ ہے۔ وہاں بیٹھ کر ہم اپنی کُرسی کےذریعہ بےشمار دولت کماسکتےہیں ۔لیکن وہ پیسہ ہمیں سکون نہیں دےسکتا ۔ کبھی نہ کبھی تو اس کا انجام برا ہی ہونا ہے۔ اور ہوا بھی وہی ۔ آپ رشوت لیتےپکڑےگئےاور معطل کردئےگئے۔ آپ کا کیس ابھی تک چل رہا ہےاور اب آپ خود کہتےہیں کہ اس کیس میں آپ کا بچنا مشکل ہے۔ آپ کو رشوت لینےکےجرم میں پانچ ، چھ سال کی قید ہوجائےگی ۔ نوکری سےنکال دئےجانےکےبعد آپ کا گھر ٹوٹ کر بکھر گیا ۔ میں وہ راستےپر نہیں چلا جس پر آپ جاتےتھے۔ آج بھی اپنےاُصولوں پر قائم ہیں‘ پہلےتکلیف کےدِن تھے، آج بھگوان نےراحت دےدی ہے۔ کاش آپ بھی میری رائےپر چلتے۔ “
گھر آکر وہ بہت دیر تک رگھو کےبارےمیں سوچتےرہے۔
کیا رگھو کی راہ پر چل کر اُنھیں وہی راحت ملتی جو رگھو کو ملی ہے؟ ممکن ہےمل جاتی ۔
اُنھوں نےجو راستہ اپنایا تھا اُس وقت اُنھوں نےخواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا انجام ایسا ہوسکتا ہے۔ کل ہی وہ اپنےوکیل سےمل آئےتھے۔
وکیل نےفیس کا مطالبہ کیا تھا ۔ جب اُنھوں نےاسےاپنی حالت بتائی تو وہ اُن پرغصہ ہوگیا تھا
” شندےصاحب ! آپ کا کیس آخری اسٹیج پر ہےاور اس اسٹیج پر آپ کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔ ہر فیصلہ آپ کو اپنےحق میں کروانا ہےتاکہ آپ باعزت طریقےسےدوبارہ ڈیوٹی پر جوائنٹ ہوجائیں اور آپ پر لگا رشوت لینےکا الزام جھوٹا ثابت ہوجائے۔ اس کےلئےعدالت کےکلرک ، چپراسی سےجج تک ہر کسی کو پیسہ دےکر فیصلہ آپ کو اپنےحق میں کرنا ہوگا اور آپ کہہ رہےہیں کہ آپ کےپاس پیسہ نہیں ہے۔ یاد رکھئےاس وقت آپ کےپاس پیسےکی کمی آپ کو مجرم ثابت کرسکتی ہی۔ آپ کو رشوت لینےکےجرم میں سزا ہوجائےگی اور آپ دوبارہ پھر کبھی نوکری پر جوائن نہیں ہوپائیں گے۔ “
لیکن وہ اسےکیا بتائیں۔اس وقت وہ پینےکےلےایک سگریٹ کےمحتاج ہیں۔ تو بھلا فیصلہ اپنےحق میں کروانےکےلیےاتناپیسہ کہاں سےلائیں۔
واپس گھر آتےوقت راستہ بھر ان کےدماغ میں وکیل کی باتیں گونجتی رہیںاور آنکھوں کےسامنےجیل کی سلاخیں منڈلاتی رہی ۔ اُس وکیل کو اُنھوں نےگذشتہ پانچ سالوں میں چار پانچ لاکھ روپیہ فیس کےطور پر دیا ہوگا ۔ لیکن وہ اب بھی فیس مانگ رہا ہےاور صاف کہہ رہا ہےاگر اُنھوں نےفیس کا انتظام نہیں کیا تو فیصلہ اُن کےخلاف ہوسکتا ہے۔
گھر واپس آئےتو بیوی نےترش لہجےمیں پوچھا ۔
” وکیل کےپاس گئےتھے؟ “
” ہاں ! “
” اس نےکیا کہا ہے؟ “
” کہہ رہا ہےاگر ہم نےفیس کا انتظام نہیں کیا تو فیصلہ ہمارےحق میںنہیں ہوپائےگا ۔ “
” گھر میں کھانےکےلالےپڑےہیں ، میں کس طرح گھر چلا رہی ہوں ‘ میرا حال مجھ کو معلوم ہے۔ ایسےمیں بھلا فیس کا انتظام کہاں سےہوسکتا ہے۔ اس کیس سےتو اب طبیعت بیزار ہوگئی ہے۔ دوٹوک جو بھی فیصلہ ہوجائےتو چھٹی مل جائےگی ۔ رشوت لیتےوقت آپ کو یہ سوچنا چاہیئےتھا کہ اس برےکام کی وجہ سےآپ پر ہمارےگھر پر یہ برا وقت بھی آسکتا ہے۔ “
بیوی کی باتیں اُنھیں سوئی کی طرح چبھتی محسوس ہوئی ۔
اب بیوی بار بار اُنھیں کوستی ہےکہ اُنھوں نےرشوت کیوں لی ۔ رشوت لینےکا غلط کام کیوں کیا۔ جس کی وجہ سےوہ اِس مصیبت میں پڑےہیں ۔
لیکن جب وہ اِس کےلئےنئی نئی ساڑیاں ، بچوں کو اچھےاچھےکپڑے، گھر کےلئےقیمتی سامان لائےتھےاُس وقت بیوی نےنہیں پوچھا کہ آپ کی تنخواہ تو اتنی کم ہے‘ ہماری آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہےپھر یہ اتنا قیمتی سامان اور اِس کےلئےاتنا پیسہ کہاں سےآتا ہے؟ جب لوگ گھر پر ان سےملنےکےلئےآتےتھےتو وہ ان کی چائےپانی اور خوب خاطر مدارات کرتی تھی ۔ کبھی اس نےانھیں اس بات کےلئےنہیں ٹوکا کہ یہ لوگ ان سےملنےگھر پر کیوں آتےہیں ۔ آفس کا کام ہےتو آفس میں کیوں نہیں ملتے؟
بڑی بڑی رقمیں جب وہ بیوی کےپاس رکھنےکےلئےدیتےتھےتو بیوی نےکبھی نہیں پوچھا تھا کہ اِتنی بڑی رقم کہاں سےآئی ؟ اور اب بات بات پر اُنھیں اِس بات کےلئےطعنہ دیتی ہے۔ شاید اس وقت وہ اُنھیں ایک بار بھی ٹوک دیتی تو جس راستےپر وہ چل رہےتھےاس سےواپس مڑنےکےبارےمیں سوچتے۔
پانچ سال میں وہ کتنی بدل گئی تھی ۔
صرف بیوی کو کیوں دوش دیں ؟ گھر کا ہر فرد بدل گیا تھا ۔
تینوں بچےبھی اب اُنھیں خاطر میں نہیں لاتےتھے۔
جب انھیں رشوت لیتےگرفتار کیا گیا ہےاور سروس سےمعطل کردیا تھا ‘ اُس وقت بڑےلڑکےنےایس ۔ ایس ۔ سی پاس کیا تھا ۔ وہ پڑھنےلکھنےمیں بہت ہوشیار تھا ۔ اسےوہ انجینئر بنانا چاہتےتھےاور اس کےلئےاُنھوں نےپورا انتظام کرلیا تھا ۔ ایک بڑےکالج کی پوری فیس اُن کےپاس تیّار تھی ۔
مگر وہ گرفتار کرلئےگئےاور حوالات جانےسےبچنےکےلئےاُنھیں پولس کو وہ ساری رقم دینی پڑی ۔ رقم دینےکا صرف یہ فائدہ ہوا کہ ان کےخلاف آگےاور کوئی انکوائری نہیں ہوسکی ۔ ورنہ ان کی ہر چیز کی انکوائری کا آرڈر تھا ۔
لڑکا انجینئرنگ کالج نہیں جاسکا ، اُس نےگیارہویں میں داخلہ لےلیا ۔ لیکن چھ مہینےکےبعد ہی ایسےحالات پیدا ہوگئےکہ اسےکالج چھوڑنا پڑا اور گھر چلانےکےلئےمجبوراً وہ چھوٹےموٹےکام کرنےلگا ۔ چھوٹا لڑکا دسویں میں فیل ہوگیا ۔ اس کی وجہ سےوہ آگےتعلیم جاری نہیں رکھ سکا ، نہ کوئی کام کرسکا ۔ آوارہ لڑکوں کی صحبت میں پڑگیا ۔ اُس کےبارےمیں اُنھیں پتا چلا کہ وہ غلط دھندےبھی کرنےلگا ہے۔ کئی بار اُسےپولس پکڑ کر لےگئی ۔ لیکن اُسےچھڑانےکےلئےاُنھیں پولس اسٹیشن جانےکی ضرورت محسوس نہیں ہوئی وہ خود ہی چھوٹ کر اور سارےمعاملات کو نپٹا کر آگیا یا وہ جن لوگوں کےساتھ رہتا تھا اُنھوں نےہی اُسےرِہا کرالیا ۔
چھوٹی لڑکی کا دِل بھی اسکول کی پڑھائی میں نہیں لگتا تھا ۔
اُس نےپڑھائی چھوڑ دی اور سلائی سیکھنےلگی ۔ اِس کےبعد وہ چھوٹےموٹےکام کرنےلگی ۔
پھر اس کےبعد اُنھیں پتا چلا کہ وہ آوارہ لڑکوں کےساتھ بدنام جگہوں پر گھومتی ہے، رات دیر سےگھر واپس آنےلگی تو ایک بار اُنھوں نےاُسےٹوکا جس پر وہ اُن سےجھگڑا کرنےلگی ۔
” میں کام کرنےکےلئےگھر سےباہر جاتی ہوں تاکہ دو پیسےملےتو گھر چل سکے۔ آپ کی طرح گھر میں بیٹھی نہیں رہتی ہوں ۔ “ ماں بھی لڑکی کی طرف داری کرنےلگی۔
” خود تو کوئی کام دھندا نہیں کرتے‘ دِن بھر گھر میں بیٹھےرہتےہو ، ہم گھر چلانےکےلئےکوئی چھوٹا موٹا دھندہ کرتےہیں تو ہمارےپیچھےپڑجاتےہو ۔ “
ماں بیٹی کی طرف داری کررہی تھی ۔ اس کی وجہ وہ جانتےتھے۔ کیونکہ وہ بھی بیٹی کےرنگ میں بہت پہلےہی رنگ چکی تھی ۔
اُن کےمعطّل ہونےکےایک سال بعد ہی وہ چھوٹےموٹےکام کرنےکےلئےگھر سےباہر جانےلگی تھی ۔
کچھ دِنوں کےبعد ہی اُنھیں رپورٹ ملنےلگی تھی کہ وہ کام کی آڑ میں آوارہ گردی کرتی ہے۔
ایک دوبار اِس بات پر اُن کا جھگڑا بھی ہوا تھا ۔ اُس کا جواب تھا ۔
” ٹھیک ہے، میں گھر میں رہتی ہوں ، تم جاو¿ کوئی کام کرو ۔ کچھ کما کر لاکر دو اور پہلےکی طرح گھر کا خرچ چلاو¿ ۔ “ یہ ایسا جواب تھا جس کو سن کر وہ بےحس ہوگئے۔ وہ کام کرنےکےلئےگھر سےباہر جائیں یہ ٹھیک ہے۔ لیکن وہ کیا کام کریں ؟
آدھی زندگی سرکاری نوکری کرتےگذری تھی ۔ اب وہ دُوسرا کیا کام کرسکتےتھے، کسی دوکان پر سیلس مین کا کام کرسکتےتھےنہ کسی پرائیویٹ آفس میں کلرک کا ۔ ایک ادھیڑ عمر شخص کو کام پر رکھنےسےبہتر وہ کسی نوجوان کو کام پر رکھنا پسند کرتےتھے۔
جہاں وہ پہچان لئےجاتےاُن کےساتھ جانوروں سا سلوک کیا جاتا تھا ۔
” ارےشندےصاحب ! آپ ہمارےیہاں نوکری کریں گے؟ آپ تو سارےشہر کو نوکر رکھ سکتےہیں ۔ اِس لئےہمارےیہاں نوکری کرکےاپنی شان کیوں جھوٹی کرنا چاہتےہیں ؟ “
مایوسی سےواپس مڑتےتو ایک بازگشت پیچھا کرتی ۔
” ارےایک حرامی سرکاری آفیسر ہے، بنا رشوت کےکوئی کام نہیں کرتا تھا ۔ رشوت لیتےہوئےپکڑا گیا ‘ آج کل معطل ہے۔ بہت لوگوں کو ستایا ہےاب اس کےپاپوں کی سزا اُسےمل رہی ہے۔“
اُنھیں محسوس ہوتا جب وہ کُرسی پر براجمان تھےتو جو لوگ اُن کےساتھ ادب سےپیش آتےتھے، اُن کی عزت کرتےتھے، اُنھیں بار بار سلام کرتےتھے، آج اُنھیں دیکھ کر نفرت سےمنہ پھیر لیتےہیں۔اگر وہ خود سےاُن سےبات کرنےکی کوشش کرتےہیں تو وہ اُن کےزخموں کو کُرید کر اُن پر نمک چھڑکتےہیں ۔
” کہیئےشندےصاحب ‘ کیسےہیں ؟ “رشوت لیتےپکڑےگئےتھےنا ؟نوکری تو جاتی رہی ‘ سنا ہےجیل کی ہوا کھانی پڑےگی ۔اب کس طرح گذر بسر ہوتی ہے؟ کیا آج کل آپ کوئی کام تلاش کررہےہیں ؟۔ اگر مل جائےتو برائےکرم وہاں بھی وہی کام مت کیجئےگا ۔ وہ سرکاری دفتر تھا ، جہاں آپ حاکم تھے، ہر جگہ آپ حاکم نہیں ہوسکتے۔ “
اِن طعنوں کی وجہ سےاُنھوں نےکہیں آنا جانا ہی چھوڑ دیا تھا ۔ گھر میں بیٹھےرہتےاکیلے، کیونکہ گھر میں کوئی نہیں ہوتا تھا ۔ بیوی کام پر چلی جاتی تھی ۔ بڑا لڑکا بھی کام پر ہی جاتا تھا ۔ چھوٹا لڑکا اور لڑکی کہاں آوارہ گردی کرتےرہتےتھے‘ اُن کو ٹوکنےکی ان میں ہمت بھی نہیں تھی ۔
ایک زمانہ تھا ‘ ان کا بڑا دبدبہ تھا ۔
وہ ایسےمحکمےمیں تھےجہاں پیسہ ہی پیسہ تھا ۔ مجبور، ضرورت مندافراد وہاں پیسہ دےکر ہی اپنا کام کرواتےتھےاور اُنھوں نےبھی پیسہ لےکر کام کرنےکا اپنا اُصول بنالیا تھا ۔
جس سےمطلوبہ رقم مل گئی اس کا کام منٹوں میں ہوگیا جس نےپیسےنہیں دئےسالوں تک اُن کےآفس کےچکّر کاٹتا رہا ۔
وہ غلط صحیح ہر طرح کا کام کرتےتھے۔ صحیح کام کرنےکی بھی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی ۔ غلط کاموں کےلئےتو کچھ زیادہ ہی قیمت دینی پڑتی تھی ۔
گھر میں دولت کی ریل پیل تھی ۔ وہ اپنےساتھ آفس سےروزانہ ہزاروں روپیہ لاتےتھے۔
بیوی قیمتی کپڑوں اور زیورات میں لدی جارہی تھی ، گھر میں قیمتی آرائشی سامان آرہا تھا ، بچےاِس چھوٹی سی عمر میں ہزاروں روپیہ روزانہ اُڑا دیتےتھے۔
کچھ لوگ سمجھاتےبھی تھےکہ وہ جس راستےپر جارہےہیں وہ غلط ہے۔ کسی دِن اس کا خاتمہ کسی تاریک غار میں ہوسکتا ہے۔
لیکن اُنھیں کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔
اُنھوں نےاس درمیان اپنا رُسوخ بھی بنالیا تھا ۔ اُنھیں یقین تھا اگر ان کےہاتھوں سےکوئی لغزش ہوجائےتو وہ لوگ اُنھیں بچالیں گے۔
لیکن اُنھیں کوئی بھی نہیں بچا سکا ۔
ایک سرپھرےسےاُنھوں نےکام کےلئےرشوت مانگی ‘ اُس نےانکار کیا تو اُسےاتنا مجبور کردیا کہ وہ رشوت دینےکےلئےمجبور ہوگیا ۔ رشوت لےکر اُنھوں نےاس کا کام کیا ۔
لیکن وہ اینٹی کرپشن میں رپورٹ کرچکا تھا ۔
اینٹی کرپشن والےجال بچھا چکےتھے۔ وہ جال میں پھنس گئے۔اور رشوت لیتےہوئےرنگےہاتھوں پکڑےگئے۔
فوراً معطل کردئےگئےاور کیس شروع ہوا ۔
اِس کیس کو کمزور کرنےکےلئےاور خود کو دُوسری کاروائیوں سےبچانےکےلئےاُنھوں نےگھر میں جمع سارا پیسہ لگادیا ۔ کل تک وہ لوگوں سےرشوت لیتےتھے۔
آج وہ خود کو بچانےکےلئےکورشوت دےرہےتھے۔
اُنھوں نےسب کو خرید لیا ۔
لیکن جس سےاُنھوں نےرشوت لی تھی اور جس نےاُنھیں رشوت دیتےہوئےپکڑوایا تھا وہ اڑا رہا ۔
پیسہ یا کوئی بھی دباو¿ اُسےجھکا نہیں سکا ۔
وہ آج تک اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا جیسےاُس نےاُنھیں برباد کرنےکی ٹھان لی ہو ۔
اور ان پانچ سالوں میں اُس نےاُنھیں پوری طرح برباد کردیا تھا ۔
عزت ، گھر بار ، بیوی بچے، دولت ، شہرت سب تو لُٹ گئی تھی ۔
نیم جان تن پر بس آخری وار ہونا باقی تھا ۔
فیصلہ اُن کےخلاف جائےاور اُنھیں رشوت لینےکےجرم میں سزا ہوجائے۔
اور اُن کی دوبارہ نوکری پانےکی آخری اُمید بھی ٹوٹ جائے۔
جو اُنھوں نےراستہ اپنایا تھا وہ تاریکی بھرا تھا ۔ لیکن وہ اُنھیں روشن محسوس ہوتا تھا ۔ اِس تاریک راستےپر چلتےوہ تاریکی میں گم ہوگئے۔
اِ س لئےاُن کا خاتمہ بھی اِسی تاریکی میں ہونےوالا تھا ۔

٭٭٭٭

پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)



















افسا نہ بےاماں از:۔ایم مبین

رات دو بجےکےقریب ریلیف کیمپ پرحملہ کرنےکی کوشش کی گئی تھی جس سےکیمپ میں مقیم تمام پناہ گزیں خوف اور سکتےمیں آگئےتھے۔
حملہ آور کتنےاور کون تھے؟کچھ پتا نہیں چلا تھا۔وہ رات کےاندھیرےمیں آئےتھےاور ریلیف کیمپ کےباہر اُنھوں نےاشتعال انگیز نعرےلگائےتھےاور پتھراو¿ کیا تھا ۔
” جےشری رام ، جےشری رام ! “
” آبادی بڑھانےکےکارخانےبند کرو ، بند کرو ۔ “
” پاکستان پہونچا دیں گے، قبرستان پہونچا دیں گے۔“
کیمپ میں کوئی حفاظتی دستہ تو تعینات نہیں تھا ‘ کبھی کبھار ایک آدھ سپاہی آکر کیمپ میں چکّر لگا جاتا تھا ۔ اس وقت وہ بھی غائب تھا ۔ نعروں کی آواز سےپورےکیمپ میں دہشت پھیل گئی ۔
ہر فرد جاگ گیا ۔
اب آگےکیا ہونےوالا ہےاس کےبارےمیں سوچ کر ہر فرد دہشت زدہ تھا ۔
کچھ دِنوں قبل جو کچھ ان کےگھروں میں ، ان کےمحلوں میں ان کےساتھ ہوا تھا اب ایسا محسوس ہورہا تھا ‘ وہی سب کچھ اِس ریلیف کیمپ میں بھی ان کےساتھ ہونےوالا ہے۔ جہاں وہ دو ماہ سےاپنےآپ کو محفوظ محسوس کر رہےتھے۔
” لگتا ہےشرپسندوں نےکیمپ پر حملہ کردیا ہے۔ اگر اِنھیں روکا نہیں گیا تو وہ اندر گھس آئیں گےاور وہی سب کچھ ہوگا جو ہمارےساتھ ہوا ہے۔ “
انھیں روکنا چاہیئے۔ “
” آو¿ آگےبڑھو ۔ “
کیمپ کےپناہ گزینوں نےآپس میں رائےمشورہ کیا اور پھر وہ کیمپ کےدروازےکی طرف بڑھے۔ باہر اندھیرےمیں شرپسند نعرےبازی کررہےتھے، پتھراو¿ کر رہےتھے، پتھر کیمپ میں آ آکر گر رہےتھےجس سےدوچار لوگ زخمی بھی ہوئے
” جواب دیا جائےنعرہ¿ تکبیر اللہ اکبر ۔ “ ؟
کسی نےنعرہ بلند کیا اور فوراً جواباً پتھر چلائےجانےلگے۔
ایک منٹ بعد ہی نعرےبھی بند ہوگئےاور پتھراو¿ بھی رُک گیا ۔ حملہ آوار بھاگ کھڑےہوئےتھے۔
لیکن اس کیمپ کےمکین ایک لمحہ کےلئےبھی سو نہیں سکےتھے، ایک خوف چھایا ہوا تھا ،حملہ دوبارہ ہوسکتا ہے، اس سےبہتر ہےجاگا جائے۔
وہ رات بھر جاگتےرہے۔
سورج کےنکلنےکےساتھ خوف کا احساس کچھ کم ہوا ۔
لیکن پورےکیمپ پر تناو¿ چھایا رہا ۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ کیمپ پر شرپسندوں نےحملہ کیاہےاور شرپسندوں کو روکنےکےلئےایک سپاہی بھی وہاں موجود نہیں تھا ۔
میڈیا کےلوگ پہونچ گئی اور اِس سلسلےمیں ریلیف کمیپ میں مقیم مکینوں سےبات چیت کرنےلگےاور ان کےبیانات کی بنیاد پر خبریں تیّار کرکےاپنےاپنےچینل اور اخبارات کو روانہ کرنےلگے۔
برسرِ اقتدار پارٹی کےایک دو لیڈر بھی آئےاور اُنھوں نےوہی بیانات دئےجس کی اُن سےتوقع تھی یا جو اُن کی فطرت میں رچا بسا تھا ۔
” کیمپ میں پناہ گزینوں کی آڑ میں ملک دُشمن ، غنڈےعناصر جمع ہیں اور وہی ہمارےلیڈران ، حکومت ، پارٹی ، تنظیم کو بدنام کرنےکےلئےاِس طرح کی حرکتیں کر رہےہیں ۔ ان غنڈوں نےکیمپ سےگذرنےوالےہمارےپارٹی ورکروں پر پتھراو¿ کیا تھا جواب میں اُنھوں نےبھی پتھراو¿ کیا اور نعرےلگائےاس کےعلاوہ کوئی بات نہیں ہےجس کا بتنگڑ بنایا جارہا ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہےکہ ان ملک دُشمن عناصر ، آئی ۔ ایس ۔ آئی کےایجنٹوں کو ان کیمپوں سےنکالا جائے۔ ورنہ بار بار گودھرا جیسےواقعات ہوتےرہیں گے۔“
اپوزیشن لیڈران نےبیانات دئے۔
” اب تک ہوئےفسادات ، ان میں پیش آنےوالےتمام گھناو¿نےواقعات میں برسرِ اقتدار پارٹی کا ہاتھ ہے‘ یہ تو ہم کہتےہیں آج اِس کا ثبوت بھی مل گیا ہے۔ اتنےبڑےکیمپ میں جہاں ہزاروں لوگ بےیار و مددگار پڑےہیں ان کی حفاظت کےلئےمرکزی اورریاستی حکومت کےپاس ایک سپاہی بھی نہیں ہے۔ ان کےورکر آکر اس کیمپ پر حملہ کرتےہیں یہ ایک گھناو¿نی سازش کا آغاز ہے۔“
باز آباد کاری کےوزیر نےکیمپ کا دورہ کیا ۔ دورےکےنام پر وہ کیمپ کےدروازےکےاندر بھی داخل نہیں ہوا لیکن اس نےبیان دےدیا ۔
” ریلیف کیمپ پر حملےسےیہ ثابت ہوتا ہےکہ اس قسم کےحملہ مستقبل میں بھی ہوسکتےہیں اور آئندہ اِس طرح کےحملوں میں سیکڑوں لوگوں کی جانیں جاسکتی ہیں ۔ حکومت اتنےلوگوں کی جانوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لےسکتی ۔ کوئی بہت بڑا واقعہ ہو اس سےبہتر تو یہ ہےکہ اس طرح کےتمام کمیپوں کو بند کردیا جائےتاکہ کیمپوں میں مکین پناہ گزین اپنےاپنےگھروں کو واپس چلےجائیں ۔ “
وزیر کےاِس بیان کےبعد دوچار تٹ پونجئےلیڈروں نےاس کےحق میں بیان دئے۔
کچھ دِنوں قبل ہی اپنی گورو یاترا میں خود ریاست کا سی ۔ ایم اِس طرح کےکیمپوں کو آبادی بڑھانےوالےکارخانےقرار دےچکا تھا ۔
اور اب باز آباد کاری کا وزیر ان کیمپوں کو بدامنی کا خطرہ قرار دےکر بند کرنےکی سفارش کرنےکی بات کر رہا ہے۔
اس بات کو سن کر ریلیف کیمپوں کا ہر فرد دہل گیا ۔
” ہم کو ان ریلیف کیمپوں میں کوئی بھی سرکاری سہولت دستیاب نہیں ہے، ہم کو ٹھیک سےپینےکےلئےپانی تک نہیں دیا جاتا ہے۔ہفتےمیں ایک بار بھی سرکاری کھانا نہیں دیا جاتا ہے، کیمپ کی صفائی بھی نہیں ہوتی ہےاور اب ان کیمپوں اور ان میں مکین پناہ گزینوں کو ملک دُشمن قرار دےکر ان کو بند کرنےکی آواز اُٹھائی جارہی ہے۔ “
” ایسا لگتا ہےجیسےہماری مکمل طور پر بیخ کنی اور نسل کشی کرنےکا مکمل جامع منصوبہ بنالیا گیا ہےاور اس پر سختی سےعمل درآمد کیا جارہا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کےتحت پوری سرکاری مشنری کا استعمال کرکےہمیں ہمارےگھروں سےبےگھر کیا گیا ۔ ہمارےعزیز و اقارب کو زندہ جلایا گیا ، ہزاروں لوگوں کو موت کےگھاٹ اُتارا گیا ہے، سوچےسمجھےمنصوبوں کےتحت ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ نےہمارےگھر ، محلوں پر حملہ کرکےانہیں نیست و نابود کیا ۔ اور ان سےبچ کر پناہ لینےکےلئےہم بےیار و مددگار ان کیمپوں میں آئےتو ان پر بھی زبانی اور جسمانی حملےکئےجارہےہیں ۔ ریاست کا سی ۔ ایم ہم لوگوں سےکوئی ہمدردی جتانےکےبجائےان کیمپوں کو آبادی بڑھانےکےکارخانےقرار دےکر اسےبند کرنےکی بات کرتا ہے، شرپسند دندناتےاس پر حملہ کرکےچلےجاتےہیں ۔ اور انتظامیہ آنکھ موندےکھڑا رہتا ہے۔ “
” ہم یہاں کسی حد تک محفوظ ہیں ۔ شرپسندوں کےگھناو¿نےمنصوبوں کا شکار ہونےسےبچ گئےہیں ۔ اس لئےہمیں یہاں سےنکال کر دوبارہ اپنےگھروں کو بھیجنےکی گھناو¿نی سازش رچی جارہی ہے۔ تاکہ شرپسند دوبارہ ان کےاِرادوں میں کامیاب ہوجائیں اور پھر ہم کو ختم کردیا جائے۔“
یہ سوچ کر ایک دہشت سی ہر کسی کےدِل پر چھا گئی ۔
اِس کیمپ میں ان کےپاس کچھ بھی نہیں تھا ۔ نہ تو بچھانے، اوڑھنےکےلئےٹھیک طور سےبستر تھےنہ ان کو دو وقت کا صحیح طور پر کھانا مل پاتا تھا ، نہ ہی پانی پینےکےلئےوقت پر مل پاتا تھا ۔
لیکن پھر بھی وہ اس کیمپ میں خوش تھے۔
اُنھیں وہاں کسی طرح کا خوف اور دہشت نہیں تھی ۔
کیمپ کےاِحاطےمیں ان کا دِن بھی آرام سےگذر جاتا تھا اور رات کو بھی سکون سےبےسر و سامانی کےباوجود سوتےتھے۔
اُنھیں وہاں کسی قسم کا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا ۔
جب وہ ان دِنوں کو یاد کرتےتھےجب وہ اپنےگھروں میں تھےتو اُن کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی
جو تباہی اور بربادی اُنھوں نےدیکھی تھی جو ظلم و ستم اُنھوں نےسہےتھےاس کےبعد تو وہ اُس جگہ دوبارہ جانےکا تصور بھی نہیں کرسکتےتھے۔ اس کیمپ میں مقیم ہر فرد نےاپنا گھر ، زمین ، جائداد تو کھوئی تھی ‘ اپنےبال بچے، بیوی ، عزیز اور اقارب کو بھی کھویا تھا ۔
شوہر بچ گیا تو بیوی کو ہوس کا نشانہ بناکر زندہ جلا دیا گیا ۔
کوئی عورت بچ گئی تو اُس کی آنکھوں کےسامنےاُس کےشوہر، اُس کےبچوں کو ترشولوں سےچھید کر اور قتل کرکےدہکتی آگ میں ڈال دیا گیا ۔
بوڑھے، بچے، جوان کسی کو بھی نہیں بخشا گیا ۔
وہ اپنا کیا دفاع کرپاتے۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان پر ان کےگھروں ، محلوں پر ٹوٹ پڑےتھے۔ جیسےایک ساتھ ہزاروں وحشی درندےگلوں سےنکل آئےہوں ، کوئی بھی تو ان کی مدد کرنےوالا نہیں تھا ۔
انتظامیہ خاموش تماشائی بنی تماشہ دیکھ رہی تھی یا اپنی خاموشی کےہتھیار سےاپنی وحشیانہ حرکتیں جاری رکھنےاور بربریت کا اور زیادہ مظاہرہ کرنےکےلئےاُکسا رہی تھی۔
اب تک یہ ہوا تھا کہ جب کبھی اس طرح کےواقعات ہوتےتھےان کےپڑوسی ان کا ساتھ دیتےتھے۔ ان کی حفاظت کرتےتھےیا متوقع خطرےسےآگاہ کردیتےتھےتاکہ وہ خود کو اس ممکنہ خطرےکا مقابلہ کرنےکےلئےپوری طور پر تیّار کرلیں ۔
لیکن اس بار اس کےبالکل برخلاف ہوا تھا ۔
اس بار ان پر حملہ کرنےوالوں میں ان کےپڑوسی ، ان کےمحلےوالےپیش پیش تھے۔
حملہ آور دوسرےمحلوں یا شہر سےنہیں آئےتھے۔ اس کےبعد کیا کسی سےتوقع کی جاسکتی تھی ۔
جو کچھ لٹ گیا تھا اسےلٹا کر ، جو ختم ہوگیا اس پر صبر کرکےآنسو بہاتےوہ اس کیمپ میں آئےتھے
اس کیمپ میں پہونچنےوالا کوئی بھی فرد تندرست نہیں تھا ، ہر کوئی فساد اور فسادیوں کےدئےزخموں سےچور تھا ۔
اس کیمپ میں ان کےزخموں کا علاج کرنےکےلئےنہ تو کوئی معالج تھا نہ ہی دوائیں ۔
لیکن پھر بھی وہ مطمئن تھے۔
ایک دُوسرےکےزخموں کو پیارسےسہلادیتے، پھٹےکپڑوں کی پٹیاں باندھ دیتےیاباتوں کا مرہم رکھ دیتےتو زخموں سےاُٹھنےوالی درد کی ٹیس کچھ کم ہونےلگتی ۔
مہینوں ہوگئےتھے۔ نہ تو فساد رُکتا تھا اور نہ امن کی کرن کہیں سےپھوٹتی تھی ۔ ایک دو دِن سکون سےجاتےاور پھر کسی علاقےمیں فساد پھوٹ پڑتا اور پھر وہاں وہی واقعات دہرائےجاتےجو پورےفساد کےدوران دہرائےگئےتھے۔
وہ واپس اپنےگھروں کو جانےکی سوچتےبھی نہیں تھے۔
کرفیو چھوٹنےکےبعد کوئی جیالا جاکر اپنا گھر اور محلہ دیکھ آنےکی ہمت کرتا تو واپسی میں وہ اتنا ڈرا اور سہما ہوا ہوتا تھا کہ دوبارہ پھر وہاں جانےکا نام بھی نہیں لیتا تھا ۔
اپنےمحلےمیں قدم رکھتےہی ہزاروں آنکھیں اُنھیں گھورنےلگتیں ۔
ان آنکھوں میں نفرت ہوتی ‘ وہ اُسےدیکھ کر آپس میں زور زور سےباتیں کرتے
” یہ سالا حرامی کیسےبچ گیا ۔ “
” ہمارےترشولوں کا وار ذرا ہلکا تھا ، ہم نےغلطی کی اسےٹرین کی طرح جلانا چاہیئےتھا ۔ “
” دوبارہ واپس آیا ہے، دبوچ سالےکو ، بچ کر جانےنہ پائے، کسی کو پتا بھی نہیں چلےگا ۔ “
اس کےپاس پڑوس کےلوگ اُسےدیکھ کر اس سےایسی باتیں کرتےتھے۔ اسےدیکھ کر کوئی ہمدردی جتانےوالا یا ہمدردی کےدوبول بولنےوالا کوئی بھی نہیں تھا ۔
اس کےبعد تو وہ وہاں سےنکل کر اس ریلیف کیمپ میں پہونچ جانےمیں ہی عافیت سمجھتا ۔
اسےلگتا ، اگر وہ یہاں آیا تو اب کی بار بچ نہیں پائےگا ۔
قاتل ، وحشی ، خونی درندےآزاد ہیں ، اپنی درندگی پر وہ پشیمان نہیں ہے۔ ان کی درندگی کچھ اور بڑھ گئی ہے۔ وہ اسےدِن دھاڑےسرِ عام بھی ختم کرسکتےہیں ، اگر وہ دِن میں بچ بھی گیا تو رات کو ہزاروں وحشیوں کےحملےمیں تو بچ ہی نہیں سکتا ۔
اس لئےاپنےگھر جاکر کیا فائدہ ؟
اس کیمپ میں لاکھوں لوگ تھے۔ لُٹےہوئے، تباہ و برباد ، زخموں سےچور لوگ
لیکن یہاں ان کی جانوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا ۔
فسادی اور وحشی درندےیہاں پر ان پر حملہ نہیں کرسکتےتھے۔ کیونکہ یہاں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حملہ آوروں کی بڑی سےبڑی فوج کا وہ آسانی سےمقابلہ کرکےاپنی جانیں بچا سکتےہیں ۔
لیکن ان واقعات نےاُنھیں دہلا کر رکھ دیا تھا ۔
جس طرح کیمپ پر حملہ کرنےکی کوشش یا نعرےبازی ہوتی تھی ‘ اس سےاُنھیں محسوس ہونےلگا تھا ‘ وحشی فسادی اُنھیں یہاں بھی سکون سےرہنےدینا نہیں چاہتےہیں ۔
اور خود ان کا سردار ریاست کا سی ایم ایسےکیمپوں کو آبادی بڑھانےوالےکارخانےکہہ رہا تھا ۔
جس وزیر کےذمہ ان کی باز آباد کاری تھی وہ ان کی باز آباد ی کا کام تو نہیں کر رہا تھا ۔ یہاں جس ٹوٹی چھت کےنیچےوہ پناہ لئےہوئےتھےاُسی ٹوٹی چھت کو بھی ان کےسروں سےچھینّےکی کوشش کررہا تھا اور کہہ رہا تھا ۔
اتنےبڑےلوگوں کی جانوں کی حفاظت وہ نہیں کرسکتے، اِس طرح کےکیمپ امن کےلئےخطرہ ہیں ۔ اِس لئےان سےامن کی صورتِ حال بگڑ سکتی ہے۔ انہیں بند کردینےمیں ہی بھلائی ہے۔
اور ایک بار پھر بےامانی ، عدم تحفظ کا عفریت ان کو جکڑنےکےلئےاپنےبازو پھیلا رہا تھا ۔
پتہ:۔
ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی ۔بھیونڈی۔ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)

افسانہ سمینٹ میں دفن آدمی از:ا۔ایم مبین

اُس کےسامنےسمینٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا رکھا ہوا تھا اور اُس کےہاتھ میں سمینٹ توڑنےکی مشین ۔
اس سمینٹ کےٹکڑےمیں اُس کا دوست ، محسن ، کرم فرما دفن تھا ۔اور اُسےاِس سمینٹ کےٹکڑےکو توڑ کر اپنےاس دوست کی لاش نکالنی تھی ۔
سمینٹ کو ڈرل کرکےتوڑنےوالی مشین اس کےہاتھوں میں کانپ رہی تھی ۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ مشین کےزوردار جھٹکوں سےبھی اس کےہاتھ کانپےہوں ۔
جب وہ اپنےدونوں ہاتھوں میں ڈرل کرنےکی مشین پکڑ لیتا تھا اور اسےمضبوط سےمضبوط سمینٹ یا پتھر کےٹکڑےپر بھی رکھ دیتا تھا تو اس کی نوک اس سخت پتھر یا سمینٹ میں سوراخ کرتی جاتی تھی ۔ مشین کےجھٹکوں سےاس کےہاتھ نہیں کانپتےتھے۔ ہاں اس کےمضبوط بازوو¿ں کی مچھلیاں ضرور پھڑپھڑاتی تھیں ۔
جن کو اس کام کی سختی کا اندازہ تھا ، اسےکام کرتےدیکھ کر اس سےرشک کرتےتھے۔
” ماشا ءاللہ خدا نےکیسی طاقت سےنوازہ ہے، ہاتھوں میں رعشہ پڑنےکےبجائےپتھر اور سمینٹ میں رعشہ پڑجاتا ہے۔ “
لیکن آج اُس کےہاتھوں میں رعشہ پڑا ہوا تھا ۔
آنکھوں سےزار و قطار آنسو بہہ رہےتھے، قدرت نےاسےکتنی بڑی آزمائش میں ڈالا تھا ۔ اسےاس سمینٹ کےتودےسےاسلم کی لاش نکالنی تھی ۔
اسلم کی موت کی خبر سن کر وہ پاگلوں کی طرح رونےلگا تھا ۔ اُسےسمجھانےاور چپ کرانےمیں اس کنویں پرکام کرنےوالےاس کےساتھی اور دوستوں کو گھنٹوں لگ گئےتھے۔
” نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ، اسلم بھائی نہیں مرسکتے، یہ جھوٹ ہے۔“
وہ بار بار یہ کہتےدہاڑیں مار مار کر رونےلگتا تھا ۔
اور ہر بار اس کےساتھیوں کو اسلم کی موت کا سین دہرانا پڑتا تھا ۔
” آخر تم یقین کیوں نہیں کرتےہو کہ اسلم اب اس دُنیا میں نہیں ہے۔اسےایسی موت نصیب ہوئی ہےجس کےبارےمیں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ تیل کےکنویں کےلئےستون کا کام شروع ہوا تھا ، اس کی نگرانی اسلم ہی کر رہا تھا ۔ ہوا لگتےہی پتھر کی طرح سخت ہوجانےوالا سمینٹ سمندر کی تہہ میں ڈال کر اس تیل کےکنویں کا ستون بنایا جارہا تھا ۔ مشین کےذریعہ سمینٹ نئی تعمیر ہونےوالےستون پر گررہا تھا ، مشینیں اُسےمطلوبہ شکل دےرہی تھیں ۔ اسلم سمینٹ کےڈھیر میں سمینٹ کی مقدار کی جانچ کرر ہا تھا ۔ اس کےلئےوہ جھکا ہوا تھا ۔ اچانک اُس کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچےاس تعمیر ہونےوالےستون پر جاگرا اور اُسی وقت اُس پر کئی ٹن سمینٹ آکر گرا جو آن کی آن میں پتھر کی طرح سخت ہوگیا اور اسلم اس سمینٹ میں دفن ہوگیا ۔ بڑی مشکل سےاندازہ لگا کر سمینٹ کو اس ممکنہ حصےسےکاٹنےکا کام شروع کیا گیا ہےجہاں اسلم دفن ہے، اسلم کی موت میں کوئی دو رائےنہیں تھی ۔
اس کےگرنےکےبعد دُوسرےلمحےہی جس کسی نےاسلم کو سمینٹ میں دفن ہوتےدیکھا اس کی موت کا اعلان کردیا تھا ۔ کسی کو بھی اس کےبچنےکی کوئی امید نہیں تھی ۔ بھلا کچھ لمحوں میں ہی پتھر کی طرح سخت ہوجانےوالےسمینٹ کی قبر میں بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟
لیکن وہ تھا کہ مانتا ہی نہیں تھا کہ اسلم اب اس دُنیا میں نہیں ہے۔
بڑی مشکل سےبڑی بڑی مشینوں سےاِس حصےکو کاٹ کر نکالا گیا جس میں اسلم دفن تھا ۔
اور اس سمینٹ کےتودےکو توڑ کر اسلم کی لاش نکالنےکا حکم بھی وہ کام کرنےوالوں کو دےدیا ۔
اس وقت وہ اس سمینٹ کےٹکڑےکےسامنےکھڑا اسےگھور رہا تھا اور اندازہ لگانےکی کوشش کررہا تھا کہ اس سمینٹ کےتودےمیں اسلم کہاں دفن ہوگا ۔
چار پانچ مزدور ہاتھوں میں سمینٹ میں ڈرل کرنےوالی مشینیں لےکر آگےبڑھےتاکہ اس سمینٹ کو توڑ کر اندر سےاسلم کی لاش نکالی جائے۔
اس منظر کو دیکھ کر وہ کانپ اُٹھا ۔
اسےایسا محسوس ہوا جیسےڈرل مشینیں اسلم کو سمینٹ کی قبر سےباہر نکالنےکی کوشش میں اس کےجسم کےآرپار گذر کر اُسےچھلنی کر رہی ہے۔
” نہیں ‘ نہیں ! رُک جاو¿ ۔ اپنےدوست کو میں اس سمینٹ کی قبر کےباہر نکالوں گا ۔ “ وہ چیخا ۔
سپروائزر نےاس کی بات سن کر آنکھوں ہی آنکھوں میں ان مزدوروں کو اشارہ کیا ۔ وہ سب اس اشارےکو سمجھ کر اپنی اپنی مشینیں لےکر پیچھےہٹ گئے۔
” جاوید ! مجھےتم سےہمدردی ہے۔ “ سپروائزر کا شفیق ہاتھ اسےاپنےکاندھےپر محسوس ہوا ۔ ”مجھےپتا ہےاسلم تمہیں کتنا چاہتا تھا اور تم اسےکتنا چاہتےتھے، ٹھیک ہے! تم اکیلےہی اپنےطور پر اپنےدوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سےکھود کر باہر نکالو ۔ “
اور اب اسےاپنےدوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سےکھود کر نکالنی تھی ۔
اس کےہاتھ میں ڈرل کرکےسمینٹ کو توڑنےوالی مشین بھی تھی ۔
لیکن اب تک اپنا کام شروع بھی نہیں کرپایا تھا ۔
وہ اس سمینٹ کےٹکڑےکےجس حصےپر اپنی مشین رکھتا ‘ اسےمحسوس ہوتا جیسےاس حصےمیں اس جگہ اسلم کےجسم کا کوئی حصہ دبا ہے۔ اگر اس جگہ کو اس نےڈرل مشین کےذریعہ توڑنےکی کوشش کی تو ممکن ہےاسلم کےجسم کےاس حصےکو بھی نقصان پہونچےجو اس جگہ دفن ہے۔
اور وہ ڈر کر اس جگہ سےاپنی مشین ہٹا لیتا تھا اور ابھی تک اپنا کام بھی شروع نہیں کرپایا تھا ۔
جب بھی وہ مشین سمینٹ کےتودےپر رکھتا اس کےہاتھ اور ہاتھوں کی مشین کانپنےلگتی ، ایسا محسوس ہوتا جیسےسمینٹ کےنیچےدبا اسلم اسےمسکرا کر دیکھ رہا ہے۔
” شروع کرو ‘ جاوید ! جیتےجی تو میرےجسم پر ہلکی سی خراش بھی آجاتی تھی تو تم تڑپ اُٹھتےتھے۔ اب شاید میرےمقدر میں میرےجسم کو تمہارےہاتھوں ہی چھلنی ہونا ہے۔ “
وہ گھبرا کر مشین پھینک دیتا اور اپنےدونوں ہاتھوں سےاپنا منہ چھپا کر زار و قطار رونےلگتا ۔
اسلم کےگھر اس کی موت کی خبر دی جاچکی تھی ۔ ان سےکہا گیا تھا کہ اسلم کی لاش ایک دو دِن میں روانہ کردی جائےگی ۔
اور وہ اسلم کےگھر کےماحول کا تصور کرکےکانپ اُٹھ رہا تھا ۔
دو مہینےبعد اسلم واپس اپنےوطن ، اپنےگھر جانےوالا تھا ۔
اس کےگھر والےاس کےآنےکی اُمید لگائےہوئےہوں گے۔ اُنھوں نےخواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس بار اُن کےپاس اسلم نہیں اسلم کی لاش آئےگی ۔
کیا بیتےگی اُن کےدِل پر اسلم کی لاش دیکھ کر ؟
اُنھیں ایسا محسوس ہوگا جیسےوہ اسلم کو قبر میں دفن نہیں کریں گے، اپنی ساری خواہشیں ، ارمانوں کو قبر میں دفن کریں گے۔
اس سال اسلم کو کتنےکام کرنےتھے۔
اپنا گھر بنانا تھا ، بڑی بیٹی کی شادی کرنی تھی ، چھوٹی بیٹی کےلئےکوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈنا تھا ، لڑکےکو کسی اچھےتعلیمی ادارےمیں اعلیٰ تعلیم کےلئےداخل کرنا تھا ۔
بیمار ماں کا علاج کرنا تھا ، اپاہج بھائی کےبچوں کو روزی ، روٹی کےلئےایک دوکان ڈال کر دینی تھی ۔
ہر بار جاوید دو سال تک اِس سمندر کےدرمیان رہ کر ، سمندر کی مرطوب ہوا میں اپنےخون کا پسینہ بناکر ، بہا کر جو پیسےجمع کرتا اور ان جمع پیسوں کےسہارےجو خواب سجاتا ہے، ان پیسوں اور خوابوں کو لےکر جب وطن جاتا ہےتو سارےخواب ٹوٹ کر بکھر جاتےہیں اور سارےپیسےختم ہوجاتےہیں ، کسی بھی خواب کی تعبیر حاصل نہیں کرپاتا ہے۔
کیونکہ گھر جانےکےبعد وہاں پر دُوسرےہی کئی انجانےمسائل اژدھےکی طرح منہ پھاڑےکھڑےہوتےہیں ، وہ جیسےہی وہاں پہونچتا ‘ وہ اُس کی طرف لپکتےہیں اور سارا پیسہ نگل جاتےہیں ، خواب حسرت سےاُنھیں دیکھتےرہ جاتےہیں ، اپنےخوابوں کو تسلّی دیتا کہ انشاءاللہ آئندہ سال اُن کی تعبیر ضرور کرےگا ۔ گذشتہ دس سالوں سےیہی ہورہا تھا ۔
وہ دس سال قبل وہاں آیا تھا ۔ بلڈنگوں کو تعمیر کرکےان پر پلاسٹر لگانےکا کام کرتا تھا ۔
ایک دِن کمپنی نےاُسےکچھ دِنوں کےلئےسمندرمیں تعمیر ہونےوالےتیل کےکنوو¿ں کی تعمیر کےکام کےلئےبھیج دیا ۔
یہ کام بلڈنگوں کی تعمیر سےزیادہ خطرناک تھا ۔
لوگ اِس کام میں ہاتھ ڈالنےسےہی گھبراتےتھے۔
لیکن تین چار دِن وہاں کام کرنےکےبعد اسلم کو محسوس ہوا ، وہاں کام کرنےمیں خطرہ ضرور ہےلیکن آدمی چوکنا رہےتو یہ خطروں بھرا کام بھی آسان ہوسکتا ہے۔
وہاں جس سپروائزر کےماتحت وہ کام کررہا تھا وہ بھی اُس کےکام سےمتاثر ہوا اور اُس نےخود پیش کش کی ۔
” اسلم اگر تم چاہو تو میں تمہارےلئےکام کی سفارش کرسکتا ہوں ۔ ان دو تین دِنوں میں تم اچھی طرح سمجھ چکےہو گے، یہاں کیا کام ہوتا ہےاوروہ تم کرسکتےہو یا نہیں ، اگر تم چاہو تو یہاں کام کرکےتم دوگنا پیسہ کما سکتےہو اور یہاں پر تمہیں سہولیات بھی بہت سی ملیں گی ۔ “
وہ وہاں کام کرنےکےلئےراضی ہوگیا ۔
اسےتیل کےکنووں میں کام کرنےپر معمور کردیا گیا ۔
سمندر کی گہرائی سےبڑےبڑےستون باندھ کر سطح سمندر کےاوپر تک لائےجاتےتھے، اس پر ایک بڑا سا پلیٹ فارم تیار کیا جاتا تھا اور اسی پلیٹ فارم پر ساری دُنیا ہوتی تھی ۔
سمندر سےتیل نکالنےکی بڑی بڑی مشینیں ، تیل صاف کرنےکی مشینیں اور اس کےلئےوہاں کام کرنےوالےسیکڑوں ، ہزاروں افرادوں کےکوارٹرس
کام دِن رات چلتا رہتا تھا ۔
کام کرنےوالےدو شفٹوں میں کام کرتےتھے، کبھی دِن کی شفٹ میں تو کبھی رات کی شفٹ میں ۔ کام ختم ہونےکےبعد ان کےپاس اپنےکوارٹروں میں جاکر سونےکےعلاوہ کوئی کام نہیںہوتا تھا ۔ کیونکہ وہ دِل بہلانےکےلئےکہیں جا نہیں سکتےتھے، چاروں طرف سمندر تھا ، زیادہ سےزیادہ وہ آپس میں انڈور گیم کھیل کر ، پسندیدہ موسیقی سن کر یا ٹی وی پروگرام دیکھ کر دِل بہلاسکتےتھے۔
ہفتےمیں ایک دِن اُنھیں اِس تیل کےکنویں سےدُور زمین پر لےجایا جاتا تھا ۔ اِس طرح وہ ایک دِن اس سمندر سےدُور گذارتےتھے۔
اپنےپسند اور ضروریات کی چیزیں خریدتے، اپنےرشتےداروں کو فون کرتےیا خطوط پوسٹ کرتےتھے۔
اور شام کو واپس تیل کےکنویں پر آجاتےتھے۔
جب تیل کا کنواں پوری طرح تعمیر ہوجاتا تھا تو پھر نئےکنویں کی تعمیر کےلئےاُنھیں نئی جگہ جانا پڑتا تھا ۔
تعمیر کا کام برسوں چلتا تھا ، کبھی کبھی دو تین سالوں میں بھی اس کی تعمیر کا کام مکمل نہیں ہوپاتا تھا ۔
نئی جگہ جانےکےبعد بھی اُنھیں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی تھی ۔ کیونکہ ان کےلئےتو ماحول ایک جیسا ہی رہتا تھا ۔
چاروں طرف سمندر اور اس کےدرمیان ایک پلیٹ فارم پر کسی چھوٹےسےجزیرےپر آباد وہ
اُسےوہاں آئےصرف دو سال ہوئےتھے۔ اسےآتےہی اسلم کی ماتحتی میں کام کرنا پڑا تھا ۔
دو تین دِنوں میں ہی وہ ایک دوسرےسےکافی گھل مل گئےتھے۔ کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی ریاست اور ایک ہی ضلع سےتھا ۔
ایک ہی مقام کےہونےکی وجہ سےدِلوں میں فطری طور پر اُنسیت خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔ ان دوسالوں میں اسلم نےاپنےگذشتہ دس سالوں کی زندگی کا ایک ایک پل کھول کر رکھ دیا تھا ۔
وہ وہاں غریب الوطنی کی اسلم کی دس سالہ زندگی سےاچھی طرح واقف ہوگیا تھا ، وہ اسلم کےگھر ، اُس کےافراد ، کےخاندان والوں سےبھی بالکل اسی طرح واقف ہوگیا تھا جیسےوہ اُن کا کبھی ایک جزو رہا ہو ۔
ان دس سالوں میں اسلم ایک معمولی میسن سےترقی کرکےسپروائزر بن گیا تھا ۔
اب تیل کےکنووں کی تعمیر میں اس کےتجربات کےنیک مشورےبھی شامل ہوتےتھے۔ کمپنی کےاعلیٰ افسران اپنےانجنیئروں کو اسلم کےمشورو ں پر غور کرنےکی ہدایت دیتےتھے۔
وہ ان پڑھ اور جاہل آدمی تھا ۔ لیکن گذشتہ دس سالوں میں سمندر میں تیل کےکنووں کی تعمیر کےسلسلےمیں اتنا تجربہ حاصل ہوگیا تھا کہ وہ خود کسی بڑےسےبڑےانجنیئر سےبڑھ کر پلان بنا سکتا تھا ۔
وہ وہاں پر ایک معمولی ویلڈر کےطور پر آیا تھا ۔ تیل کےتعمیر ہونےوالےکنووں پر لوہےکو کاٹنےاور جوڑنےکا ہی زیادہ کام ہوتا تھا لیکن اسلم نےاسےمشورہ دیا تھا ۔
” تم صرف اِس کام میں مت لگےرہو ، اور بھی دُوسرےکام سیکھ لو ‘ یہ تمہارےکام آئیں گے۔ “
اور وہ تقریباً سارےکام سیکھ گیا تھا ‘ سچ مچ وہ کام اُ س کےلئےبڑےمفید ثابت ہوئےتھے۔
اسےہر کام آتا ہے‘ آفیسروں کو جو اُس کا پتہ چلا تھا تو اس کےلئےاُن کےدِل میں اس کی عزت بھی بڑھ گئی تھی ۔
اسلم ہر دو سال میں ایک بار دو مہینےکےلئےاپنےگھر جاتا تھا ۔
اور ہر سال وہ کوئی نہ کوئی بڑا کام کرکےآتا تھا ، بڑا کام اور کیا ہوسکتا تھا ، گھر کی تعمیر ، کسی کھیت کا سودا یا پھر شادی بیاہ ۔ پہلےدو سال میں اس نےاپنےبہن بھائیوں کی شادیاں کیں ، اس کےبعد رشتہ داروں کی اور اس بار اسےاپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی ۔
اسلم گھر جانےکی تیاریاں کررہا تھا ۔
” جاوید مجھےبہت دُکھ ہوتا ہےکہ اس بار جب میں وطن جاکر واپس آجاو¿ں گا تب تم وطن جاو¿گے، میری دِلی تمنا تھی کہ اس بار ہم ساتھ وطن جاتےتو تمہیں آٹھ دس دِن اپنےگھر میں رکھتا ۔ “
” اسلم بھائی ! آپ اپنا دِل چھوٹا کیوں کررہےہیں ؟ اطمینان رکھئے۔ وطن واپس جانےکےبعد میں آپ کےگھر ضرور جاو¿ں گا ۔ “ لیکن پھر بھی اسلم کو اطمینان نہیں ہوپاتا تھا ۔
اس کا ارمان تھا کہ وہ اس کی بیٹی کی شادی میں شریک ہو۔ اُس کےگھر میں اس کی بیٹی کی شادی کی تیّاریاں چل رہی ہوگی ۔ اس کےاستقبال کی تیّاریاں ہورہی ہوں گی ۔
اور وہ ایک خواب کی طرح بکھر کر سمینٹ کےنیچےدفن ہوگیا تھا ۔ اسےاسلم کو سمینٹ کےنیچےسےنکالنا تھا ۔
تاکہ اس کی لاش اس کےلواحقین کو وطن روانہ کی جاسکےاور وہ اُس کی تدفین کرسکے۔ ٭٭٭



افسانہ قربتیں فاصلی از:۔ایم مبین

کمپیوٹر اسٹارٹ کرکےاُس نےانٹر نیٹ کا کنکشن شروع کیا ۔
خلاف معمول کنکشن جلد مل گیا ۔ ورنہ اِس وقت کنکشن ملنےمیں کافی دِقّت پیش آتی تھی ۔ کنکشن ملنےکےبعد اس نےمانیٹر پر لگا چھوٹا ساویب کیمرہ درست کیا ۔
کیمرےمیں نظر آنےوالا اپنا عکس اُس نےزاویےسےصحیح کیا ، جب اُسےپورا اطمینان ہوگیا کہ کیمرہ اس کی تصویریں صحیح زاویےسےلےرہا ہےتو اُس نےاپنی پسندیدہ ویب سائٹ اوین کی اور اُس میں چیٹنگ کےآپشن پر کلک کیا ۔
مونیٹر پر سیکڑوں نام اور اُن کےدرمیان چلنےوالی گپ شپ کےنتائج اُبھرنےلگے، اُس نے میسنجر پروگرام میں اپنےساتھی کا نام لکھ کر تلاش کیا ۔
معمول کےمطابق اس سائٹ پر اس کا شوہر جاوید موجود تھا ۔ اس نےجاوید کےنام پر کلک کرکےاُسےخصوصی چیٹ روم میں آنےکی دعوت دی ۔
سامنےمونیٹر پر جاوید کا مسکراتا ہوا چہرا اُبھرا ، کانوں میں لگےمائیکروفون میں اُس کی شوخ آواز گونجنےلگی ۔
” ہائے! بڑی دیر کی مہرباں آتےآتے؟ “
” نہیں تو میں نےتو معمول کےوقت کےمطابق کمپیوٹر آن کیا ہے، لگتا ہےآج آپ زیادہ فری تھےجو “
” ہاں آج آفس کا کام جلد ختم ہوگیا تھا اِس لئےنیٹ پر بیٹھ کر تمہارا انتظار کرنےلگا ۔ “
” میرا انتظار کرنےلگےیا پھر کسی اور کےساتھ چیٹ کرنےلگے؟ “ اُس نےمسکرا کر پوچھا ۔
” جب اتنی اچھی اپنےگھر والی چیٹ chatکرنےکےلئےساتھ ہوتو پھر دُوسروں کےپیچھےوقت برباد کرنےسےکیا فائدہ ؟ “
” رات میں تو آپ کےپاس وقت ہی وقت ہوتا ہےنا ؟ میں تو ایک دو گھنٹےہی آپ کےساتھ ہوتی ہوں میرےآف لائن ہونےکےبعد ؟ “
” تمہارےآف لائن ہوتےہی گھنٹوں تک ذہن کےپردےپر تمہارا مسکراتا ہوا چہرہ رقص کرتا رہتا ہے، کانوں میں تمہاری سُریلی آواز گونجتی رہتی ہے۔ میں اسی کےتصور میں کھویا رہتا ہوں اور کب نیند آجاتی ہےپتا ہی نہیں چلتا ہےاور کبھی کبھی تو میں ہماری ساری گفتگو ریکارڈ کرلیتا ہوں اور پھر آف لائن گھنٹوں اسےدیکھتا رہتا ہوں ۔ “
” بہت یاد آتی ہے؟ “ شوہر کی بات سُن کر وہ کچھ جذباتی سی ہوگئی ۔
” روزانہ تو ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اس لئےیہ تو کہا نہیں جاسکتا کہ بہت یاد آتی ہےلیکن وہ جو قربت کی چاہ ہےنا کبھی کبھی بےچین کردیتی ہے۔ “ جاوید نےجوا ب دیا ۔
اس کےبعد باتوں کا سلسلہ چل پڑا ۔
ہزاروں طرح کی باتیں تھیں ۔
جاوید نےپہلےبچوں کےبارےمیں پوچھا ۔ اس نےبچوں کی دِن بھر کی سرگرمیوں کی رپورٹ دی ۔ اس کےبعد آس پاس پڑوسیوں کی باتیں ، ملک کےحالات وغیرہ پر گفتگو ۔
یہ روز کا معمول تھا ۔
وہ روزانہ ایک دو گھنٹےانٹرنیٹ پر بیٹھ کر باتیں ضرور کرتےتھے۔ باتیں کرتےہوئےاُسےمحسوس ہوتا تھا جیسےوہ بالکل اُس کےقریب ہے‘ اُس سےہزاروں میل دور نہیں ہے۔
اُس کا چہرہ جاوید کو اپنےکمپیوٹر کےمانیٹر پر دِکھائی دیتا تھا ، مائیک کےذریعہ اُس کی آواز جاوید کےہیڈ فون تک پہونچتی تھی اور اس کےہیڈ فون سےجاوید کی آواز اُس کےکانوں میں اترتی ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہےجیسےوہ پلنگ پر لیٹےایک دُوسرےسےباتیں کر رہےہیں ۔
فرقت کا احساس جو برسوں تک کچوکےدیتا تھا یک بہ یک ختم سا ہوجاتا تھا ۔
زمانہ کس تیزی سےبدلا اور حالات بھی کتنےبدل گئے۔ سوچیں تو حیرت ہوتی ہے۔
جاوید دس سالوں سےگلف میں ہے۔
دو سال میں ایک بار دو مہینےکےلئےآتا ہےاور اس کےبعد پھر پورےدو سالوں کی جدائی ۔
شادی ہونےکےبعد دونوں کو ساتھ ساتھ رہنےکا زیادہ موقع نہیں مل سکا تھا ۔ جب اُس کا جاوید کےساتھ رشتہ طےہوا تھا اس وقت اس نےجاوید کو دیکھا بھی نہیں تھا ۔ جاوید اس وقت گلف میں تھا ‘ دو مہینےکےلئےوطن واپس آنےوالا تھا ۔ اُس کےماں باپ جاوید کےلئےکسی اچھی لڑکی کی تلاش میں تھے۔ جاوید کےآتےہی آٹھ دس دِنوں میں اُس کی شادی کرنی تھی ۔
شادی کےبعد چھٹیوں میں وہ دو ماہ وطن میں رہ کر واپس گلف جانا چاہتا تھا ۔
کسی نےاُنھیں اس بارےمیں بتایا کہ وہ اس کےگھر رشتہ لےکر آئے۔ اس کےامی ابا کو بھی اس کےلئےجاوید سےمناسب کوئی اور لڑکا نظر نہیں آیا ۔
اِس لئےفوراً رشتہ طےہوگیا ۔
نہ تو اس نےجاوید کو دیکھا اور نہ جاوید نےاس کو ۔
اس نےصرف جاوید کی تصویر دیکھی تھی اور جاوید نےبھی صرف اس کی تصویر دیکھی تھی ۔
چھٹیوں میں جاوید آیا اور آٹھ دِن بعد ان کی شادی ہوگئی ۔
شادی سےپہلےجاوید کےبارےمیں کئی وسوسےاس کےذہن میں تھے۔
اس نےنہ تو جاوید کےبارےمیں کسی سےسنا تھا نہ کبھی دیکھا تھا ۔ پتا نہیں کس طرح کےمزاج کا ہوگا ، اسےپسند کرےگا بھی یا نہیں ؟ ماں باپ نےتو زندگی بھر کا رشتہ باندھ دیا لیکن یہ رشتہ نبھ پائےگا یا نہیں ؟ یہ طےہوا ہےکہ جب تک جاوید پوری طرح سیٹل نہیں ہوجاتا گلف میں نوکری کرتا رہےگا ۔ دوسال بعد دو مہینےکےلئےآتا رہے گا ۔
تو اس کا مطلب ہےاس کا شوہر اسےدوسالوں میں صرف دو ماہ کےلئےملےگا ۔ باقی کے٢٢ مہینےاسےاکیلےرہنا پڑےگا ‘ کیا وہ اکیلی رہ پائےگی ؟
اکیلی رہنےکی کوئی بات نہیں تھی ۔ اس کی سہیلیاں اسےسمجھاتی تھیں ۔ تو ٢٢ مہینےسمجھ لےکہ تیری شادی ہی نہیں ہوئی ہے، وقت اسی طرح گذرےگا جس طرح فی الحال گذر رہا ہے۔
لیکن وہ ذہنی طور پر اس کےلئےبھی تیّار نہیں تھی ۔ اس وقت وہ نئےلوگ نئےرشتے۔ کیا وہ وہاں رہ پائےگی ؟
لیکن شادی کےکچھ دِنوں بعد ہی اس کےسارےخدشات اور وسوسےبےبنیاد ثابت ہوئے
اس نےجاوید میں ایسا کچھ بھی نہیں پایا جن خدشات کےبارےمیں وہ سوچتی رہی تھی اور سسرال میں تو اُسےاپنےگھر سےاچھا ماحول ملا ۔ وہاںاسےاپنےگھر سےزیادہ آزادی محسوس ہوئی ۔
شادی کےبعد وہ ایک ماہ تک ہنی مون کےسلسلےمیں سارےہندوستان کی سیر کرتےرہے۔ ٥١ دِنوں تک رشتہ داروں کی دعوتیں اُڑاتےرہےاور ٥١ دِنوں تک گھر میں رہے۔
دو ماہ بعد جاوید واپس چلا گیا ۔
جاوید کےجانےکےبعد اُسےمحسوس ہونےلگا جیسےاُسےکسی محل سےنکال کر قید خانےمیں قید کردیا گیا ہے۔
وہی گھر تھا جہاں وہ رہتی تھی ، وہی لوگ تھےجن کےدرمیان وہ رہتی تھی ۔لیکن ایک جاوید کےنہ ہونےکی وجہ سےاس ماحول میںکتنی زبردست تبدیلی آگئی تھی ۔
اُسےلگتا تھا اس کی زندگی کا بہت کچھ اس سےچھین لیا گیا ہے۔ دو مہینےمیں اسےلگتا تھا جسےاسےساری دُنیا کی خوشیاں مل گئی ہیں ۔ لیکن دو ماہ بعد اس سےجیسےاس کی ایک ایک خوشی چھینی جارہی ہے۔ گھنٹوں وہ تنہائی میں بیٹھ کر اِن باتوں کےبارےمیں سوچ سوچ کر آنسو بہاتی رہتی تھی ۔
اس کی سہیلیاں آکر اسےسمجھاتی تھیں لیکن پھر بھی اس کا دِل بہل نہیں پاتا تھا ۔
گلف جانےکے٠١ دِنوں بعد جاوید کا خط آیا ۔
خط اِتنا جذباتی تھا کہ اسےپڑھ کر اُس کا دِل بھر آیا اور ایک نیا احساس اسےکچھ کہنےلگا کہ جو حالت اُس کی ہے‘ جاوید کی بھی وہی حالت ہے۔ جواب میں اُس نےبھی جاوید کو خط لکھا وہ جاوید کےخط سےبھی زیادہ جذباتی تھا ۔
کیونکہ اُس کےجواب میں جاوید نےبھی اِسی طرح کا جذباتی خط لکھا تھا ۔
دو سالوں تک خطوط کا سلسلہ چلتا رہا ۔
اِس دوران وہ ایک بچےکی ماں بن گئی ۔ اعراف کےآجانےسےاس کی تنہائی کچھ کم ہوئی تھی ۔ کیونکہ سارا وقت اس کی دیکھ بھال میں گذرتا تھا ۔ لیکن رات میں جاوید کی یاد نہ آئےایسا ہو نہیں سکتا تھا ۔ رات بھر وہ بستر پر کروٹیں بدلتی تھی ۔ اُسےپتا تھا ہزاروں میل دُور جاوید بھی اِسی طرح کروٹیں بدلتا ہےکیونکہ اس کےخطوط سےیہ صاف پتا چلتا ہے۔
دونوں کےدرمیان ہزاروں میل کےفاصلےہیں ۔
دو مہینےکےلئےجاوید چھٹیوں میں واپس وطن آیا تو وہ فاصلےپھر سمٹ کر قربتوں میں تبدیل ہوگئے۔
لیکن وہ قربتیں صرف دو مہینےکی تھیں۔
اور پھر درمیان میں ٢٢ مہینوں کےفاصلےحائل ہوگئے۔
دونوں کےدرمیان خط و کتابت ہی ایک دُوسرےکا حال احوال جاننےکا واحد ذریعہ تھا ۔
٠١ ، ٥١ دِنوں میں جاوید کا خط آتا تھا ۔ جواب لکھنےکےبعد جاوید کےجواب کا انتظار رہتا تھا
روزانہ نگاہیں گلی میں ڈاک تقسیم کرتےپوسٹ مین پر لگی رہتی تھی ۔ اُس کو دیکھتےہی دِل دھڑک اُٹھتا تھا اور دِل میں اُس کی ایک لہر دوڑ اُٹھتی تھی ۔ شاید وہ جاوید کا کوئی پیغام لےآئے۔ لیکن وہ روزانہ پیغام لانےسےتو رہا ۔ جاوید کےخطوط تو ٠١ ، ٥١ دِنوں میں ہی آتےتھے۔
جاوید کےآنےکی تاریخ کا پتا چلتےہی دِل کی حالت عجیب پاگلوں سی ہوجاتی تھی ۔
ایک ایک لمحہ انتظا ر اور منصوبہ بندی میں گذرتا تھا ۔
مہینےدو مہینےکا ایک ایک لمحہ کا پورا شیڈول تیّار کرلیا جائےکہ کب کیا کرنا ہےتاکہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو اور کام ادھورا نہ رہ جائے۔
دو مہینہ کےلئےجاوید آتا تو یہ بات ضرور زیر بحث آتی کہ وہ واپس نہ جائے۔
لیکن جاوید کا جواب ہوتا ۔
”ثوبی میں خود واپس جانا نہیں چاہتا ہوں ۔ لیکن یہاں رہ کر کیا کروں گا؟ مجھےیہاں ہزار دو ہزار روپیہ کی نوکری ملنی مشکل ہےیا کسی کام سےبھی اتنی آمدنی مشکل ہے‘ اس میں تو زندگی گذر نہیں سکتی ۔ میں چاہتا ہوں کہ وہاں کام کرکےاتنا پیسہ جمع کرلوں کہ پھر ہم ساری زندگی آرام سےاس کےسہارےگذار دیں پھر ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو ۔ “
وہ کہتی ‘ وہ جتنا لاکر دےگا اُسی میں گذارا کرلےگی لیکن واپس نہ جائے۔ تو اُسےسمجھاتا کہ اس طرح زندگی نہیں گذر سکتی ۔ ان کےسامنےپوری زندگی ہے، اپنےبچوں کا مستقبل ہے۔
اسےہتھیار ڈالنےپڑتےاور جاوید واپس چلا جاتا ۔
پھر وہی فاصلے، وہی خطوط کےذریعہ فاصلوں کو کم کرنےکی ناکام سعی ۔
کچھ دِنوں بعد پڑوس میں فون آگیا تھا تو یہ آسانی ہوگئی تھی کہ جاوید دو تین مہینےمیں ایک آدھ بار فون کرلیتا تھا ۔ یا وہی کبھی کبھی جاوید سےفون پر بات کرلیتی تھی ۔
لیکن فون کا بل اتنا آتا تھا ۔ زیادہ دیر اور بار بار باتیں کرنا ممکن نہیں تھا ۔
لیکن اس وجہ سےیہ آسانی تو ہوگئی تھی کہ کم سےکم اُنھیں ایک دُوسرےکی شناسا آواز تو سنائی دیتی تھی ۔
اس کےبعد جاوید آکر گیاتو سفینہ آگئی ۔
اب اسے دو دو بچوں پر دھیان دینا پڑتا تھا ۔ اس لئےجاوید کی یادوں کےلئےوقت کم ملتا تھا ۔
اس دوران اُنھوں نےاپنےگھر میں فون لگا لیا ۔
اب جاوید کےفون کےلئےاُسےپڑوسی کےگھر جانا نہیں پڑتا تھا ۔ گھر میں ہی اطمینان سےبیٹھ کر جاوید سےباتیں کرلیتی تھی ۔ یا اگر دِل میں آتا اور اسےمحسوس ہوتا تو جاوید اس وقت مل سکتا ہےتو جاوید کو خود ہی فون کرلیتی ۔ اب خطوط کا تبادلہ کچھ کم ہوگیا تھا ۔
کبھی کبھار وہ ایک دُوسرےکو خط لکھتےتھے۔ ایسی باتیں جو ٹیلی فون پر نہیں ہوپاتی یا پھر ٹیلی فون بند ہونےکی وجہ سےرابطہ نہیں ہوسکا تو خطوط کےذریعہ آدھی ملاقات کی پرانی رسم نبھائی جاتی ۔
اب کی بار جاوید آکر گیا تو ملاقات کا ایک اور ذریعہ وجود میں آگیاتھا ۔
وہ اسےایک سائبر کیفےلےگیا اور اسےای میل کرنا اور چیٹنگ کرنا سکھا گیا ۔
اب ان کی باتیں فون کےساتھ ساتھ ای میل پر بھی ہونےلگی ۔ جاوید بچوں کی تصویریں مانگتا تو وہ تصویر کو اسکین کرکےای میل سےاسےبھیج دیتی ۔ جاوید اپنی تازہ تصویریں ای میل سےاسےروانہ کردیتا تھا ۔
کبھی جاوید ای میل سےاطلاع دےدیتا کہ وہ کس وقت چیٹنگ کی ویب سائٹ پر آن لائن ہوگا ۔
اس وقت کسی سائبر کیفےمیں جاکر وہ سائٹ کھولتی ، جاوید آن لائن ہوتا تو پھر گفتگو شروع ہوجاتی ۔ اور اس گفتگو میں گھنٹوں گذر جاتے۔
وہ ای میل چیک کرنےکےلئےاور جاوید سےچیٹنگ کرنےکےلئےہفتےمیں دو تین بار سائبر کیفےمیں جاتی تھی ۔ اب ٹیلی فون کا اتنا استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ کیونکہ انٹرنیٹ سب سےآسان اور سستا ذریعہ تھا ۔
اس بار جاوید واپس گلف گیا تو اسےکمپیوٹر کا تحفہ دےگیا ۔ کمپیوٹر تمام جدید آلات اور سہولیات سےلیس تھا ۔ اب اسےچیٹنگ میں کی بورڈ سےٹائپ نہیں کرنا پڑتا تھا ۔ مونیٹر پر لگےکیمرےسےاس کی تصویر جاوید کو دِکھائی دیتی تھی ۔ جاوید کی تصویر اُس کےمونیٹر پر اُبھرتی تھی ۔ مائیک کےذریعہ اُس کی آواز جاوید کےکانوں تک پہونچتی تھی اور جاوید کی آواز اُس کےکانوں تک ۔
جب وہ آن لائن ہوتےتو ایسا محسوس ہوتا ۔ سارےفاصلےسمٹ گئےہیں یا فاصلےسمٹ کر قربتوں میں تبدیل ہوگئےہیں ۔
روزانہ کا ایک معمول بن گیا ہے۔
روزانہ وہ ایک دو گھنٹہ انٹرنیٹ کےذریعہ ملاقات کرلیتےہیں ۔ اس طرح اُنھیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایک دُوسرےسےہزاروں میل دور ہیں اور کئی سالوں سےنہیں ملےہیں۔ اسےپتا ہوتا جاوید نےآج کون سا کپڑاپہنا ہے۔ ، آج کیا کھایا ہے۔ تو جاوید کو علم ہوتا تھا کہ آج گھر میں کیا پکا ہے، بچےکب اسکول گئےاور اُنھوں نےآج کیا کیا شرارتیں کیں ۔
اس دِن بھی معمول کےمطابق گفتگوہوتی رہی ۔
باتوں میں جاوید نےکہا ۔
” میری چھٹیوں کےدِن نزدیک آرہےہیں ۔ کمپنی والےکہتےہیں اگر اِس بار میں نےچھٹیاں نہیں لی تو کام کی دوگنا تنخواہ دیں گے۔ دوگنا تنخواہ اور آنےجانےکا خرچ بھی بچےگا ۔ لاکھوں کی بچت ہوسکتی ہے کہو کیا ارادہ ہے؟ “
” اگر لاکھوں کی بچت ہوسکتی ہےتو آپ اِس بار مت آئیے۔ “ اُس کےمنہ سےبےساختہ نکلا ، ویسےبھی یہاں اب کچھ نہیں جو آپ یہاں آکر جاننا اور دیکھنا چاہتےہیں ۔ روزانہ ایک دُوسرےکےحالات کا پتہ تو چل ہی جاتا ہے۔ “
” ہاں ‘ میں بھی سوچتا ہوں اِس بار وطن نہیں آو¿ں۔ “ جاوید نےجواب دیا ۔ کمپیوٹر بند کرکےجب اُس نےاپنےجواب پر غور کیا تو سوچ میں پڑگئی ۔
کہاں وہ جاوید کےآنےکےلئےایک ایک لمحہ گنتی تھی ۔ کہ کب یہ فاصلےسمٹے۔
اور آج خود کہہ رہی ہےآنےکی ضرورت نہیں ہے۔
کیونکہ
فاصلےقُربتیں بن گئےہیں ‘ قُربتوں میں بھی فاصلوں کا احساس جاتا رہا ہے۔


٭٭٭
پتہ:۔

ایم مبین
٣٠٣،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی۔۔٢٠ ٣١٢٤
ضلع تھانہ(مہاراشٹر)